Al-Quran-al-Kareem - Yaseen : 19
قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ
قَالُوْا : انہوں نے کہا طَآئِرُكُمْ : تمہاری نحوست مَّعَكُمْ ۭ : تمہارے ساتھ اَئِنْ : کیا ذُكِّرْتُمْ ۭ : تم سمجھائے گئے بَلْ : بلکہ اَنْتُمْ : تم قَوْمٌ : لوگ مُّسْرِفُوْنَ : حد سے بڑھنے والے
انھوں نے کہا تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے۔ کیا اگر تمہیں نصیحت کی جائے، بلکہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو۔
قَالُوْا طَاۗىِٕرُكُمْ مَّعَكُمْ : پیغمبروں نے کہا، تم پر آنے والی نحوست کا باعث ہم نہیں بلکہ خود تمہارے افعال ہیں کہ تم نے اللہ کے ساتھ شرک اور اس کی صریح نافرمانی اور سرکشی اختیار کر رکھی ہے۔ اگر تم پر قحط پڑا ہے، یا وبا آئی ہے، یا کوئی اور آفت تو اس کا باعث تم خود ہو، ہم نہیں، کیونکہ ہم تو اللہ کی توحید اور اس کی اطاعت ہی کی دعوت دیتے ہیں۔ اَىِٕنْ ذُكِّرْتُمْ : اس شرط کا جواب محذوف ہے، یعنی کیا اگر تمہیں نصیحت کی جائے اور تمہاری خیر خواہی کی جائے تو شکر گزار ہونے کے بجائے ہمیں منحوس قرار دیتے ہو اور دھمکیاں دیتے ہو ؟ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ : بلکہ اصل یہ ہے کہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو۔ اپنی خواہشوں کے خلاف اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی، یا عقل و دانش کی رو سے عائد ہونے والی کوئی پابندی تمہیں قبول نہیں۔
Top