Tafseer-e-Haqqani - Saad : 71
اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ
اِذْ قَالَ : جب کہا رَبُّكَ : تمہارا رب لِلْمَلٰٓئِكَةِ : فرشتوں کو اِنِّىْ : کہ میں خَالِقٌۢ : پیدا کرنے والا بَشَرًا : ایک بشر مِّنْ طِيْنٍ : مٹی سے
جبکہ تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں ایک انسان مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں،
ترکیب : فقعوا امر من وقع یقع الا ابلیس استثناء متصل علی تقدیر انہ کان متصفا بصفات الملائکۃ فغلبوا علیہ او منقطع لما مامصدریۃ او موصولۃ و قری لما بالتشدید مع فتح الام استکبرت استفہام تو بیخ و انکار ام کنت ام متصلۃ اے اترکت السجود لاستکبار الحادث ام لاستکبار القدیم فالحق والحق قراء الجمہور بنصب الحق فی الموضعین علی انہ مقسم بہ حذف حرف الجرو قرء برفعھا۔ تفسیر : اب اس جگہ ملائِ اعلیٰ کے ملائکہ کی وہ گفتگو بیان فرماتا ہے جو آدم ( علیہ السلام) کے پیدا ہونے سے پیشتر کی تھی۔ اس ذکر سے یہاں یہ چند باتیں بتلانی مقصود ہیں۔ (1) یہ کہ آدم کو ہم نے زمین کا خلیفہ بنانے کے لیے فرشتوں سے کہا، اُنہوں نے آدم کی سرشت کو دیکھ کر یہ کہا کہ اس کو بنانے میں بجز اس کے کہ دنیا میں فساد پھیلادے گا اور کیا حکمت ہے ؟ مگر اللہ تعالیٰ کو وہ حکمت معلوم تھی، اس کو بنایا۔ اس سے بنی آدم کو شرم دلائی جاتی ہے کہ تم نیکی اختیار کرو تاکہ ملائِ اعلیٰ کا تم پر اعتراض صحیح نہ ہو۔ (2) یہ کہ ملائکہ نے باوجود اس کہنے کے پھر بھی حکم الٰہی کو مانا آدم کو سجدہ کرنے پر آمادہ ہوگئے مگر تمر دو سرکشی سے ابلیس نے نہ مانا رامذئہ درگاہ ہوا اس میں بھی بندوں کو غیرت دلائی جاتی ہے کہ تم کس باپ کے بیٹے ہو کہ جس کو فرشتوں نے بھی سجدہ کیا مگر پھر بھی تم ہمارے احسان کو نہیں مانتے۔ سرکشی کرتے ہو، کیسے ناخلف ہو۔ (3) جو کوئی منشائِ الٰہی و حکم آسمانی کے برخلاف کرتا ہے، وہ خود رسوا ہوتا ہے، مگر آسمانی حکم جاری ہو کر رہتا ہے۔ جیسا کہ شیطان نے خلاف کیا۔ راندہ درگاہ ہوا، اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ محمد ﷺ کو مبعوث کرکے دنیا میں توحید و مکارم اخلاق شائع کرنا منشائِ الٰہی ہے جو کوئی سرتابی کرے گا۔ آپ رسوا ہوگا، اس کا حسد وتکبر شیطان کی طرح خود اسی کو برباد کرے گا۔ (4) شیطان بنی آدم کا دشمن ہے اور اس نے ان کے برباد کرنے پر بیڑا اٹھایا ہے، مگر بنی آدم کے حال پر افسوس ہے کہ پھر اسی دشمن کے کہنے پر چلتے ہیں۔ یہ قصہ سورة بقر میں کمال توضیح کے ساتھ بیان ہوچکا ہے، ان ابحاث کا اعادہ بیکار ہے۔ اس جگہ صرف بعض الفاظ کی تفسیر کی جاتی ہے۔ وکان من الکافرین اور وہ علم الٰہی میں کافر ٹھہر چکا تھا، یعنی ہم جانتے تھے کہ یہ انکار کرے گا یا یہ معنی کہ دراصل تو جن کی قوم سے تھا جو کافر تھے۔ عبادت کرکے فرشتوں میں جا ملا تھا۔ آخر اپنی رذالت پر آگیا۔ خلقت بیدی خدا تعالیٰ ہاتھ پائوں اعضاء بدن سے پاک ہے۔ بیدی سے مراد قدرت کاملہ ہے، یعنی بغیر ماں باپ کے قدرت کاملہ سے اس کو ہم نے بنایا اور اس کے بنانے کو اپنی طرف تعظیم کے لیے مضاف کیا، جیسا کہ روحی کو کما قال من روحی اور جیسا کہ ناقۃ اللہ و مساجد اللہ و بیت اللہ و روح اللہ شیطان نے بجائے معذرت کے یہ کہا خلقتنی من نار و خلقتہ من طین کہ مجھے آپ نے آگ سے بنایا جو جوہر نورانی ہے۔ شیطان کا غالب مادہ بھی ہے اور آدم کو گارے سے بنایا جو ظلماتی چیز ہے۔ شیطان نے اپنی ذات پر فخر کیا وہاں سے عتاب ہوا۔ فاخرج منہا جنت یا زمرئہ ملائکہ سے نکل جا تجھ پر قیامت تک میری پھٹکار پڑے گی۔ دنیا میں ہمیشہ لعنت پڑے گی۔ آخرت میں عذاب ہوگا۔ قال رب فانظرنی الی یوم یبعثون عرض کیا کہ اس دن تک کہ لوگ مر کر حساب کے لیے زندہ ہوں، مجھے مہلت دے غرض یہ تھی کہ پھر تو موت ہے ہی نہیں موت سے بچ جائوں گا اور خوب گمراہ بھی کرلوں گا۔ خدا تعالیٰ پر کوئی بات مخفی نہیں۔ فرمایا الی یوم الوقت المعلوم کہ وقت معلوم کے دن تک تجھے مہلت ہے، یعنی نفخ صور تک پھر شیطان نے بڑے دعویٰ سے کہا تیری عزت کی قسم ! میں سب کو گمراہ ہی کرکے رہوں گا، مگر تیرے خالص بندے مجھ سے گمراہ نہ ہوں گے، یعنی ایماندار، نیک کردار۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ فالحق والحق اقول کہ یہ حق بات ہے اور میں حق ہی بات کہا بھی کرتا ہوں کہ تجھ سے اور جو تیرا کہا مانے گا، ان سب سے جہنم بھردوں گا، مجھے کیا پروا ہے ؟ اس میں بنی آدم کو سنایا جاتا ہے کہ تمہارے دشمن نے تمہارے بہکانے کی قسم کھالی ہے اور میں جہنم کا وعدہ کرچکا ہوں۔ خبردار ہوشیار اس کے کہنے ہیں نہ آنا۔ نبیوں کے کہے پر چلنا، شیطان کا پیدا کرنا اور اس کو مہلت دینا بندے کے اختیارات کی آزمائش کے لیے ہے۔ اس سے خدا تعالیٰ کی ذات پر کسی قسم کا اعتراض ہو نہیں سکتا کہ آپ ہی گمراہ کرنے کے لیے شیطان کو چھوڑا اور آپ ہی گمراہ ہونے کی سزا دے گا۔ شیطان ایک قسم کا جن ہے اور اس کی ذریات بھی بہت ہے، وہ کبھی متشکل ہو کر بھی بہکانے آتا ہے اور طمع کرکے دکھاتا ہے اور بنی آدم میں سے بھی بہت سے اس کے جانشین اور چیلے چانٹے ہیں، وہ بھی بہکاتے اور ہر رنگ میں آتے ہیں۔ فقیروں میں ‘ مولویوں میں ‘ زندوں میں ‘ عورتوں میں ‘ شہوات میں ‘ غصے میں اور بیشتر تو یہ انسان کے دل میں وسوسہ ڈالا کرتا ہے اور قوت بہیمیہ اس کا بدن انسانی میں گھوڑا غصہ اور شہوات کوڑا ہے۔
Top