Al-Qurtubi - Saad : 44
وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ
وَخُذْ : اور تو لے بِيَدِكَ : اپنے ہاتھ میں ضِغْثًا : جھاڑو فَاضْرِبْ بِّهٖ : اس سے مار اس کو وَلَا تَحْنَثْ ۭ : اور قسم نہ توڑ اِنَّا : بیشک ہم وَجَدْنٰهُ : ہم نے اسے پایا صَابِرًا ۭ : صابر نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ : اچھا بندہ اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والا
اور اپنے ہاتھ جھاڑو لو اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو بیشک ہم نے ان کو ثابت قدم پایا بہت خوب بندے تھے بیشک وہ رجوع کرنے والے تھے
اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر -1 حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اپنی بیماری کے بارے میں یہ قسم اٹھائی تھی کہ وہ اپنی بیوی کو سوکوڑے ماریں گے اس کے سبب کے بارے میں چار اقوال ہیں : (1) حضرت ابن عباس ؓ نے حکامیت بیان کی ہے کی ابلیس ایک طبیب کی صورت میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ملا جس نے حضت ایوب علیہ السما کے علاج معالہ کے لئے اسے دعوت دی تو ابلیس نے کہا : میں اس کا اس شرط پر علاج کروں گا کہ جب وہ صحت مند ہوجائے تو وہ یہ کہے : تو نے مجھے شفا دی ہے ‘ اس کے سوا میں اس سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا بیوی نے اس بارے میں حضرت ایوب (علیہ السلام) سے مشورہ کیا تو آپ نے قسم اٹھا دی کہ میں ضرور اسے ماروں گا فرمایا : تو ہلاک ہو وہ تو شیطان تھا۔ -2 سعید بن مسیب نے بیان کیا : پہلے جتنی روٹیاں وہ لاتی تھی اس سے زائد وہ روٹیاں لائی تو آپ کو اس کی خیانت کا خوف ہوا تو آپ نے قسم اٹھا دی کہ وہ ضرور اسے ماریں گے۔ -3 جو یحییٰ بن سلام اور دوسرے علماء نے کہا ہے : شیطان نے اسے گمراہ کیا کہ وہ حضرت ایوب کو مجبور کرے کہ وہ ایک بکری کا بچہ اس کی عبادت کے طور پر ذبح کرے اور وہ صحت یاب ہوجائے ‘ بیوی نے اس کا ذکر ان سے کیا تو آپ نے قسم اٹھا دی کہ اگر وہ صحت مند ہوگئے تو اسے سو کوڑے ماریں گے۔ -4 اس نے اپنی مینڈھیاں دو روٹیوں کے عوض بیچیں جب اس نے کوئی چیز نہ پائی کہ وہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے پاس لے جائے حضرت ایوب علیہ اسلام جب اٹھنے کا ارادہ کرتے تو وہ ان مینڈھیوں کا سہارا لیتے اسی وجہ سے آپ نے اس کو مارنے کی قسم اٹھائی۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو شفا دی تو اسے حکم دیا کہ ایک گھٹالیں اور اس کے ساتھ ماریں۔ آپ نے چھوٹی ٹہنیاں لیں ان کی تعداد سو پوری کی اور اسے ایک ہی دفعہ مارا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ضغث سے مراد گھاس کا مٹھا ہے جس میں تر اور خشک تنکے ملے ہوتے ہیں حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد کھجور کی ٹہنی جس میں چھوٹی چھوٹی شاخیں ہیں۔ مسئلہ نمبر -2 یہ آیت اس بات کو ضمن میں لئے ہوئے ہے کہ مرد کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنی بیوی کو ادب سکھانے کے لئے مارے اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی نے غلطی کی تو آپ نے قسم اٹھائی کہ اسے سو کوڑے ماریں گے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ وہ کھجوروں کے گچھے سے ماریں ‘ یہ حدود میں جائز نہیں اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم اس لئے دیا کہ وہ حد ادب سے بڑھ کر اپنی بیوی کو نہ ماریں اس کی وجہ سے یہ ہے کہ خاوند کۃ ے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ ادب سے بڑھ کر اپنی بیوی کو مارے اسی وجہ سے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : و اضربو ھن ضربا عیر مبرج جس طرح سورة نساء میں گذر چکا ہے۔ مسئلہ نمبر -3 علماء نے اس میں اختلاف کیا ہے : کہا یہ حکم عام ہے یا صرف حضرت ایوب (علیہ السلام) کے ساتھ خاص ہے۔ مجاہد سے مروی ہے کہ یہ حکم صرف حضرت ایوب (علیہ السلام) کے ساتھ خاص تھا۔ مہدوی نے عطا بن ابی رباح سے روایت نقل کی ہے کہ وہ اس طرف گئے ہیں کہ یہ حکم باقی ہے جب کسی نے سوشاخوں کے ساتھ ایک ہی دفعہ مارا تو وہ آدمی بری ہوجائے گا ‘ امام شافعی نے اسی کی مثل روایت نقل کی ہے ‘ اسی کی مثل ایک اپاہج کے بارے میں حکم دیا جس سے ایک لونڈی حامل ہوگئی تھی اور آپ نے حکم دیا کہ آپ شاخوں کا گچھا ماریں جس میں چھوٹی سو شاخیں ہوں وہ ایک ہی دفعہ ماریں۔ قشیری نے کہا : عطا سے کہا گیا آج بھی اس پر عمل کیا جاسکتا ہے ؟ فرمایا : قرآن نازل نہیں کیا گیا مگر اس لئے تاکہ آج اس پر عمل کیا جائے اور اس کی پیروی کی جائے۔ ابن عربی نے کہا : عطا سے یہ روایت کی گئی ہے کہ یہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے لئے خاص حکم تھا۔ ابو زید نے ابن قاسم سے وہ امام مالک سے رایت نقل کرتے ہیں جس نے یہ قسم اٹھائی کہ وہ اپنے غلام کو سوکوڑے مارے گا اس نے ان کو جمع کیا اور پھر ایک ہی دعہ اسے مارا تو وہ بری نہ ہوگا۔ ہمارے بعض علماء نے کہا : امام مالک اللہ تعالیٰ نے اس فرمان سے استدلال کرتے لکل جعلنا منکم شرعۃ و منھا جا) المائدہ (48: یہ حکم ہماری شریعت کے ساتھ منسوخ ہے۔ ابن منزر نے کہا : ہم نے حضرت علی شیر خدا ؓ ‘ سے روایت نقل کی ہے کہ آپ نے ولید بن عقبہ کو ایسی چھڑی سے مارا جس کی دو شاخیں تھیں اسے چالیس ضربیں لگائیں امام مالک نے اس کا انکار کیا اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تلاوت کی : فاجلدوا کل واحد منھما مائۃ جلدہ) النور (2: یہ اصحاب الرائی کا نقطہ نظر ہے۔ امام شافعی نے ایک حدیث سے استدلال کیا ہے اس کی سند میں گفتگو کی گئی ہے ‘ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ میں کہتا ہوں : وہ حدیث جس سے امام شافعی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے استدلال کیا ہے اسے ابودائود نے اپنی سنن میں رایت کیا ہے۔ احمد بن سعید ہمدانی ‘ ابن وہب سے وہ یونس سے وہ اپنی شہاب سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ابوامامہ بن سہل بن حنیف نے بیان کیا ہے کہ انہیں ایک انصاری صحابی نے بیان کیا کہ ان میں سے ایک آدمی بیمار ہوا یہاں تک کہ بہت ہی کمزور ہوگیا وہ محض ہڈی پر چمڑا ہی رہ گیا کسی کی لونڈی اس کے پاس آئی ‘ اس کے دل میں لونڈی کے لئے میلان پیدا ہوا اور اس سے اپنی خواہش پوری کر بیٹھا جب اس کی قوم کے افراد اس کے پاس آئے تاکہ اس کی عیادت کریں تو اس مریض نے انہیں سب واقعہ بیان کردیا اور کہا : میرے لئے حضور ﷺ سے فتوی طلب کرو میں سے ایک لونڈی سے خواہش پوری کی ہے جو میرے پاس داخل ہوئی تھی انہوں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا انہوں نے عرض کی : ہم نے کسی میں ایسی تکلیف نہیں دیکھی جو اس کو لاحق اگر ہم اسے آپ کے پاس اٹھا کر لائیں تو اس کی ہڈیاں الگ الگ ہوجائیں وہ محض ہڈیوں پر چمڑا ہی ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ وہ سو چھوٹی شاخص لائیں اور ایک ہی دفعہ اسے ماریں۔ امام شافعی نے کہا : جب ایک آدمی نے کہا میں فلاں کو سو کوڑے ماروں گا یا سو ضربیں لگائوں گا اس نے ضربا شدیدا کا ذکر نہیں کیا اور دل میں اس کی نیت بھی نہ کی تو اس کے لئے وہی ضرب کافی ہے جس کا ذکر قرآن میں ہے وہ حانث نہ ہوگا۔ ابن منزر نے کہا : جب ایک آدمی قسم اٹھائے کہ وہ اپنے غلام کو سو کوڑے مارے گا اور اس نے اسے ہلکے ہلکے کوڑے مارے تو وہ قسم سے بری ہوجائے گا ‘ یہ امام شافعی ‘ ابو ثورا اور اصحاب رائے کا نقطہ نظر ہے۔ امام مالک نے کہا : ضرب وہی ہے جو درد دے۔ مسئلہ نمبر -4 ولا تحنث یہ ارشاد اس عمل پر دلیل ہے کہ قسم میں استثناء حکم کو ختم نہیں کرتی اگرچہ وہ متراخی ہی کیوں نہ ہو اس کے بارے میں بحث سورة مائدہ میں گذر چکی ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : حنث فی یمینہ بحنث جب اس نے قسم کو پورا نہ کیا ہو کو فیوں کے نزدیک وائوزائدہ ہے کلام یوں ہے فاضرب لاتحنث۔ مسئلہ نمبر -5 ابن عربی نے کہا : اللہ تعالیٰ کا فرمان فاضرب بہ ولا تحنث دو وجہوں میں سے ایک پر دلالت کرتا ہے (1) ان کی شریعت میں کفارہ نہ تھا اس میں صرف قسم سے بری ہونا اور قسم توڑنا تھا (2) ان سے نذر صادر ہوئی تھی قسم صادر نہ ہوئی تھی جب نذر معین ہو تو امام مالک اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس پر کفارہ نہیں۔ امام شافعی نے کہا : ہر نذر میں کفارہ ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ قول کہ ان کی شریعت میں کفارہ نہ تھا یہصحیح نہیں کیونکہ حضرت ایوب (علیہ السلام) جب آٹھ سال تک مصیبت میں رہے جس طرح ابن شہاب کی روایت میں ہے تو آپ کے دو صحابہ نے کہا : تیقت آپ نے کوئی ایسا گناہ کیا ہے میرا گمان نہیں کسی کو اس کی خبر ہوئی ہو۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے کہا : میں نہیں جانتا تم کیوں کہتے ہو سوائے اس کے کہ میرا رب جانتا ہے کہ وہ میں دو آدمیوں کے پاس سے گزرتا جو ایک دوسرے کی مدد کرتے تو ہر ایک قسم اٹھاتا یا جماعت کے پاس سے گزرتا جو آپس میں مدد کر رہے ہوتے ‘ میں ان کی قسموں کی طرف سے کفارہ ادا کردیتا تاکہ ان میں سے کوئی بھی گناہ گار نہ ہو وہ اس کا ذکر کرتا ہے یا ذکر نہیں کرتا مگر حق کے ساتھ۔ تو آپ نے اپنے رب کے حضور یہ ندا کی : انی مسنی الضرو انت ارحم الرحمنک۔ ) الانبیائ ( اور حدیث کا ذکر کیا یہ حدیث تجھے یہ فائدہ پہنچاتی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے زمانہ میں کفارہ تا جس کے بغیر اجازت کے کفارہ ادا کیا تو اس نے اس کی طرف سے فریضہ ادا کیا اور دوسرے سے کفارہ ساقط ہوگیا۔ مسئلہ نمبر -6 بعض جاہل زاہدوں اور صوفیوں نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو جو یہ ارشاد فرمایا : ارکض برجلک اس میں رقص کا جواز ہے۔ ابو فرج نے کہا : یہ تو غیر ذمہ دارانہ استدلال ہے کیونکہ اگر آپ کو پائوں مارنے کا حکم خوش سے ہوتا تو اس میں کوئی شبہ ہو سکتا تھا آپ کو پائوں مارے کا حکم اس لئے دیا گیا تاکہ پانی نکلے۔ ابن عقیل نے کہا : وہ آدمی جو کسی مصیبت میں مبتلا ہو اس کے بارے میں کہاں دلالت موجود ہے کہ جب مصیبت رفع ہو تو وہ زمین پر اپنا پائوں مارے تاکہ پانی کا چشمہ ابل پڑے کہ یہ رقص کا اعجاز ہے اگر یہ جائز ہو کہ پائوں کو حرکت دینا یہ اسلام میں رض کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔ تو یہ بھی جائز ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے صادر ہوا اضرب بعصاک الحجر) البقرہ (60: تو اس میں یہ دلالت ہوتی کہ دشمن کو شاخوں سے مرا جائے ہم شرع کے ساتھ اس کھیل سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں۔ بعض کوتاہ اندیشوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی شیر خدا سے فرمایا : انت منی و انا مک تو آپ ایک ٹانک پر چلے آپ نے حضرت جعفر سے فرمایا : اشبھت خلقی و خلقی تو وہ ایک ٹانک پر چلے آپ نے حضرت زید سے فرمایا : انت اخونا و مولانا تو وہ ایک ٹانگ پر چلے ان میں سے کچھ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس سے استدلال کیا ہے کہ حبشیوں نے جنگی کرتب دکھائے جب کہ نبی کریم ﷺ انہیں دیکھ رہے تھے اس کا جواب یہ ہے جہاں تک ” حجل “ کا تعلق ہے یہ چال کی ایک نوع ہے جو خوشی کے موقع پر اپنائی جاتی ہے یہ چال اور رقص کہاں۔ اسی طرح حبشیوں کا ” زفن “ یہ بھی چال کی ایک صورت ہے جو جنگ کے موقع پر اپنائی جاتی ہے۔ مسئلہ نمبر 7 ۔ انا وجدنہ صابرا یعنی ہم نے اسے آزمائش میں صابر پایا۔ نعم العبد انہ واواب۔ وہ توبہ کرنے والے ‘ اللہ کی طرف رجوع کرنے والے اور مطیع ہیں۔ سفیان سے ان دو افراد کے بارے میں سوال کیا گیا کہ ان میں سے ایک کو آزمایا گیا تو اس نے صبر کیا دوسرے پر انعام کیا گیا اس نے شکر کیا تو فرمایا : دونوں برابر ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دونوں بندوں کی طرف کی ہے ان میں سے ایک صابر تھا اور دوسرا شاکر تھا دونوں پر ایک جیسی تعریف کی حضرت ایوب علیہ اسلام کی تعریف میں کہا : نعم العبد انہ اواب۔ اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی تعریف میں کہا گیا : نعم العبد اواب۔۔ میں کہتا ہوں : صاحب القوت نے اس کلام کو رد کیا ہے اور حضرت ایوب علیہ اسلام کے واقعہ سے اس فقیر کی غنی پر فضیلت کا ذکر کیا ہے اور طویل گفتگو جس کے ذریعے اپنی کلام کو قوی کیا ہم نے اس کا ذکر کتاب منہج العباد رمحجۃ السالکین و الزھاد میں کیا ہے ان پر یہ امر مخفی رہا کہ آزمائش سے قبل اس کے بعد حضرت ایوب (علیہ السلام) غنی انبیاء میں سے تھے آپ کے امتحان آپ کے مال اور اولاد کے چلے جانے اور جسم میں پڑی بیماری کی صورت میں ہوا تھا اسی طرح دوسرے انبیاء نے بھی صبر کیا جو بھی ان پر امتحان آیا اور انہیں آزمائش میں ڈالا گیا۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) جس کیفیت میں امتحان میں داخل ہوئے اس کیفیت میں اس سے نکلے نہ ان کی حالت بدلی