Urwatul-Wusqaa - Saad : 44
وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ
وَخُذْ : اور تو لے بِيَدِكَ : اپنے ہاتھ میں ضِغْثًا : جھاڑو فَاضْرِبْ بِّهٖ : اس سے مار اس کو وَلَا تَحْنَثْ ۭ : اور قسم نہ توڑ اِنَّا : بیشک ہم وَجَدْنٰهُ : ہم نے اسے پایا صَابِرًا ۭ : صابر نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ : اچھا بندہ اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والا
(ہم نے کہا کہ) پراگندہ لوگوں کو اپنے ہاتھ میں لے (جمع کر) پس دشمن پر حملہ کر اور اپنے کیے ہوئے وعدوں کے خلاف مت کر بلاشبہ ہم نے اس کو صابر پایا
ہم نے کہا کہ پراگندہ لوگوں کو جمع کر کے مخالف گروہ پر اپ حملہ کردو 44۔ زیر نظر آیت میں دو لفظ (ضغث) اور ( تحنث) کے آئے ہیں ان الفاظ کی بحث تو آپ کو ایوب (علیہ السلام) کی سرگزشت میں ملے گی جہاں ہم نے مفسرین کے مفہوم کی تردید کرتے ہوئے اصل اور صحیح مفہوم بھی بیان کردیا ہے اور اس آیت کا مطلب و مفہوم بھی واضح کردیا ہے۔ اس جگہ صرف وہ بات عرض کرنا ہے جو ہمارے مفسرین نے بیان کی ہے جس کا ملخص یہ ہے ” امام احمد (رح) نے کتاب الزید میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایوب (علیہ السلام) کی بیماری کے زمانہ میں ایک بار شیطان ایک طبیب کے روپ میں ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ملا تھا اسے انہوں نے طبیب سمجھ کر درخواست کی اس نے کہا اس شرط سے کہ اگر ان کو شفا ہوجائے تو یوں کہہ دینا کہ تو نے ان کو شفا دی میں اور کچھ نذرانہ نہیں چاہتا۔ انہوں نے ایوب (علیہ السلام) سے اس طبیب کا ذکر کیا ، علاج بتایا اور جو بات اس نے صحت ملنے کے بعد کہنے کو کہی تھی وہ سب عرض کی۔ ایوب (علیہ السلام) نے بیوی سے کہا خدا کی بندی وہ تو شیطان تھا میں عہد کرتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھ کو شفا دے دی تو میں تجھ کو سو کوڑے ماروں گا اور یہ بات آپ نے قسم کھا کر کہی کیونکہ آپ کو سخت رنج ہوا اس سے کہ میری بیماری کی بدولت شیطان کا یہاں تک حوصلہ بڑھا کہ خاص میری بیوی سے ایسے کلمات کہلوانا چاہتا ہے جو ظاہرا موجب شرک ہیں گو تاویل سے مشرک نہ ہوں۔ اگرچہ ایوب ازالہ دعا کے لیے پہلے بھی دعا کرچکے تھے مگر اس سے واقعہ سے اور زیادہ ابتہال اور تضرع سے دعا کی اور اللہ نے آپ کو کلی صحت مند ہونے کا طریقہ بتایا آپ نے ایسا کیا تو آپ کو صحت مل گئی اور صحت آجانے کے بعد آپ کو خیال پیدا ہوا کہ اگر قسم پوری کرتا ہوں تو خواہ مخواہ ایک بےگناہ کو مارنا پڑتا ہے اور قسم توڑتا ہوں تو گناہ کا ارتکاب ہوتا ہے۔ جب آپ اس مشکل میں پھنس گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس مشکل سے اس طرح نکلالا کہ انہیں حکم دیا کہ ایک جھاڑو لو جس میں سو تنکے ہوں جتنے کوڑے تم نے مارنے کی قسم کھائی تھی اس جھاڑو سے اپنی بی بی کو ایک ضرب (نہایت پیار) کے ساتھ لگا دو تاکہ تمہاری قسم بھی پوری ہوجائے اور اس کو کوئی تکلیف بھی نہ ہو ۔ ہمارے پرانے اور نئے مفسرین نے یہ کہانی تحریر کرنے کے بعد اس کو قرآن کریم کا حیلہ قرار دیا ہے اور اس کی بہت تعریف کی ہے اور ہمارے فقہاء نے اس آیت کو اصل قرار دے کر اس پر اپنی کتاب الحیل کی بنیاد رکھی ہے اور کتاب الحیل میں جو جو حیلے بہانے بیان کیے گئے ہیں ان کی تفصیل بہت لمبی ہے اور ہمارے مفسرین ، ہمارے مفتیانِ شرع متین ، ہمارے علمائے کرام اور ہمارے پیروں ، بزرگوں نے جو جو اس سے فوائد حاصل کئے ہیں ان کی داستان بھی بہت لمبی ہے اور آج تک مذہبی راہنما اور ٹھیکہ دار جو فوائد ان سے حاصل کر رہے ہیں ص وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ ہمارے سید مودودی (رح) رقم طراز ہیں کہ ” بعض لوگوں نے اس آیت کو حیلہ شرعی کے لیے دلیل قرار دیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ ایک حیلہ ہی تھا جو ایوب (علیہ السلام) کو بتایا گیا تھا لیکن وہ کسی فرض سے بچنے کے لیے بلکہ ایک برائی سے بچنے کے لیے بتایا گیا تھا لہٰذا شریعت میں صرف وہ حیلے جائز ہیں جو آدمی کو اپنی ذات یا کسی دوسرے شخص سے ظلم اور گناہ اور برائی کو دفع کرنے کے لیے اختیار کیے جائیں۔ “ سید صاحب نے اس کی وضاحت نہیں فرمائی کہ وہ کونسی برائی تھی جس کے لیے اللہ میاں کو اپنے بنی ایوب (علیہ السلام) کو حیلہ سکھانا پڑا اور وہ برائی کس نے کی تھی ؟ ظاہر ہے کہ وہ ایوب (علیہ السلام) ہی تھی جو اللہ تعالیٰ کا ایک نبی تھا اب سوال یہ ہے کہ کیا نبی بھی برائی کرتا ہے ؟ پھر اگر برائی ہوجائے تو اس کے لیے علاج کیا ہے آج تک تو یہی قرآن و حدیث میں پڑھتے ، سنتے آئے تھے کہ اس کا علاج توبہ لیکن سید صاحب (رح) کے بقول برائی کا ازالہ توبہ نہیں بلکہ حیلہ اور بہانہ ہے۔ سید صاحب (رح) نے ایسا کیوں لکھا ؟ اس لیے کہ انہوں نے زندگی میں جو برائیاں کیں ہماری مراد ان کی ذاتی برائیوں سے نہیں بلکہ قومی برائیوں سے ہے ان کے لے و وہ ہمیشہ حیلے اور بہانے ہی کرتے رہے توبہ آپ کو نصیب نہیں ہوئی اور وہ کیسے نصیب ہو سکتی تھی کہ انہوں نے برائی کا ازالہ توبہ کو سمجھا ہی نہ تھا بلکہ وہ حیلہ اور بہانہ ہی کو برائی کا ازالہ سمجھتے تھے اور وہی کرتے رہے لیکن سید صاحب (رح) کی قومی برائیوں میں سے ایک ایک برائی ایسی ہے کہ اب وہ اس طرح جڑ پکڑ چکی ہے کہ اس کا پورا پورا ثواب سید صاحب کو مل رہا ہے اور ملتا رہے گا کیونکہ آپ کے سارے حیلے قرآن کریم کی اس تفہیم کے تابع تھے۔ آپ کے حیلوں کی پوری تفصیل تو اس جگہ بیان نہیں کی جاسکتی البتہ نشاندہی کے لیے دو تین حیلوں کا اس جگہ ذکر کردینا ضروری ہے تاکہ قارئین کرام یہ نہ سمجھیں کہ ہم نے سید صاحب (رح) کے بارے میں جو تحریر کیا ہے وہ سراسر زیادتی ہے اور ظلم ہے اور آپ کی جماعت سے شاید ہم کو کوئی کدورت ہے۔ حاشاء اللہ کہ ایسا کوئی بات ہو ، سید مودودی (رح) کی عزت و احترام ہمارے دل کی گہراہیوں تک موجود ہے آپ کی خوبیوں کا ہمیں اعتراف ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے ہماری عقیدت اندھی عقیدت نہٰں اور کسی کی عزت و احترام کا مطلب ہم یہ نہیں سمجھتے کہ اس کی اندھی تقلید کی جائے اور اس کی ہر بات پر صاد ڈال دیا جائے۔ یہ بات ہم کو اس لیے تحریر کرنا پڑی کہ عقیدہ و نظریہ ہی ایک ایسی چیز ہے جس کا نہایت گہرا اثر انسان کے اعمال پر پڑتا ہے اس لیے جب کوئی قوم یا فرد غلط عقیدہ و نظریہ قائم کرلیتا ہے تو اس کا نقصان بہت بڑا ہوتا ہے جس کا ازالہ ناممکن نہیں تو نہایت مشکل ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے مذہبی راہنمائوں کا جب عقیدہ و نظریہ یہ ہوا کہ حیلے اور بہانے بوقت ضرورت جائز اور درست ہوتے ہیں اور انہوں نے اس نظریہ اور عقیدہ کے لیے قرآن کریم کو بنیاد قرار دے دیا تو باقی کیا رہ گیا ؟ اب ہر آنے والے عالم کی مرضی کی بات ہے کہ وہ ایک حیلہ کرے اور اس کے دلائل قائم کر کے قرآن کریم کی اس آیت اور اس جیسی دوسری آیات سے سند جواز پیش کر دے اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے علمائے کرام یہی کچھ کر رہے ہیں یہاں تک کہ ان کی پوری زندگی کا ہر پہلو اور ہر ایک عمل اس پالیسی پر قائم ہے خواہ وہ علماء کسی فرقہ اور کسی گروہ کے ساتھ تعلق رکھتے ہوں۔ عوام تو کالانعام ہیں ان کو کیا معلوم کہ ہمارے مذہبی پیشوائوں کا یہ سارا عمل اس حیلہ اور بہانہ کے سان پر چڑھایا گیا ہے اس لیے وہ اس طرح کی دلیلیں پیش کر رہے ہیں۔ بہر حال اس کی تفصیلات تو اس قدر ہیں کہ اگر ان میں الجھگئے تو بات کبھی ختم نہیں ہوگی ہم سید مودودی (رح) کے دو تین حیلوں کا ذکر کرنا ہے تاکہ جو بات ہم نے کہی ہے اس کی دلیل ہمارے بھائیوں اور بزرگوں کو معلوم ہو سکے اگرچہ ہم کو یہ بھی معلوم ہے کہ اس کا کچھ اثر نہیں ہوگا کیونکہ ایسی باتوں کا اثر بہت کم ہی ہوا کرتا ہے ، عقیدت درمیان میں حائل ہوجاتی ہے۔ 1۔ ایک وقت تھا کہ ہندوستان کی تقسیم کی باتیں زبان زد خاص و عام تھیں اور کانگریس اور مسلم لیگ کی پینگیں زور و شور سے چڑھائی جا رہی تھیں تو سید مودودی (رح) زور شور سے ان دونوں کے خلاف لکھ رہے تھے اور کسی کی حمایت کو کفر سمجھتے تھے اور آپ کا موقف تھا کہ ” شرک ہونے کی حیثیت انگریزی اقتدار اعلٰی اور جمہوری اقتدار اعلٰی میں کوئی فرق نہیں ہے لہٰذا ان لوگوں کی دعوت سراسر غیر اسلامی بلکہ مخالف اسلام ہے۔ “ (ترجمان القرآن جنوری 1941) غور کیجیے کہ جو بات شرک تھی وہ چند سال بعد عین اسلام ہوگئی ، کیوں اور کیسے ؟ اس حیلہ کے تحت جو مولانا کے خیال میں اللہ تعالیٰ نے خود ایوب (علیہ السلام) کو سکھایا اور جو حیلہ اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو ( کذلک کدنا لیوسف) کہہ کر سکھایا۔ ظاہر ہے کہ ضرورت کے وقت اگر اللہ میاں اپنے نبیوں اور رسولوں کے اس طرح کے حیلے سکھاتا رہا ہے تو سید مودودی (رح) آخر خالصتا شرک کو کیوں خالصتا اسلام نہیں بنا سکتے اس سے زیادہ جواز کی صورت آخر اور کیا ہو سکتی ہے۔ 2۔ جب تک جماعت اسلامی جمہوری اقتدار کی مخالف تھی اس ملک کے باشندے جو اسلام کو اپنی قومیت سمجھتے اور کہتے تھے وہ مسلمان کہلانے کے حق دار نہ تھے لیکن جونہی سید مودودی (رح) کو اسلامی جمہوریت کا پٹا اپنے گلے میں ڈالنا پڑا اور انہوں نے اللہ میاں کے بنائے ہوئے حیلہ کے مطابق اپنے گلے میں ڈال لیا تو وہ سارے لوگ پکے مسلمان ہوگئے اور خصوصا ان کے اسلام میں تو کوئی شک و شبہ نہ رہا جنہوں نے سید مودودی (رح) کی جماعت کو ووٹ دیا اگرچہ باقی کا ایمان پھر بھی مشتبہ رہا حالانکہ اس جمہوری اقتدار کا قلادہ پہننے سے پہلے سید مودودی (رح) واضح الفاظ میں لکھتے رہے کہ : ” دراصل اصطلاحا و نسلا مسلمان ہونا اور چیز ہے اور نظریہ حیات و مقصد زندگی کا اسلامی ہونا بالکل ایک دوسری چیز ہے جو لوگ روح و اخلاق کے لحاظ سے مسلم نہ ہوں بلکہ محض اصطلاحی و نسلی حیثیت سے مسلمان ہوں ان کو اگر بیرونی اثر و اقتدار سے کامل آزادی نصیب بھی ہوجائے اور