Urwatul-Wusqaa - Yaseen : 19
قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ
قَالُوْا : انہوں نے کہا طَآئِرُكُمْ : تمہاری نحوست مَّعَكُمْ ۭ : تمہارے ساتھ اَئِنْ : کیا ذُكِّرْتُمْ ۭ : تم سمجھائے گئے بَلْ : بلکہ اَنْتُمْ : تم قَوْمٌ : لوگ مُّسْرِفُوْنَ : حد سے بڑھنے والے
اُنہوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تو (خود) تمہارے ہی ساتھ ہے بلکہ تم خود حد سے تجاوز کرنے والے لوگ ہو (کہ تمہاری عقل پر پردے پڑچکے ہیں)
رسولوں نے بھی ان کو جھوٹی بات کا کھرا جواب سنا دیا کہ منحوس ہم نہیں بلکہ تم خود ہو : 19۔ رسولوں نے بھی سمجھا کہ اس جان کو بچانے کے لئے ان کی جھوٹی باتوں کا ان کو کھرا کھرا جواب سنادیا جائے تو یہی بہتر ہے کہ یہ جان تو بہرحال جانے ہی کے لیے ہے پہلے اس کو کون بچا سکا ہے جو ہم بچا سکا ہے جو ہم بچا لیں گے حقیقت تو یہ ہے کہ جس میں ایک لمحہ کی بھی کوئی کم وبیش نہیں کرسکتا اگرچہ مذہبی ٹھیکہ داروں نے سو افسانے اس کو کم وبیش کرنے کے لئے گھڑ رکھے ہوں لیکن حقیقت کبھی بدلا نہیں کرتی اور اللہ تعالیٰ کی باتوں میں تبدل حرام ہے ، اللہ تعالیٰ نہ تو خود بدلتا ہے اور نہ ہی کسی کو بدلنے دیتا ہے خواہ وہ کوئی ہو اور خواہ وہ کون ہو ؟ اس لئے انہوں نے بھی ان مترفین کو کھرا جواب سنا دیا اور فرمایا کہ لوگو ! تمہاری بدبختی اور بدفالی تو تمہارے ساتھ ہے جب تم نے اس دنیا میں قدم رکھا تھا تو تمہارا اعمال نامہ اور تمہارا شگون تو تمہارے گلے کا ہار تھا اس میں ہمارا کوئی دخل نہیں ۔ جہالت اور توہم پرستی کا چولی دامن کا ساتھ ہے وہ وقت تو خیر وہ ہی تھا آج اس پڑھے لکھے دور میں بھی ایسے جاہل علاموں بلکہ حضرت العلام حضرات اور ایسے پیروں اور بزرگوں کی کوئی کمی نہیں جو اس جہالت کے ساتھ بھرے پڑے ہیں ۔ ہمارے بڑے بڑے سیاسی لیڈر ‘ بڑے بڑے ڈاکٹرز ‘ انجینئرز ‘ پروفیسرز ‘ پر نسپلز ‘ ڈائریکٹرز ‘ سیکرٹری حضرات جن کے ہاتھ میں اس ملک کی قسمت دی گئی ہے اس طرح کے توہمات سے بھرے پڑے ہیں ‘ کتنی چیزیں ہیں جن کو وہ منحوس خیال کرتے ہیں ‘ کتنی باتوں سے وہ بدشگونی لیتے ہیں یہی حالت ان کی تھی فرق یہ ہے کہ ان کی وہم پرستی کف کی تھی لیکن ہماری پکی اسلامی وہم پرستی ہے جس طرح ہماری چوریاں ‘ ہمارے ڈاکے ‘ ہمارا قتل و غارت ‘ ہمارا دھوکا اور فریب اور بددیانتی سب اسلام مار کہ ہے ایسی ہی ہماری بدشگونیاں بھی اسلام مار کہ ہیں اور وہم پرستیاں بھی اور پھر یہ بھی کہ ایک چال ہمارے پاس اور بھی ہے وہ یہ کہ ہم اپنی ان اسلامی وہم پرستیوں کو کرامت اور فرق عادت اور اس طرح کے دوسرے ناموں سے بھی بدلتے رہتے ہیں ، جہاں اور کوئی دلیل ہم کو کام نہ دے تو یہ سو دلیلوں کی ایک دلیل ہمارے پاس موجود ہے اور کون ہے جو ہم کو ان دلائل کے پیش کرنے سے باز رکھ سکے ‘ اسلام ہمارا اور ہم اسلام کے ۔ مختصر یہ کہ ان بستی والوں کو ہمارے ان رسولوں نے کھرے کھرے جواب سنا دیئے اور واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ تم ہی وہ لوگ ہو جو حد سے بڑھ جانے والے ہو لیکن بڑے لوگ کمزوروں کی ایسی باتوں کو جو صاف اور کھری ہوں کب برداشت کرسکتے ہیں جو وہ لوگ ان باتوں کو برداشت کرتے ۔
Top