اور نہ ہی ان کی گفتگو بدلی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) معنی مقصود میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کے ساتھ جمع ہوئے وہ تبدیلی کا نہ ہوتا تھا جس میں بعض لوگ بعض پر فضیلت رکھتے ہیں اس اعتبار سے غنی شاکر اور فقیر صبر برابر ہیں بات اسی طرح ہے جس طرح سفیان نے کہی۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ ابن شہاب نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) نکلے جب وہ اپنی حاجت کے لئے اس کی طرف نکلا کرتے تھے تو اللہ نے ان کی طرف وحی کی : اپنا پائوں زمین کی طرف مارو ‘ یہ ٹھنڈا پانی ہے اور مشروب ہے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اس سے غسل کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کا گوشت ‘ بال اور جلد خوبصورت ترین انداز میں لوٹا دی پھر اس پانی کو پیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی پیت میں جود درد دیا کمزوری تھی اس کو دور کردیا اللہ تعالیٰ نے آسمان سے ان کے لئے سفید کپڑے اتارے ایک کو آپ نے تہبند بنایا اور دوسری کو چادر بنایا پھر چلتے ہوئے اپنے گھر کی طرف آئے اور بیوی پر آنے میں دیر کی وہ بیوی آئی یہاں تک کہ آپ کو ملی جب کہ وہ آپ کی پہچان نہیں رہی تھی اس نے آپ کو سلام کیا پوچھا اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے : کیا تو نے اس آزمائش میں پڑے آدمی کو دیکھا ہے : آپ نے پوچھا : وہ کون ہے ؟ بیوی نے کہا : اللہ کے نبی حضرت ایوب (علیہ السلام) ۔ اللہ کی قسم ! میں کسی کو تجھ سے بڑھ کر اس سے زیادہ مشابہ نہیں دیکھا جب وہ تندرست تھے فرمایا : میں ایوب ہوں۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے ایک گھٹا لیا اور بیوی کو مارا۔ ابن شہاب نے گمان کیا ہے : وہ گھٹا ثمامہ بوٹیکا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کے اہل اور ان کی مثل ان کی طرف لوٹا دیئے ایک بادل آیا وہ اس جگہ سونے کے ساتھ برسا جہاں گندم صاف کی جاتی یہاں تک کہ اس جگہ کو بھر دیا ایک دوسرا بادل اسی جگہ کی طرف آیا جہاں جو صاف کیے جاتے اور قطانیہ) چنے کی قسم کے دانے ( صاف کیے جاتے وہ چاندی کے ساتھ برسا یہاں کہ وہ بھر گیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے عبدنا پڑھا ہے یہ سند صحیح کے ساتھ ثابت ہے۔ ابن عینیہ نے عمرو سے وہ عطا سے روایت نقل کرتے ہیں وہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتا ہیں ‘ یہ مجاہد حمید ابن محیصن اور ابن کثیر کی قراءت ہے اس قراءت کی بنا پر ابراھیم ‘ عبدنا سے بدل ہوگا اور اسحاق و یعقوب اس پر معطوف ہونگے اس صورت میں ابراہیم اور مابعد اس کا بدل ہونگے۔ عربی لغت کے مطابق اس کی شرح یہ ہوگی جب تو کہے : رایت اصحابنا زیدا و عمرو خالدا تو اس صورت میں زید ‘ عمرو ‘ خالد بدل ہونگے وہی اصحاب ہیں جب تو کہے : رایت صاحبنا زیدا عمرا و خالدا تو صرف زید بدل ہوگا عمرو اور خالد کا عطف صاحبنا پر ہو وہ وہ مصاحبت میں داخل نہیں مگر اس کے علاوہ دلیل سے مگر اسے یہ علم ہے و اسحاق و یعقوب عبودیت میں داخل ہیں۔ جس نے یہ کہا تھا کہ ذبیح حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہیں حضرت اسماعیل علیہ اسلام نہیں اس نے اسی آیت سے استدلال کیا جس طرح ہم نے اپنی کتاب الاعلام بمولدالنبی (علیہ السلام) میں زکر کیا ہے ‘ یہی قول صحیح ہے۔ اولی الایدی والابصار نحاس نے کہا جہاں تک الابصار کا تعلق ہے اس کی تاویل پر تو اتفاق ہے کہ یہاں بصائر سے مراد دین اور علم میں بصیرتیں ہیں جہاں تک الایدی کا تعلق ہے تو اس کی تاویل میں اختلاف ہے۔ اہل تفسیر کہتے ہیں اس سے مراد قوت ہے ایک قوم کہتی ہے : الای یہ ہد کی جمع ہے جس سے مراد نعمت ہے وہ نعمتوں والے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس سے مراد یہ انعام و احسان کرنے والے لوگ ہیں انہوں نے احسان کیا اور بھلائی کو آگے بھیجا ‘ یہ طبری کا نقطہ نظر ہے۔ وانھم عند نا لمن المصطفین الاخیا ر۔ یعنی یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اون اس سے پاک کیا اور اپنی رسالت کے لئے پسند کیا مصطفین یہ مصطفیٰ کی جمع ہے اصل میں مصتفی تھا۔ سورة بقرہ میں اس کی وضاحت گذر چکی ہے۔ ان اللہ اصطفی لکم الدین۔ آیت 132 ۔ اخیار یہ خیر کی جمع ہے۔ اعمش ‘ عبدالوارث ‘ حسن بصری اور عیسیٰ ثقفی نے اولی الایدیاء کے بغیر پڑھا ہے یہ وقف اور وصل کی صورت میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں وہ قوی تھے۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس کا معنی جماعت کی قراءت کے مطابق ہو اور یاء تخفیف کے طور پر حذف ہو۔ انا اخلصنھم بخالصۃ ذکری الدار۔ عام قراء کی قراءت بخالصۃ تنوین کی صورت میں ہے ‘ یہ ابو عبیدہ اور ابو حاتم کا اختیار ہے۔ نافع ‘ شیبہ ‘ ابو جعفر اور ہشام نے اب عامر سے بخالصۃ ذکری الدار ضافت کی صورت میں پڑھا ہے جس خالص پر تنوین پڑھی ہے اس نے ذکری الدار کو بدل بنایا ہے تقدیر کلام یوں ہوگی : انا اخلھنا ہم بان یذکر والدار الاخرۃ ہم نے انہیں خالص کیا کہ وہ دار آخرت کو یاد کریں ‘ اس کے لئے تیاری کریں ‘ اس میں رغبت کریں اور لوگوں میں رغبت دلائیں۔ یہ بھی جائز ہے کہ خالصۃ ‘ خلص کا مصدر ہو ذکری رفع کے محل میں ہو کیونکہ یہ فاعل ہے معنی ہوگا ہم نے انہیں خالص کیا یعنی میں نے ان کے لئے دارآخرت کے ذکر کو خالص کیا۔ یہ بھی جائز کہ خالصۃ ‘ اخلصت کا مصدر ہوتا زیادتی حذف ہوگئی اس صورت میں ذکری محل نصب میں ہوگا تقدیر کلام یوں ہوگی بان اخلصوا ذکری الدار۔ دار سے مراد دنیا لینا بھی جائز ہے معنی یہ ہوگا وہ دنیا سے نصیحت حاصل کریں اس میں زہد اپنائیں تاکہ ان کے لئے اچھی تعریف خالص ہو جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و جعلنالھم لسان صدق) مریم (50: یہ بھی جائز ہے کہ اس سے مراد دار آخرت ہو اور مخلوق کو یاد لا کر نصحیت کی گئی جس نے خالصہ کو الدار کی طرف مضاف کیا ہے تو اس صورت میں یہ الاخلاص کے معنی میں مصدر ہے الذکر مفعول بہ ہے جو فائل کی طرف مضاف ہے اور خالصہ یہ مصدر ہے خلوص کے معنی میں ہے یعنی میں نے ان کے لئے دار کا ذکر خالص کردیا۔ دار سے مراد دنیا ہو یا آخرت ہو جس طرح پہلے گذرا ہے۔ ابن زین نے کہا : معنی ہوگا وہ آخرت کا ذکر کرتے ہیں وہ اس میں رغبت رکھتے ہیں اور دنیا میں زہد اختیار کرتے ہیں۔ مجاہد نے کہا : معنی ہے ہم نے ان کے لئے جنت کا ذکر کیا۔
Top