Mufradat-ul-Quran - Saad : 34
وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ
وَلَقَدْ : اور البتہ فَتَنَّا : ہم نے آزمائش کی سُلَيْمٰنَ : سلیمان وَاَلْقَيْنَا : اور ہم نے ڈالا عَلٰي كُرْسِيِّهٖ : اس کے تخت پر جَسَدًا : ایک دھڑ ثُمَّ اَنَابَ : پھر اس نے رجوع کیا
اور ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک دھڑ ڈال دیا پھر انہوں نے (خدا کی طرف) رجوع کیا
وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمٰنَ وَاَلْقَيْنَا عَلٰي كُرْسِيِّہٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ۝ 34 فتن أصل الفَتْنِ : إدخال الذّهب النار لتظهر جو دته من رداء ته، واستعمل في إدخال الإنسان النار . قال تعالی: يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] (ت ن ) الفتن دراصل فتن کے معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا ہوجائے اس لحاظ سے کسی انسان کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا ۔ لقی( افعال) والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] ، ( ل ق ی ) لقیہ ( س) الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا ۔ قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] تو جادو گروں نے کہا کہ موسیٰ یا تو تم جادو کی چیز ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں ۔ موسیٰ نے کہا تم ہی ڈالو۔ كرس الكُرْسِيُّ في تعارف العامّة : اسم لما يقعد عليه . قال تعالی: وَأَلْقَيْنا عَلى كُرْسِيِّهِ جَسَداً ثُمَّ أَنابَ [ ص/ 34] وهو في الأصل منسوب إلى الْكِرْسِ ، أي : المتلبّد أي : المجتمع . ومنه : الْكُرَّاسَةُ لِلْمُتَكَرِّسِ من الأوراق، وكَرَسْتُ البناءَ فَتَكَرَّسَ ، قال العجاج : يا صاح هل تعرف رسما مکرسا ... قال : نعم أعرفه، وأبلسا والکرْسُ : أصل الشیء، يقال : هو قدیم الْكِرْسِ. وكلّ مجتمع من الشیء كِرْسٌ ، والْكَرُّوسُ : المترکّب بعض أجزاء رأسه إلى بعضه لکبره، وقوله عزّ وجل : وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّماواتِ وَالْأَرْضَ [ البقرة/ 255] فقد روي عن ابن عباس أنّ الكُرْسِيَّ العلم «3» ، وقیل : كُرْسِيُّهُ ملكه، وقال بعضهم : هو اسم الفلک المحیط بالأفلاک، قال : ويشهد لذلک ما روي «ما السّموات السّبع في الکرسيّ إلّا کحلقة ملقاة بأرض فلاة» ک ر س ) الکرسی ۔ عوام کے عرف میں اس شے کو کہتے ہیں جس پر بیٹھاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَأَلْقَيْنا عَلى كُرْسِيِّهِ جَسَداً ثُمَّ أَنابَ [ ص/ 34] اور ان کے تحت پر ایک دھڑڈال دیا پھر انہوں نے ( خدا کی طرف ) رجوع کیا ۔ یہ اصل میں کرسی کی طرف منسوب ہے اور کرس کے معنی ہیں اوپر تلے جم جانے والا اور جمع ہوجانے والا اسی سے کراسۃ ( مجموعہ اوراق ) ہے کر ست البناء فتکرس ۔ میں نے عمارت کی بنیاد رکھی چناچہ وہ بنیاد پڑگئی عجاج نے کہا ہے ( الرجز) (308) یاصاح ھل تعرف رسما مکرسا قانعم اعرفہ واباسا اے میرے دوست کیا تم نشان منزل کو پہنچانتی ہوجہاں کہ اونٹوں کا بول وبراز جماہوا ہے ۔ اس نے کہاں ہاں پہچانتا ہوں اور غم زدہ ہوکر خاموش ہوگیا ۔ الکرسی کسی چیز کی اصل اور بنیاد کو کہتے ہیں ۔ محاورہ ہے ؛ھوقدیم الکرسی اس کی بنیاد پر انی ہے ، اور ہر چیز کے ڈھیر کو کرس کہاجاتا ہے اور کروس کے معنی بڑے سر والا کے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّماواتِ وَالْأَرْضَ [ البقرة/ 255] اس کی ، ، کرسی ، ، آسمان اور زمین سب پر حاوی ہے ۔ کی تفسیر میں ابن عباس مروی ہے ۔ کہ کرسی سے علم باری تعالیٰ مراد ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے ۔ کہ کرسی کے معنی حکومت واقتدا کے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ فلک محیط یعنی فلک الافلاک کا دوسرا نام کرسی ہے ۔ اس کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے ۔ کہ سات آسمان کی مثال کرسی کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے بیابان میں ایک انگوٹھی پڑی ہو ۔ جسد الجَسَد کالجسم لكنه أخصّ ، قال الخلیل رحمه اللہ : لا يقال الجسد لغیر الإنسان من خلق الأرض «3» ونحوه، وأيضا فإنّ الجسد ما له لون، والجسم يقال لما لا يبين له لون، کالماء والهواء . وقوله عزّ وجلّ : وَما جَعَلْناهُمْ جَسَداً لا يَأْكُلُونَ الطَّعامَ [ الأنبیاء/ 8] ، يشهد لما قال الخلیل، وقال : عِجْلًا جَسَداً لَهُ خُوارٌ [ طه/ 88] ، وقال تعالی: وَأَلْقَيْنا عَلى كُرْسِيِّهِ جَسَداً ثُمَّ أَنابَ [ ص/ 34] . وباعتبار اللون قيل للزعفران : جِسَاد، وثوب مِجْسَد : مصبوغ بالجساد «4» ، والمِجْسَد : الثوب الذي يلي الجسد، والجَسَد والجَاسِد والجَسِد من الدم ما قد يبس . ( ج س د ) الجسد ( اسم ) جسم ہی کو کہتے ہیں مگر یہ جسم سے اخص ہے خلیل فرماتے ہیں کہ جسد کا لفظ انسان کے علاوہ دوسری مخلوق پر نہیں بولا جاتا ہے نیز جسد رنگدار جسم کو کہتے ہیں مگر جسم کا لفظ بےلون اشیاء مثلا پانی ہوا وغیرہ پر بھی بولا جاتا ہے اور آیت کریمہ ؛۔ وَما جَعَلْناهُمْ جَسَداً لا يَأْكُلُونَ الطَّعامَ [ الأنبیاء/ 8] کہ ہم ان کے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ کھانا نہ کھاتے ہوں ۔ سے خلیل کے قول کی تائید ہوتی ہے ۔ نیز قرآن میں ہے ۔ عِجْلًا جَسَداً لَهُ خُوارٌ [ طه/ 88] ایک بچھڑا یعنی قالب جس کی آواز گائے کی سی تھی ۔ وَأَلْقَيْنا عَلى كُرْسِيِّهِ جَسَداً ثُمَّ أَنابَ [ ص/ 34] اور ان ک تخت پر ہم نے ایک دھڑ ڈال دیا چناچہ انہوں نے خد ا کی طرف رجوع کیا اور لون کے اعتبار سے زعفران کو جساد کہا جاتا ہے اور زعفران سے رنگے ہوئے کپڑے ثوب مجسد کہتے ہیں ۔ المجسد ۔ کپڑا جو بدن سے متصل ہو الجسد والجاسد والجسد ۔ خشک خون ۔ نوب النَّوْب : رجوع الشیء مرّة بعد أخری. وَأَنِيبُوا إِلى رَبِّكُمْ [ الزمر/ 54] ، مُنِيبِينَ إِلَيْهِ [ الروم/ 31] ( ن و ب ) النوب ۔ کسی چیز کا بار بارلوٹ کر آنا ۔ یہ ناب ( ن ) نوبۃ ونوبا کا مصدر ہے، وَأَنِيبُوا إِلى رَبِّكُمْ [ الزمر/ 54] اپنے پروردگار کی طررجوع کرو ۔ مُنِيبِينَ إِلَيْهِ [ الروم/ 31] ( مومنو) اس خدا کی طرف رجوع کئے رہو ۔ فلان ینتاب فلانا وہ اس کے پاس آتا جاتا ہے ۔
Top