Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Urwatul-Wusqaa - Saad : 44
وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ
وَخُذْ
: اور تو لے
بِيَدِكَ
: اپنے ہاتھ میں
ضِغْثًا
: جھاڑو
فَاضْرِبْ بِّهٖ
: اس سے مار اس کو
وَلَا تَحْنَثْ ۭ
: اور قسم نہ توڑ
اِنَّا
: بیشک ہم
وَجَدْنٰهُ
: ہم نے اسے پایا
صَابِرًا ۭ
: صابر
نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ
: اچھا بندہ
اِنَّهٗٓ
: بیشک وہ
اَوَّابٌ
: (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والا
(ہم نے کہا کہ) پراگندہ لوگوں کو اپنے ہاتھ میں لے (جمع کر) پس دشمن پر حملہ کر اور اپنے کیے ہوئے وعدوں کے خلاف مت کر بلاشبہ ہم نے اس کو صابر پایا
ہم نے کہا کہ پراگندہ لوگوں کو جمع کر کے مخالف گروہ پر اپ حملہ کردو 44۔ زیر نظر آیت میں دو لفظ (ضغث) اور ( تحنث) کے آئے ہیں ان الفاظ کی بحث تو آپ کو ایوب (علیہ السلام) کی سرگزشت میں ملے گی جہاں ہم نے مفسرین کے مفہوم کی تردید کرتے ہوئے اصل اور صحیح مفہوم بھی بیان کردیا ہے اور اس آیت کا مطلب و مفہوم بھی واضح کردیا ہے۔ اس جگہ صرف وہ بات عرض کرنا ہے جو ہمارے مفسرین نے بیان کی ہے جس کا ملخص یہ ہے ” امام احمد (رح) نے کتاب الزید میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایوب (علیہ السلام) کی بیماری کے زمانہ میں ایک بار شیطان ایک طبیب کے روپ میں ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ملا تھا اسے انہوں نے طبیب سمجھ کر درخواست کی اس نے کہا اس شرط سے کہ اگر ان کو شفا ہوجائے تو یوں کہہ دینا کہ تو نے ان کو شفا دی میں اور کچھ نذرانہ نہیں چاہتا۔ انہوں نے ایوب (علیہ السلام) سے اس طبیب کا ذکر کیا ، علاج بتایا اور جو بات اس نے صحت ملنے کے بعد کہنے کو کہی تھی وہ سب عرض کی۔ ایوب (علیہ السلام) نے بیوی سے کہا خدا کی بندی وہ تو شیطان تھا میں عہد کرتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھ کو شفا دے دی تو میں تجھ کو سو کوڑے ماروں گا اور یہ بات آپ نے قسم کھا کر کہی کیونکہ آپ کو سخت رنج ہوا اس سے کہ میری بیماری کی بدولت شیطان کا یہاں تک حوصلہ بڑھا کہ خاص میری بیوی سے ایسے کلمات کہلوانا چاہتا ہے جو ظاہرا موجب شرک ہیں گو تاویل سے مشرک نہ ہوں۔ اگرچہ ایوب ازالہ دعا کے لیے پہلے بھی دعا کرچکے تھے مگر اس سے واقعہ سے اور زیادہ ابتہال اور تضرع سے دعا کی اور اللہ نے آپ کو کلی صحت مند ہونے کا طریقہ بتایا آپ نے ایسا کیا تو آپ کو صحت مل گئی اور صحت آجانے کے بعد آپ کو خیال پیدا ہوا کہ اگر قسم پوری کرتا ہوں تو خواہ مخواہ ایک بےگناہ کو مارنا پڑتا ہے اور قسم توڑتا ہوں تو گناہ کا ارتکاب ہوتا ہے۔ جب آپ اس مشکل میں پھنس گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس مشکل سے اس طرح نکلالا کہ انہیں حکم دیا کہ ایک جھاڑو لو جس میں سو تنکے ہوں جتنے کوڑے تم نے مارنے کی قسم کھائی تھی اس جھاڑو سے اپنی بی بی کو ایک ضرب (نہایت پیار) کے ساتھ لگا دو تاکہ تمہاری قسم بھی پوری ہوجائے اور اس کو کوئی تکلیف بھی نہ ہو ۔ ہمارے پرانے اور نئے مفسرین نے یہ کہانی تحریر کرنے کے بعد اس کو قرآن کریم کا حیلہ قرار دیا ہے اور اس کی بہت تعریف کی ہے اور ہمارے فقہاء نے اس آیت کو اصل قرار دے کر اس پر اپنی کتاب الحیل کی بنیاد رکھی ہے اور کتاب الحیل میں جو جو حیلے بہانے بیان کیے گئے ہیں ان کی تفصیل بہت لمبی ہے اور ہمارے مفسرین ، ہمارے مفتیانِ شرع متین ، ہمارے علمائے کرام اور ہمارے پیروں ، بزرگوں نے جو جو اس سے فوائد حاصل کئے ہیں ان کی داستان بھی بہت لمبی ہے اور آج تک مذہبی راہنما اور ٹھیکہ دار جو فوائد ان سے حاصل کر رہے ہیں ص وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ ہمارے سید مودودی (رح) رقم طراز ہیں کہ ” بعض لوگوں نے اس آیت کو حیلہ شرعی کے لیے دلیل قرار دیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ ایک حیلہ ہی تھا جو ایوب (علیہ السلام) کو بتایا گیا تھا لیکن وہ کسی فرض سے بچنے کے لیے بلکہ ایک برائی سے بچنے کے لیے بتایا گیا تھا لہٰذا شریعت میں صرف وہ حیلے جائز ہیں جو آدمی کو اپنی ذات یا کسی دوسرے شخص سے ظلم اور گناہ اور برائی کو دفع کرنے کے لیے اختیار کیے جائیں۔ “ سید صاحب نے اس کی وضاحت نہیں فرمائی کہ وہ کونسی برائی تھی جس کے لیے اللہ میاں کو اپنے بنی ایوب (علیہ السلام) کو حیلہ سکھانا پڑا اور وہ برائی کس نے کی تھی ؟ ظاہر ہے کہ وہ ایوب (علیہ السلام) ہی تھی جو اللہ تعالیٰ کا ایک نبی تھا اب سوال یہ ہے کہ کیا نبی بھی برائی کرتا ہے ؟ پھر اگر برائی ہوجائے تو اس کے لیے علاج کیا ہے آج تک تو یہی قرآن و حدیث میں پڑھتے ، سنتے آئے تھے کہ اس کا علاج توبہ لیکن سید صاحب (رح) کے بقول برائی کا ازالہ توبہ نہیں بلکہ حیلہ اور بہانہ ہے۔ سید صاحب (رح) نے ایسا کیوں لکھا ؟ اس لیے کہ انہوں نے زندگی میں جو برائیاں کیں ہماری مراد ان کی ذاتی برائیوں سے نہیں بلکہ قومی برائیوں سے ہے ان کے لے و وہ ہمیشہ حیلے اور بہانے ہی کرتے رہے توبہ آپ کو نصیب نہیں ہوئی اور وہ کیسے نصیب ہو سکتی تھی کہ انہوں نے برائی کا ازالہ توبہ کو سمجھا ہی نہ تھا بلکہ وہ حیلہ اور بہانہ ہی کو برائی کا ازالہ سمجھتے تھے اور وہی کرتے رہے لیکن سید صاحب (رح) کی قومی برائیوں میں سے ایک ایک برائی ایسی ہے کہ اب وہ اس طرح جڑ پکڑ چکی ہے کہ اس کا پورا پورا ثواب سید صاحب کو مل رہا ہے اور ملتا رہے گا کیونکہ آپ کے سارے حیلے قرآن کریم کی اس تفہیم کے تابع تھے۔ آپ کے حیلوں کی پوری تفصیل تو اس جگہ بیان نہیں کی جاسکتی البتہ نشاندہی کے لیے دو تین حیلوں کا اس جگہ ذکر کردینا ضروری ہے تاکہ قارئین کرام یہ نہ سمجھیں کہ ہم نے سید صاحب (رح) کے بارے میں جو تحریر کیا ہے وہ سراسر زیادتی ہے اور ظلم ہے اور آپ کی جماعت سے شاید ہم کو کوئی کدورت ہے۔ حاشاء اللہ کہ ایسا کوئی بات ہو ، سید مودودی (رح) کی عزت و احترام ہمارے دل کی گہراہیوں تک موجود ہے آپ کی خوبیوں کا ہمیں اعتراف ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے ہماری عقیدت اندھی عقیدت نہٰں اور کسی کی عزت و احترام کا مطلب ہم یہ نہیں سمجھتے کہ اس کی اندھی تقلید کی جائے اور اس کی ہر بات پر صاد ڈال دیا جائے۔ یہ بات ہم کو اس لیے تحریر کرنا پڑی کہ عقیدہ و نظریہ ہی ایک ایسی چیز ہے جس کا نہایت گہرا اثر انسان کے اعمال پر پڑتا ہے اس لیے جب کوئی قوم یا فرد غلط عقیدہ و نظریہ قائم کرلیتا ہے تو اس کا نقصان بہت بڑا ہوتا ہے جس کا ازالہ ناممکن نہیں تو نہایت مشکل ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے مذہبی راہنمائوں کا جب عقیدہ و نظریہ یہ ہوا کہ حیلے اور بہانے بوقت ضرورت جائز اور درست ہوتے ہیں اور انہوں نے اس نظریہ اور عقیدہ کے لیے قرآن کریم کو بنیاد قرار دے دیا تو باقی کیا رہ گیا ؟ اب ہر آنے والے عالم کی مرضی کی بات ہے کہ وہ ایک حیلہ کرے اور اس کے دلائل قائم کر کے قرآن کریم کی اس آیت اور اس جیسی دوسری آیات سے سند جواز پیش کر دے اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے علمائے کرام یہی کچھ کر رہے ہیں یہاں تک کہ ان کی پوری زندگی کا ہر پہلو اور ہر ایک عمل اس پالیسی پر قائم ہے خواہ وہ علماء کسی فرقہ اور کسی گروہ کے ساتھ تعلق رکھتے ہوں۔ عوام تو کالانعام ہیں ان کو کیا معلوم کہ ہمارے مذہبی پیشوائوں کا یہ سارا عمل اس حیلہ اور بہانہ کے سان پر چڑھایا گیا ہے اس لیے وہ اس طرح کی دلیلیں پیش کر رہے ہیں۔ بہر حال اس کی تفصیلات تو اس قدر ہیں کہ اگر ان میں الجھگئے تو بات کبھی ختم نہیں ہوگی ہم سید مودودی (رح) کے دو تین حیلوں کا ذکر کرنا ہے تاکہ جو بات ہم نے کہی ہے اس کی دلیل ہمارے بھائیوں اور بزرگوں کو معلوم ہو سکے اگرچہ ہم کو یہ بھی معلوم ہے کہ اس کا کچھ اثر نہیں ہوگا کیونکہ ایسی باتوں کا اثر بہت کم ہی ہوا کرتا ہے ، عقیدت درمیان میں حائل ہوجاتی ہے۔ 1۔ ایک وقت تھا کہ ہندوستان کی تقسیم کی باتیں زبان زد خاص و عام تھیں اور کانگریس اور مسلم لیگ کی پینگیں زور و شور سے چڑھائی جا رہی تھیں تو سید مودودی (رح) زور شور سے ان دونوں کے خلاف لکھ رہے تھے اور کسی کی حمایت کو کفر سمجھتے تھے اور آپ کا موقف تھا کہ ” شرک ہونے کی حیثیت انگریزی اقتدار اعلٰی اور جمہوری اقتدار اعلٰی میں کوئی فرق نہیں ہے لہٰذا ان لوگوں کی دعوت سراسر غیر اسلامی بلکہ مخالف اسلام ہے۔ “ (ترجمان القرآن جنوری 1941) غور کیجیے کہ جو بات شرک تھی وہ چند سال بعد عین اسلام ہوگئی ، کیوں اور کیسے ؟ اس حیلہ کے تحت جو مولانا کے خیال میں اللہ تعالیٰ نے خود ایوب (علیہ السلام) کو سکھایا اور جو حیلہ اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو ( کذلک کدنا لیوسف) کہہ کر سکھایا۔ ظاہر ہے کہ ضرورت کے وقت اگر اللہ میاں اپنے نبیوں اور رسولوں کے اس طرح کے حیلے سکھاتا رہا ہے تو سید مودودی (رح) آخر خالصتا شرک کو کیوں خالصتا اسلام نہیں بنا سکتے اس سے زیادہ جواز کی صورت آخر اور کیا ہو سکتی ہے۔ 2۔ جب تک جماعت اسلامی جمہوری اقتدار کی مخالف تھی اس ملک کے باشندے جو اسلام کو اپنی قومیت سمجھتے اور کہتے تھے وہ مسلمان کہلانے کے حق دار نہ تھے لیکن جونہی سید مودودی (رح) کو اسلامی جمہوریت کا پٹا اپنے گلے میں ڈالنا پڑا اور انہوں نے اللہ میاں کے بنائے ہوئے حیلہ کے مطابق اپنے گلے میں ڈال لیا تو وہ سارے لوگ پکے مسلمان ہوگئے اور خصوصا ان کے اسلام میں تو کوئی شک و شبہ نہ رہا جنہوں نے سید مودودی (رح) کی جماعت کو ووٹ دیا اگرچہ باقی کا ایمان پھر بھی مشتبہ رہا حالانکہ اس جمہوری اقتدار کا قلادہ پہننے سے پہلے سید مودودی (رح) واضح الفاظ میں لکھتے رہے کہ : ” دراصل اصطلاحا و نسلا مسلمان ہونا اور چیز ہے اور نظریہ حیات و مقصد زندگی کا اسلامی ہونا بالکل ایک دوسری چیز ہے جو لوگ روح و اخلاق کے لحاظ سے مسلم نہ ہوں بلکہ محض اصطلاحی و نسلی حیثیت سے مسلمان ہوں ان کو اگر بیرونی اثر و اقتدار سے کامل آزادی