Jawahir-ul-Quran - Saad : 75
قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ١ؕ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ
قَالَ : اس نے فرمایا يٰٓاِبْلِيْسُ : اے ابلیس مَا مَنَعَكَ : کس نے منع کیا تجھے اَنْ تَسْجُدَ : کہ تو سجدہ کرے لِمَا : اس کو جسے خَلَقْتُ : میں نے پیدا کیا بِيَدَيَّ ۭ : اپنے ہاتھوں سے اَسْتَكْبَرْتَ : کیا تو نے تکبر کیا اَمْ كُنْتَ : یا تو ہے مِنَ : سے الْعَالِيْنَ : بلند درجہ والے
فرمایا اے ابلیس49 کس چیز نے روک دیا تجھ کو کہ سجدہ کرے اس کو جس کو میں نے بنایا اپنے دونوں ہاتھوں سے یہ تو نے غرور کیا یا تو بڑا تھا درجہ میں
49:۔ ” قَا یَا اِبْلِیْسُ الخ “ فرمایا۔ اے ابلیس ! جس آدم کو میں نے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا ہے تو نے اس کو سجدہ کیوں نہیں کیا ؟ کیا تو نے اس سے بڑا بننے کی کوشش کی ہے یا تو واقعی اس سے فائق ہے اس لیے اس کو سجدہ نہیں کیا ؟ تکبرت من غیر استحقاق او کنت ممن علا واستحق التفوق (بیضاوی) ۔ ” قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ الخ “۔ ابلیس نے جواب دیا کہ میں واقعی آدم سے افضل ہوں کیونکہ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے۔ اور ظاہر ہے کہ آگ مٹی سے افضل ہے۔ ” قَالَ فَاخْرُجْ الخ “ فرمایا۔ یہاں (جنت یا آسمان) نکل جا۔ تو رحمت و کرامت سے محروم کردیا گیا ہے۔ اور قیامت تک کیلئے لعنت و ملامت کا مورد قرار دے دیا گیا ہے۔ ” قَالَ رَبِّ الخ “ ابلیس نے عرض کی۔ بارے الٰہا ! قیامت تک مجھے مہلت دیدے اور مجھے طویل زندگی عطا فرما دے۔ فرمایا، قیامت تک نہیں بلکہ فنائے عالم یعنی نفخہ اولی تک تجھے مہلت ہے۔ کہنے لگا مجھے تیرے غلبہ و سلطان کی قسم میں بھی اس آدم کی اولاد کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا، البتہ تیرے مخلص بندے میری دسترس سے باہر ہوں گے۔ ” قَالَ فَالْحَقُّ الخ “ فالحق مبتدا ہے اور ” یَمِیْنِی “ اس کی خبر مقدر ہے۔ فرمایا میری قسم بھی سراپا حق ہے۔ اور میں حق ہی کہتا ہوں۔ ” لَاَمْلَئَنَّ جَھَنَّمَ الخ “ یہ قسم مقدر کا جواب ہے۔ ای واللہ لاملئن۔ فالحق قسمی قسم ہے اور لَاَمْلَئَنَّ اس کا جواب ہے۔ اور ” وَالْحَقَّ اَقُوْلُ “ جملہ معترضہ ہے (روح، بیضاوی، قرطبی، جلالین) ۔ منک، من جنسک وھم الشیاطین ( وَ مِمَّنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ ) من ذریۃ ادم (مدارک ج 4 ص 38) ۔ مجھے اپنی ذات کی قسم میں بھی جہنمی تیری ذریت اور اولادِ آدم میں سے تیری پیروی کرنے والوں ہی سے بھروں گا۔
Top