Anwar-ul-Bayan - Saad : 71
اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ
اِذْ قَالَ : جب کہا رَبُّكَ : تمہارا رب لِلْمَلٰٓئِكَةِ : فرشتوں کو اِنِّىْ : کہ میں خَالِقٌۢ : پیدا کرنے والا بَشَرًا : ایک بشر مِّنْ طِيْنٍ : مٹی سے
جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ مٹی سے انسان بنانے والا ہوں
(38:71) اذ قال : اذ یختصمون کا بدل ہے یہ اس اختصام کی تفصیل ہے جس کا اوپر اشارہ کیا گیا ہے۔ اذ سے پہلے فعل اذکر محذوف ہے۔ طین۔ گارا۔ مٹی، پانی اور مٹی کا آمیزہ۔ خلق آدم کا مادہ کہیں طین آیا ہے کہیں تراب اور کہیں صلصال من حما مسنون ان میں کوئی کچھ بھی توارض نہیں۔ کہیں مادہ قریبہ بتلا دیا کہیں مادہ بعید۔ (حضرت تھانوی (رح) ) المادۃ البعیدۃ ھو التراب واقرب منہ الطین واقرب منہ الحماء مسنون واقرب منہ الصلصال فثبت انہ لامنافاۃ بین الکل (تفسیر کبیر)
Top