نصیب بھی ہوجائے اور اگر ان کے جمہور کو خود اپنی پسند کے مطابق نظام حکومت قائم کرنے کا پورا اختیار بھی حاصل ہو تب بھی حکومت الہٰی وجود میں نہیں آسکتی وہ اپنے دنیوی مفاد کے پرستار ہوتے ہیں نہ صرف یہ کہ ان میں حق و صداقت کے لے اپنے مفاد کو قربان کرنے کی طاقت نہیں ہوتی بلکہ اس کے برعکس جب کبھی ان کی اغراض دنیوی سے حق اور صداقت کا تصادم ہوتا ہے وہ حق کو چھوڑ کر ہمیشہ اس طرف جاتے ہیں جس طرف ان کی اغراض پوری ہوتی ہیں جہاں ایسے لوگوں کی اکثریت ہو وہاں کبھی یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ عام انتخاب میں ان کے ووٹوں سے وہ صالحین منتخب ہوں کے جو منہاج نبوت پر حکومت کرنے والے ہوں۔ جمہوری انتخاب کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے دودھے کو ہلا کر مکھن نکالا جاتا ہے۔ اگر دودھ زہریلا ہو تو اس سے جو مکھن نکلے گا قدرتی بات ہے کہ وہ دودھ سے زیادہ زہریلا ہوگا۔ “ ( ترجمان القرآن جنوری 1941) لیکن جوں ہی جماعت اسلامی نے جمہوری اقتدار میں حصہ لیا تو سارے لوگ پکے اور سچے مسلمان ہوگئے اور وہ جو زہر تھا سب امرت ہوگیا ، کیسے ؟ اس حیلہ کے تحت جو اللہ میاں نے اپنے نبی ایوب (علیہ السلام) کو اور یوسف (علیہ السلام) کے بتایا اور سید مودودی (رح) کے ہاتھ یہ نسخہ آگیا۔ 3۔ نظریہ جہاد کے متعلق جو تبدیلی سید مودودی (رح) کے نظریہ میں آئی وہ بھی یقینا اسی حیلہ کا باعث تھی کیونکہ جماعت نے اپنا صحیح اسلامی نظریہ جہاد استعمال کر کے دیکھا تو ہر طرف سے لوگوں نے جماعت اسلامی کو نشانہ بنایا تو جماعت کے قائد و راہنما بوکھلا گئے اور حیلہ الٰہی کے تحت اس کا ایسا رنگ بدلا کہ اب اپنی جماعتی فکر اور ملک کی فکر دامن گیر نہ رہی یہاں تک کہ اپنی اور اپنے ملک کے باشندوں کی اصلاح کو چھوڑ کر جہاد کا نعرہ اپنانا ذریعہ معاش بنا لیا کہ گزشتہ فروگزاشتوں کا ازالہ ہو سکے۔ اس حقیقت کو ہر پڑھا لکھا آدمی سمجھتا ہے ہم اس بحث کو لمبا نہیں کرتا چاہتے۔ یہ تو سید مودودی (رح) کی حیلہ سازیاں تھیں اور دوسری مذہبی جماعتوں کی حیلہ سازیاں اس سے بھی زیادہ عیاں ہیں بلکہ اس دور میں تو مذہبی قائدین و رہنما انہی حیلہ سازیوں کے باعث نئی نئی جماعیں بنا رہے ہیں اور نئے نئے قائدین میں آئے دنوں اضافہ ہو رہا ہے اور ہر ایک جماعت کی دس دس جماعتیں بن رہی ہیں لیکن ان حیلہ سازیوں سے استفادہ میں سب برابر کے شریک ہیں کیونکہ یہی ایک نسخہ ہے جو سب کے لیے یکساں مفید ہے خواہ کوئی گرم مزاج رکھتا ہو یا سرد ، کوئی سوادی مزاج کا حامل ہو یا صفراوی کا کیونکہ یہ مرکب سب کے لیے ایک ہی طرح مفید ہے اور سو بیماریوں کا ایک ہی علاج ۔ بہر حال آپ زیر نظر آیت میں براہ راست غور کریں گے اور ان مذہبی گروہ بندیوں سے ہٹ کر یا خالی الذہن ہو کر دیکھیں گے تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ قرآن ِ کریم کی اس آیت میں نہ تو کسی قسم کو کوئی ذکر ہے اور نہ ہی کسی جھاڑو کو مار کر قسم پوری کرنے کا کوئی حیلہ یہ ہدایات ہیں جو ایوب (علیہ السلام) کو ہجرت کے وقت دی جارہی ہیں اور نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کو ہجرت کی پیش گوئی کی طرف اشارہ دیا جارہا ہے اور طریقہ سمجھایا جا رہا ہے جو آپ نے خوب سمجھا ہے اور اس حکم کے مطابق ہجرت کی ابتدا فرمائی ہے۔
Top