Anwar-ul-Bayan - Yaseen : 19
قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ
قَالُوْا : انہوں نے کہا طَآئِرُكُمْ : تمہاری نحوست مَّعَكُمْ ۭ : تمہارے ساتھ اَئِنْ : کیا ذُكِّرْتُمْ ۭ : تم سمجھائے گئے بَلْ : بلکہ اَنْتُمْ : تم قَوْمٌ : لوگ مُّسْرِفُوْنَ : حد سے بڑھنے والے
انہوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے کیا اس لئے کہ تم کو نصیحت کی گئی بلکہ تم ایسے لوگ ہو جو حد سے تجاوز کر گئے ہو
(36:19) قالوا۔ رسولوں نے کہا۔ طائرکم معکم تمہاری نحوست تو تمہارے ساتھ ہی لگی ہوئی ہے۔ ائن ذکرتم۔ ہمزہ استفہامیہ ہے ان حرف شرط ہے ، جو اب شرط محذوف ہے ای ان ذکرتم تطیرتم بناو تواعد تمونا جب تم کو نصیحت کی جاتی ہے تو تم ہم کو منحوس قرار دیتے ہو اور تکلیف دہی کا ڈراوا دیتے ہو۔ (حرف استفہام بمعنی یہ کیا بات ہوئی ۔ کہ) بل۔ بلکہ (حرف اضراب ہے ) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ :۔ (36:19) مسرفون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ مسرف واحد۔ حد سے بڑھنے والے۔ اسران (افعال) مصدر۔ حد اعتدال یا حد مقررہ سے آگے بڑھنے والے۔
Top