Anwar-ul-Bayan - Saad : 71
اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ
اِذْ قَالَ : جب کہا رَبُّكَ : تمہارا رب لِلْمَلٰٓئِكَةِ : فرشتوں کو اِنِّىْ : کہ میں خَالِقٌۢ : پیدا کرنے والا بَشَرًا : ایک بشر مِّنْ طِيْنٍ : مٹی سے
جب کہ آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ بیشک میں کیچڑ سے ایک بشر کو پیدا کرنے والا ہوں،
ابلیس کی حکم عدولی اور سرتابی، حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کرکے مستحق لعنت ہونا اور بنی آدم کو ورغلانے کی قسم کھانا ان آیات میں تخلیق آدم اور پھر فرشتوں کو انہیں سجدہ کرنے کا حکم اور ان کے سجدہ کرنے کا واقعہ اور ابلیس کے انکار کا تذکرہ فرمایا ہے یہ مضمون سورة بقرہ رکوع 4 اور سورة اعراف رکوع 2 اور سورة حجر رکوع 3 اور سورة الاسراء رکوع 6 میں بھی گزر چکا ہے وہاں جو ہم نے تفصیل کے ساتھ لکھا ہے اس کی بھی مراجعت کرلی جائے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے فرمایا کہ میں طین یعنی کیچڑ سے ایک بشر کو پیدا کروں گا جب میں اسے پیدا کردوں اور پوری طرح بنا دوں اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے لیے سجدہ میں گر جانا۔ اس میں لفظ بشر فرمایا ہے جس کا معنی ہے ایسی کھال والی چیز جو بالوں سے چھپی ہوئی نہ ہو، دوسرے حیوانات ہیں ان کے جسم پر بال ہوتے ہیں جن سے ان کا بدن ڈھکا ہوتا ہے لیکن انسان کے سر اور اس کی داڑھی کے علاوہ اور کسی جگہ پر عام طور سے بڑے بڑے بال نہیں ہوتے کپڑا نہ پہنے تو کھال نظر آتی ہے اور بعض جگہ جو بال نکل آتے ہیں اور بڑھتے چلے جاتے ہیں ان کے صاف کرنے کا حکم دیا گیا البتہ داڑھی رکھنا واجب ہے پھر جب جنت میں جائیں گے تو وہاں مردوں کے بھی داڑھی نہ ہوگی وہاں بشر ہونے کا پورا پورا مظاہرہ ہوجائے گا یہاں کیچڑ سے پیدا فرمانے کا ذکر ہے اور سورة الانعام میں لفظ تراب وارد ہوا ہے اور سورة حجر میں (صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ) فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو بجتی ہوئی کالی سڑی ہوئی مٹی سے پیدا فرمایا اور سورة رحمن میں فرمایا (مِنْ صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِ ) کہ ہم نے انسان کو ایسی مٹی سے پیدا فرمایا جو ٹھینکرے کی طرح بجنے والی تھی۔ ان آیات میں آدم (علیہ السلام) کا پتلا تیار کیے جانے کے تدریجی حالات بتائے ہیں مختلف جگہوں سے مٹی جمع کی گئی پھر اس میں پانی ڈال دیا تو کیچڑ بن گئی اور عرصہ تک اسی طرح پڑے رہنے کی وجہ سے سیاہ اور بدبودار ہوگئی پھر جب پتلا بنا دیا گیا تو وہ پڑے پڑے سوکھ گیا اور ایسا ہوگیا کہ اگر اس پر انگلی ماری جائے بجنے لگے جیسے مٹی سے بنائے ہوئے برتن انگلیاں مارنے سے بجتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ جب میں اس بشر کو پیدا کردوں اور پوری طرح اس کا مجسمہ بنا دوں پھر اس میں روح پھونک دوں تو تم اس کو سجدہ کرنا (اس کی تعظیم کے لیے سجدہ میں گر جانا) فرشتوں نے حکم کے مطابق اس بشر کو جن کا نام پہلے سے آدم تجویز کردیا گیا تھا تعظیمی سجدہ کرلیا ابلیس بھی وہیں رہتا تھا اسے بھی حکم تھا کہ اس نئی مخلوق کو یعنی آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرے، وہ سجدہ کرنے سے منکر ہوگیا، سورة الکھف میں فرمایا ہے (کَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّہٖ ) (وہ جنات میں سے تھا سو اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی) اور سورة البقرہ میں فرمایا (اَبٰی وَاسْتَکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْکٰفِرِیْن) (اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور وہ کافروں میں سے تھا) یعنی اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے ہی سے یہ بات تھی کہ وہ کفر اختیار کرلے گا کافروں میں سے ہوجائے گا اور سورة الاعراف میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس سے فرمایا (مَا مَنَعَکَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُکَ ) کہ تجھے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا جبکہ میں نے تجھے حکم دیا تھا (معلوم ہوا کہ وہ بھی عمومی حکم میں شامل تھا یا اسے خطاب فرما کر مستقل طور پر بھی حکم دیا تھا) یہاں سورة ص میں فرمایا (قَالَ یَااِِبْلِیسُ مَا مَنَعَکَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ ) (کہ اے ابلیس تجھے کس چیز نے اس بات سے روکا کہ تو اس چیز کو سجدہ کرے جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا) علماء نے فرمایا کہ ہاتھوں سے پیدا کرنا جو فرمایا اس سے معنی مجازی مراد ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ جسمیت اور اعضاء سے پاک ہے اور یوں کہا جاتا ہے کہ اسے اپنے ہاتھ سے بنایا اور یہ اہل تاویل کا قول ہے اور سلف کا فرمانا یہ ہے کہ ہم تاویل نہیں کرتے اور یدین (دونوں ہاتھ) کا جو مطلب ہے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مفوض کرتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک جو یدین کا مطلب ہے جو اس کی شان کے لائق ہے ہم اسی پر ایمان لاتے ہیں اس طرح یہ جو فرمایا کہ جب میں اس میں اپنی روح پھونک دوں اس کے بارے میں بعض حضرات نے تاویل کی ہے اور فرمایا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب میں اس میں جان ڈال دوں گا تو تم اس کے لیے سجدہ میں گرپڑنا اور دوسرے حضرات نے فرمایا کہ ہم تاویل نہیں کرتے اس پر ایمان لاتے ہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک جو اس کا مطلب ہے جو اس کی شان کے لائق ہے ہم اسے مانتے ہیں۔
Top