Mazhar-ul-Quran - Saad : 44
وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ
وَخُذْ : اور تو لے بِيَدِكَ : اپنے ہاتھ میں ضِغْثًا : جھاڑو فَاضْرِبْ بِّهٖ : اس سے مار اس کو وَلَا تَحْنَثْ ۭ : اور قسم نہ توڑ اِنَّا : بیشک ہم وَجَدْنٰهُ : ہم نے اسے پایا صَابِرًا ۭ : صابر نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ : اچھا بندہ اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والا
اور حکم دیا،1، کہ تم اپنے ہاتھ میں ایک سینکوں کا مٹھا لے کر (اپنی بیوی کو) مارو اور قسم میں جھوٹے نہ بنو، بیشک ہم نے ایوب کا صابر پایا وہ بڑا اچھا بندہ تھا بیشک وہ خدا کی طرف رجوع ہونے والا تھا
(ف 1) حضرت ایوب (علیہ السلام) نے حالت مرض میں کسی بات پر خفا ہوکرقسم کھائی کہ تندرست ہوگئے تو اپنی بی بی کو سولکڑیاں ماریں گے وہ بی بی اس حالت کی رفیق تھی اور چنداں قصور وار بھی نہ تھی ، اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے قسم سچا کرنے کی ایک تدبیر ان کو بتلادی کہ ایک سینکوں کا مٹھالے کر بی بی کو مارو اور قسم میں جھوٹے نہ بنو، جو ان ہی کے لیے مخصوص تھا، آج اگر کوئی اس طرح کی قسم کھابیٹھے تو اس کے پورا کرنے کے لیے اتنی بات کافی نہ ہوگی، حضرت ایوب کا صبر مشہور ہے اور ان کے صبر کی صداقت اس سے ہوتی ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا حضرت ایوب (علیہ السلام) بہت اچھے بندے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو تکلیف کے وقت صبر کرنے والا اور اللہ کی طرح رجوع ہونے والا پایا ہے۔
Top