Mafhoom-ul-Quran - Saad : 71
اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ
اِذْ قَالَ : جب کہا رَبُّكَ : تمہارا رب لِلْمَلٰٓئِكَةِ : فرشتوں کو اِنِّىْ : کہ میں خَالِقٌۢ : پیدا کرنے والا بَشَرًا : ایک بشر مِّنْ طِيْنٍ : مٹی سے
جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ ” میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔
شیطان انسانوں کا شروع سے دشمن ہے تشریح : سیدناآدم (علیہ السلام) کی پیدائش اور ابلیس پر لعنت یہ تمام واقعات کا سورة بقرہ اور کئی سورتوں میں وضاحت سے بیان ہوچکا ہے۔ مقصد یہی ہے کہ انسان کو اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ جس کی دلیل یہ ہے کہ اس کو خود تخلیق کیا۔ جیسا کہ کہا ” ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ اور اس میں اپنی روح پھونک دی “۔ جیسا کہ اس کی پیدائش اپنے خاص الخاص انداز سے کی ہے اور اس کا عہدہ تمام مخلوقات سے بلند کرتے ہوئے اس کو ” اپنا نائب “ کہا تو اسی نسبت سے انسان کی ذمہ داریاں بھی باقی تمام مخلوقات سے زیادہ بڑی سخت اور مشکل ہیں۔ اس دنیا میں ہمارے چاروں طرف زر، زن اور زمین کی کشش ایک خوبصورت جال کی شکل میں موجود ہے ان تمام کو مناسب طریقہ سے حاصل کرنا، استعمال کرنا اور ان سے فائدہ اٹھانا اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حدود کے اندر رہ کر یہ ایک متقی، کامل اور اچھے انسان کی صفات ہیں اور شیطان ہر صورت انسان کو ان تمام دنیاوی چیزوں کو غلط طریقہ سے حاصل کرنے کی ترغیب دیتا رہتا ہے۔ کیونکہ اس کی تو یہ ڈیوٹی ہے وہ تو کہہ چکا ہے کہ ” میں تیرے بندوں کو ضرور بہکاؤں گا۔ “ (نساء : 119) اور اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ ” شیطان کا زور تو انہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس کو سرپرست بناتے ہیں اور اس کے بہکانے سے شرک کرتے ہیں “۔ ( نحل آیت 100:) جو لوگ قرآن و سنت کی بجائے گمراہ مولویوں اور دنیا پرست پیروں فقیروں کی باتوں پر عمل کرتے ہیں تو یہ بھی شرک میں شمار ہوتا ہے۔ ایک طرف تو علماء دین، حق پرست اور مشائخ عظام دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں خوب اچھا کام کر رہے ہیں۔ جب کہ دوسری طرف غلط قسم کے پیر، فقیر، سجادہ نشین اور علمائِ سو (غلط تعلیم دینے والے علمائ) لوگوں کو دین سے دور لے جانے اور گمراہ کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ اور یہ لوگ انسان کے لیے دین کے لیے حد سے زیادہ خطر ناک اور شرک کو پھیلانے والے ہوتے ہیں۔ سیدنا محمد ﷺ کا ارشاد ہے کہ ” میں اپنی امت کے متعلق گمراہ ائمہ سے شدید ترین خطرہ محسوس کرتا ہوں “۔ (ابو داؤد) جس طرح ہر پیشہ میں اور انسانوں کے ہر طبقہ میں اچھے اور برے لوگ پائے جاتے ہیں اسی طرح مولوی اور پیر بھی اچھے اور برے ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ غلط مولوی انسانیت کو سب سے زیادہ نقصان پہچاتے ہیں لہٰذا یہ شیطان کے خالص اور پسندیدہ ایجنٹ ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے بھی ہوشیار رہنا چاہیے اور ان سے اللہ کی پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔ خلاصہ سورة ص یہ سورت بھی رشد و ہدایت کی بڑی خوبصورت سورة مبارکہ ہے۔ انسان کو جس قدر بڑا مرتبہ دیا گیا ہے اسی قدر زیادہ اس کی ذمہ داریاں اور امتحان بھی سخت ہے۔ دنیا نفسانی خواہشات سے بھری پڑی ہے اور شیطان کا دعوی ” کہ اے اللہ تیری عزت کی قسم میں قیامت تک انسان کو گمراہ کرتا رہوں گا۔ “ اور پھر اللہ کا یہ فرمان کہ ” میں تم سے اور گمراہ لوگوں سے دوزخ کو بھر دوں گا “۔ محمد منظور الحق ڈار صاحب نے بڑی خوبصورت وضاحت کی ہے لکھتے ہیں : ” اسلام ایک دین یعنی نظام زندگی ہے اور شرک بھی ایک نظام حیات ہے۔ کیا نبی اکرم ﷺ کی پیروی کا یہ تقاضا نہیں کہ ہم دین حق کو دین باطل یعنی شرک پر غالب کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں خواہ مشرکوں کو یہ سخت ناگوار گزرے۔ شرک کرنے والوں کی پرواہ کیوں کی جائے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ” جس چیز کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے اسے صاف صاف کہہ دو اور شرک کرنے والوں کی ذرا پرواہ نہ کریں۔ تمہاری طرف سے ہم ان مذاق اڑانے والوں کی خبر لینے کے لیے کافی ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو بھی الہ قرار دیتے ہیں۔ عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ ( سورة حجر آیات 94, 95, 96) کیونکہ بعثت کے بعد کفار نے آپ ﷺ اور تمام مسلمانوں کے ساتھ بڑا سخت رویہ رکھا ہوا تھا تو آپ انسان ہونے کے ناطے پریشان ہوجاتے تو آپ کی ہمت افزائی کے لیے پچھلے انبیاء کی زندگیوں اور مشکلات کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ یہ سلسلہ تو ہمیشہ سے ہی چلتا آ رہا تھا اور تمام مسلمانوں کے لیے بھی تنبیہ کی گئی ہے کہ ڈٹے رہو۔ پروا نہ کرو اور اللہ، رسول اور آخرت کا خیال ہر دم رکھو۔ ہمت مرداں مدد خدا۔
Top