Ahsan-ut-Tafaseer - Saad : 71
اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ
اِذْ قَالَ : جب کہا رَبُّكَ : تمہارا رب لِلْمَلٰٓئِكَةِ : فرشتوں کو اِنِّىْ : کہ میں خَالِقٌۢ : پیدا کرنے والا بَشَرًا : ایک بشر مِّنْ طِيْنٍ : مٹی سے
جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ مٹی سے انسان بنانے والا ہوں
71۔ 81۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ قصہ اس جگہ بیان فرمایا ہے اسی طرح یہ قصہ اس سے پہلے سورة بقرہ سورة اعراف سورة حجر وغیرہ میں بیان فرمایا ہے وہ قصہ یہ ہے کہ اللہ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے فرشتوں کو یہ بات جتلائی کہ وہ ایک بشر پیدا کرے گا۔ کھنکھناتے سنے ہوئے گارے سے اور جب اس کے پیدا کرنے اور درست کرنے کا کام پورا ہوجاوے تو چاہے کہ اس کی عزت بڑھانے کے لئے اور خدا کا حکم ماننے کے واسطے اس کو قبلہ ٹھہرا کر فرشتے سجدہ کریں۔ سارے فرشتوں نے اس کا حکم مانا اور سجدہ کیا مگر ابلیس نے حکم نہ مانا اور سجدہ نہ کیا بلکہ تکبر کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس سے سجدہ نہ کرنے کا سبب پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ یا اللہ تو نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا اور مجھ کو آگ سے۔ اس لئے میں آدم سے بہتر ہوں۔ اس نافرمانی اور حکم الٰہی کے مقابہل میں عقلی قیاس دوڑانے کے جرم میں اللہ تعالیٰ نے اس کو مردود ٹھہرا کر آسمان پر سے نکال دیا اور اگرچہ اس نے موت کی تکلیف سے بچنے کیلئے دوسرے صور تک زندہ رہنے کی مہلت مانگی تھی۔ کیونکہ اسے یہ بات معلوم تھی کہ دوسرے صور کے بعد پھر کسی کو موت نہیں ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کو یہ بات منظور نہ تھی۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے اس کو پہلے صور تک کی مہلت دی۔ پہلے صور سے جب تمام دنیا فنا ہوگی اس حالت سے سلف میں سے کسی نے شیطان کو مستثنیٰ نہیں کیا۔ اس لئے یہی قول صحیح معلوم ہوتا ہے کہ پہلے صور کے وقت شیطان بھی مرجاوے گا جس طرح ان آیتوں میں ذکر ہے کہ شیطان کو اللہ تعالیٰ نے آگ سے پیدا کیا ہے۔ اسی مضمون کی حضرت عائشہ ؓ کی روایت صحیح 1 ؎ مسلم کے حوالہ سے سورة بقر میں گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا فرشتے نور سے پیدا کئے گئے ہیں اور شیطان آگ کے شعلہ سے حاصل کلام یہ ہے کہ آیتوں اور حضرت عائشہ کی صحیح حدیث کے موافق یہی قول صحیح معلوم ہوتا ہے کہ شیطان فرشتوں میں سے نہیں ہے۔ زیادہ تفصیل اس کی سورة بقر میں گزر چکی ہے۔ سورة بقر میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ پہلی شریعتوں میں سلام کی طرح سجدہ جائز تھا۔ اب سوا اللہ تعالیٰ کے کسی کو سجدہ کرنا جائز نہیں ہے۔ وکان من الکافرین اس کا مطلب یہ ہے کہ علم الٰہی میں پہلے ہی یہ امر قرار پا چکا تھا کہ نافرمانی کے سبب سے شیطان کافر ٹھہرے گا۔ (1 ؎ صحیح مسلم مع شرح نودی باب فی احادیث متفرقہ ص 431 ج 2)
Top