Al-Qurtubi - Saad : 71
اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ
اِذْ قَالَ : جب کہا رَبُّكَ : تمہارا رب لِلْمَلٰٓئِكَةِ : فرشتوں کو اِنِّىْ : کہ میں خَالِقٌۢ : پیدا کرنے والا بَشَرًا : ایک بشر مِّنْ طِيْنٍ : مٹی سے
جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ مٹی سے انسان بنانے والا ہوں
71 ۔ 74:۔ اذ کا تعلق یختصمون کے ساتھ معنی یہ ہے جب وہ جھگڑ رہے تھے تو مجھے ملا اعلی کے بارے میں کچھ علم نہ تھا اذ قال یہ اذیختصمون سے بدل ہے تختصمون مخدوف کے متعلق ہے کیونکہ معنی ہے جس ملا اعلی والے جھگڑ رہے تھے تو مجھے ان کی گفتگو کا کچھ علم نہ تھا فاذا سویتہ اذا یہ ماضی کے فعل کو مستقل کی طرف پھیر دیتا ہے کیونکہ یہ حروف شرط کے مشابہ ہے اس کا جواب حرف شرط کے جواب جیسا ہوتا ہے یعنی جب میں نے اسے پیدا کیا من روحی سے مراد ایسی روح ہے جس کا میں مالک ہوں میرے سوا کوئی اس کا مالک نہیں یہ اضافت کا معنی ہے سورة النساء آیت 171 میں و روح منہ کے ًضمن میں یہ بحث مفصل گذر چکی ہے۔ سجدین۔ حال کی حیثیت سے منصوب ہے یہ اسلام کا سجدہ تھا سجدہ عبادت نہ تھا۔ سورة بقرہ میں یہ بحث گذر چکی ہے۔ فسجد الملئکۃ کلھم اجمعون۔ انہوں نے حکم کی اطاعت کی اور اس کے سمانے عاجزی کرتے اور حضرت آدم (علیہ السلام) کی تعظیم کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرتے ہوئے سجدہ کیا الا ابلیس ابلیس جہالت کی بناء پر سجدہ سے رک گیا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ استکبار کے طور پر اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے رکنا کفر ہے کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کے امر سے استکبار کیا تھا اس لئے وہ کافروں میں سے ہوگیا۔ سورة بقرہ میں یہ بحث مفصل گزر چکی ہے۔
Top