اگر ان کے جمہور کو خود اپنی پسند کے مطابق نظام حکومت قائم کرنے کا پورا اختیار بھی حاصل ہو تب بھی حکومت الہٰی وجود میں نہیں آسکتی وہ اپنے دنیوی مفاد کے پرستار ہوتے ہیں نہ صرف یہ کہ ان میں حق و صداقت کے لے اپنے مفاد کو قربان کرنے کی طاقت نہیں ہوتی بلکہ اس کے برعکس جب کبھی ان کی اغراض دنیوی سے حق اور صداقت کا تصادم ہوتا ہے وہ حق کو چھوڑ کر ہمیشہ اس طرف جاتے ہیں جس طرف ان کی اغراض پوری ہوتی ہیں جہاں ایسے لوگوں کی اکثریت ہو وہاں کبھی یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ عام انتخاب میں ان کے ووٹوں سے وہ صالحین منتخب ہوں کے جو منہاج نبوت پر حکومت کرنے والے ہوں۔ جمہوری انتخاب کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے دودھے کو ہلا کر مکھن نکالا جاتا ہے۔ اگر دودھ زہریلا ہو تو اس سے جو مکھن نکلے گا قدرتی بات ہے کہ وہ دودھ سے زیادہ زہریلا ہوگا۔ “ ( ترجمان القرآن جنوری 1941) لیکن جوں ہی جماعت اسلامی نے جمہوری اقتدار میں حصہ لیا تو سارے لوگ پکے اور سچے مسلمان ہوگئے اور وہ جو زہر تھا سب امرت ہوگیا ، کیسے ؟ اس حیلہ کے تحت جو اللہ میاں نے اپنے نبی ایوب (علیہ السلام) کو اور یوسف (علیہ السلام) کے بتایا اور سید مودودی (رح) کے ہاتھ یہ نسخہ آگیا۔ 3۔ نظریہ جہاد کے متعلق جو تبدیلی سید مودودی (رح) کے نظریہ میں آئی وہ بھی یقینا اسی حیلہ کا باعث تھی کیونکہ جماعت نے اپنا صحیح اسلامی نظریہ جہاد استعمال کر کے دیکھا تو ہر طرف سے لوگوں نے جماعت اسلامی کو نشانہ بنایا تو جماعت کے قائد و راہنما بوکھلا گئے اور حیلہ الٰہی کے تحت اس کا ایسا رنگ بدلا کہ اب اپنی جماعتی فکر اور ملک کی فکر دامن گیر نہ رہی یہاں تک کہ اپنی اور اپنے ملک کے باشندوں کی اصلاح کو چھوڑ کر جہاد کا نعرہ اپنانا ذریعہ معاش بنا لیا کہ گزشتہ فروگزاشتوں کا ازالہ ہو سکے۔ اس حقیقت کو ہر پڑھا لکھا آدمی سمجھتا ہے ہم اس بحث کو لمبا نہیں کرتا چاہتے۔ یہ تو سید مودودی (رح) کی حیلہ سازیاں تھیں اور دوسری مذہبی جماعتوں کی حیلہ سازیاں اس سے بھی زیادہ عیاں ہیں بلکہ اس دور میں تو مذہبی قائدین و رہنما انہی حیلہ سازیوں کے باعث نئی نئی جماعیں بنا رہے ہیں اور نئے نئے قائدین میں آئے دنوں اضافہ ہو رہا ہے اور ہر ایک جماعت کی دس دس جماعتیں بن رہی ہیں لیکن ان حیلہ سازیوں سے استفادہ میں سب برابر کے شریک ہیں کیونکہ یہی ایک نسخہ ہے جو سب کے لیے یکساں مفید ہے خواہ کوئی گرم مزاج رکھتا ہو یا سرد ، کوئی سوادی مزاج کا حامل ہو یا صفراوی کا کیونکہ یہ مرکب سب کے لیے ایک ہی طرح مفید ہے اور سو بیماریوں کا ایک ہی علاج ۔ بہر حال آپ زیر نظر آیت میں براہ راست غور کریں گے اور ان مذہبی گروہ بندیوں سے ہٹ کر یا خالی الذہن ہو کر دیکھیں گے تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ قرآن ِ کریم کی اس آیت میں نہ تو کسی قسم کو کوئی ذکر ہے اور نہ ہی کسی جھاڑو کو مار کر قسم پوری کرنے کا کوئی حیلہ یہ ہدایات ہیں جو ایوب (علیہ السلام) کو ہجرت کے وقت دی جارہی ہیں اور نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کو ہجرت کی پیش گوئی کی طرف اشارہ دیا جارہا ہے اور طریقہ سمجھایا جا رہا ہے جو آپ نے خوب سمجھا ہے اور اس حکم کے مطابق ہجرت کی ابتدا فرمائی ہے۔
Top