Tafseer-e-Majidi - Yaseen : 19
قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ
قَالُوْا : انہوں نے کہا طَآئِرُكُمْ : تمہاری نحوست مَّعَكُمْ ۭ : تمہارے ساتھ اَئِنْ : کیا ذُكِّرْتُمْ ۭ : تم سمجھائے گئے بَلْ : بلکہ اَنْتُمْ : تم قَوْمٌ : لوگ مُّسْرِفُوْنَ : حد سے بڑھنے والے
وہ (رسول) بولے کہ تمہاری نحوست تو تمہارے ساتھ ہی چپکی ہوئی ہے، کیا (نحوست) یہ ہے کہ تمہیں نصیحت کی گئی ؟ اصل یہ ہے کہ تم ہی ہو حد سے نکل جانے والے لوگ،13۔
13۔ یعنی یہ کیا اندھیر ہے کہ عین جو طریقہ سعادت دارین اور فلاح دنیا وآخرت کا بتایا جاتا ہے، اسی کو نحوست قرار دے رہے ہو، اور نحوست تم جن واقعات کو قرار دے رہے ہو وہ تو خود تمہارے ہی کرتوت ہیں۔ تم ہی نے حق کے قبول سے انکار کیا، تو تمہارے اندر افتراق وتشتت پیدا ہوا۔ تمہیں نے پیدا خداوندی کو ٹھکرایا۔ تو تمہارے سامان معاش میں بےبرکتی پیدا ہوئی۔ وقس علی ہذا۔ (آیت) ” طآئرکم معکم “۔ قدیم جاہل قوموں میں سعد ونحس کا تخیل بہت زیادہ پھیلا ہوا تھا۔ بات بات میں شگون، فال وغیرہ کارواج عام تھا۔ مکالمہ اسی فضا میں ہورہا ہے۔ (آیت) ” طآئرکم “۔ یعنی نحوست بقول تمہارے، نحوست تمہارے زعم میں۔
Top