Ahsan-ut-Tafaseer - Saad : 44
وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ
وَخُذْ : اور تو لے بِيَدِكَ : اپنے ہاتھ میں ضِغْثًا : جھاڑو فَاضْرِبْ بِّهٖ : اس سے مار اس کو وَلَا تَحْنَثْ ۭ : اور قسم نہ توڑ اِنَّا : بیشک ہم وَجَدْنٰهُ : ہم نے اسے پایا صَابِرًا ۭ : صابر نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ : اچھا بندہ اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والا
اور اپنے ہاتھ جھاڑو لو اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو بیشک ہم نے ان کو ثابت قدم پایا بہت خوب بندے تھے بیشک وہ رجوع کرنے والے تھے
44۔ اگرچہ علماء مفسرین نے اس میں اختلاف کیا ہے کہ حضرت ایوب اپنی اس بیماری میں اپنی بی بی سے کس بات پر خفا ہوگئے تھے جس خفگی میں انہوں نے اپنی بی بی کو اپنے تندرست ہوجانے کے بعد سو کوڑے مارنے کی قسم کھائی تھی لیکن صحیح سبب حضرت ایوب ؓ کی خفگی کا وہی ہے جس کی صراحت حدیث میں آئی ہے چناچہ ناقابل اعتراض سند سے تفسیر ابن ابی حاتم میں چند روایتیں ہیں حضرت ایوب ؓ کی بیماری کے زمانہ میں شیطان ایک حکیم کا بھیس بدل کر ایک صندوق دواؤں کا سر راہ بیٹھا حضرت ایوب کی بی بی نے جو ایک روز اس فریبی حکیم کو دیکھا تو اس سے حضرت ایوب کا حال کہا۔ شیطان نے جواب دیا کہ اس شرط سے میں اس بیمار کا علاج کرتا ہوں کہ اگر میرے علاج سے اس بیمار کو صحت ہوگئی تو تم یہ جاننا کہ اس صحت میں خدا کی قدرت کا کچھ دخل نہ تھا۔ خاص میرے ہی علاج نے اس بیمار کو اچھا کیا۔ حضرت ایوب کی بی بی نے جب اس حکیم کا ذکر حضرت ایوب سے کیا تو انہوں نے نے اس مشرک کی بات چیت پر غصہ ہو کر وہ قسم کھائی اب اس میں بھی علماء کا اختلاف ہے کہ جس طرح قسم کے اتارنے کا ذکر قرآن شریف میں ہے یہ صورت قسم اتارنے کی حضرت ایوب کے ساتھ مخصوص تھی یا شریعت محمدیہ میں بھی یہ حکم باقی ہے صحیح مذہب اس باب میں امام ابوحنیفہ اور امام شافعی کا معلوم ہوتا ہے کہ قسم کے وقت کوئی خاص لکڑی قسم کھانے والا شخص اپنی نیت میں نہ ٹھہراوے تو اب بھی یہ حکم باقی ہے کیونکہ ان دونوں مذہبوں کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس کو طبرانی نے ابی امامہ ؓ بن سہل سے روایت 1 ؎ کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قبیلہ بنی سعدہ میں ایک لونڈی کو زنا کا حمل تھا۔ آپ نے دریافت کے بعد سو تنکوں کی ایک جھاڑو مارنے کا حکم دیا۔ یہ حدیث چند سندوں سے آئی ہے۔ اس لئے ایک سند کو دوسری سند سے تقویت ہوجاتی ہے حضرت ایوب کا صبر مشہور ہے اور ان کے صبر کی صداقت اس سے ہوتی ہے۔ کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ایوب بہت اچھے بندے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو تکلیف کے وقت صبر کرنے والا اور اللہ کی طرف رجوع ہونے والا پایا۔ (1 ؎ جامع الترمذی باب فی الصبر علی البلاء من ابواب الزھد عن سعد ص 75 ج 2) (2 ؎ تفسیر الدرالمنثور ج 5 ص 317 بحوالہ ابن عساکر قول وہب) (3 ؎ فتح الباری ص 247 ج 3 کتاب الانبیاء) (4 ؎ احمد فی الذھد ذکرہ السیوطی فی الدر المنثور ج۔ ص 316) (5 ؎ فتح الباری 317 ج 3) (6 ؎ بخاری کتاب الغسل باب من اغتسل عریانا ص 32 ج 1) (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 310 ج 5۔ ) (2 ؎ بحوالہ الترغیب والترہیب باب الترغیب فی الصبر ص 526 ج 4) (3 ؎ الترغیب و الترہیب ص 525 ج 4۔ ) (1 ؎ بحوالہ تفسیر الدر المنثور ج 5 ص 317)
Top