19. Maryamمريم
Mary · Meccan · 98 ayahs · 6 rukus · مولانا امین احسن اصلاحی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
كٓهٰیٰعٓصٓ۫ۚ﴿1﴾
كهيعصذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّاۖۚ﴿2﴾
یہ تیرے رب کے اس فضل کی ید دہانی ہے جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کیااِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا﴿3﴾
جب اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکاراقَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِیًّا﴿4﴾
اس نے دعا کی اے میرے پروردگار ! میرے اندر سے میری ہڈیاں کھوکھلی ہوچکی ہیں اور میرا سر بڑھاپے سے بھڑک اٹھا اور اے میرے رب میں تجھے پکار کے کبھی محروم نہیں رہاوَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّاۙ﴿5﴾
میں اپنے بعد اپنے بھائی بندوں کی طرف سے اندیشہ رکھتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے تو تو اپنے پاس سے مجھے ایک وارث بخشیَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ١ۖۗ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا﴿6﴾
جو میرا بھی وارث ہو اور آل یعقوب کی روایات کا بھی۔ اور اے رب ! اس کو پسندیدہ اخلاق بنائیویٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ اِ۟سْمُهٗ یَحْیٰى١ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا﴿7﴾
اے زکریا ہم تمہیں ایک فرزند کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہوگا۔ ہم نے اس سے پہلے اس کا کوئی نظیر نہیں بنایاقَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِیًّا﴿8﴾
اس نے کہا اے میرے خداوند ! میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا، میری بیوی تو بانجھ ہے اور میں خود بڑھاپے کی بےبسی کو پہنچ چکا ہوںقَالَ كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَكُ شَیْئًا﴿9﴾
فرمایا، ایسا ہی ہوگا تیرے رب نے فرمایا ہے کہ یہ میرے لیے آسان ہے۔ میں نے اس سے پہلے تم کو پیدا کیا درآنحالیکہ تم کچھ بھی نہ تھےقَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا﴿10﴾
اس نے کہا، اے میرے خداوند ! میرے لیے کوئی نشانی ٹھہرا دیجیے، فرمایا، تمہارے لیے نشانی یہ ہے کہ تم تین شب ور روز لوگوں سے بات نہ کرسکوگے درآنحالیکہ تم بالکل تندرست ہوگےفَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا﴿11﴾
پس وہ محراب عبادت سے نکل کر اپنے لوگوں کے پاس آیا اور ان سے اشارہ سے کہا کہ صبح و شام خدا کی تسبیح کرویٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ١ؕ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّاۙ﴿12﴾
اے یحییٰ کتاب کو مضبوطی سے پکڑو اور ہم نے اس کو بچپن ہی میں قوت فیصلہ عطا فرمائیوَّ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ زَكٰوةً١ؕ وَ كَانَ تَقِیًّاۙ﴿13﴾
اور خاص اپنے پاس سے سوز و گداز اور پاکیزگی۔ اور وہ نہایت پرہیز گار تھاوَّ بَرًّۢا بِوَالِدَیْهِ وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا﴿14﴾
اور وہ اپنے والدین کا فرماں بردار تھا، سرکش و نافرمان نہ تھاوَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۠ع﴿15﴾
اس پر سلامتی ہے جس روز وہ پیدا ہوا، جس دن وہ مرے گا اور جس دن زندہ کرکے اٹھایا جائے گاوَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَ١ۘ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّاۙ﴿16﴾
اور کتاب میں مریم کی سرگزشت کو یاد کرو جب کہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر پورب کی جگہ میں جا بیٹھیفَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا١۪۫ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا﴿17﴾
پس اس نے اپنے آپ کو ان سے پردے میں کرلیا تو ہم نے اس کے پاس اپنا فرشتہ بھیجا جو اس کے سامنے ایک کامل بشر کی صورت میں نمودار ہواقَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا﴿18﴾
وہ بولی کہ اگر تم کوئی خدا ترس آدمی ہو تو میں تم سے خدائے رحمان کی پناہ مانگتی ہوںقَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ١ۖۗ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا﴿19﴾
اس نے کہا میں تو تمہارے رب ہی کا فرستادہ ہوں تاکہ تمہیں ایک پاکیزہ فرزند عطا کروںقَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا﴿20﴾
وہ بولی میرے لڑکا کیسے ہوگا، نہ مجھے کسی مرد نے ہاتھ لگایا اور نہ میں کوئی چھنال ہوںقَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ١ۚ وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا١ۚ وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا﴿21﴾
اس نے کہا یوں ہی ہوگا۔ تیرے رب کا ارشاد ہے کہ یہ میرے لیے آسان ہے۔ اور ہم یہ اس لیے کریں گے کہ (وہ ہمارا رسول ہو) اور ہم اس کو لوگوں کے لیے اپنی ایک نشانی اور اپنی جانب سے ایک رحمت بنائیں۔ اور یہ ایک طے شدہ امر ہےفَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا﴿22﴾
پس اس نے اس کا حمل اٹھا لیا اور وہ اس کو لے کر ایک دور کے مقام کو چلی گئیفَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ١ۚ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا﴿23﴾
بالآخر یہ ہوا کہ درد زہ اس کو کھجور کے تنے کے پاس لے گیا۔ اس وقت اس نے کہا، اے کاش ! میں اس سے پہلے ہی مرکھپ کے بھولی بسری چیز ہوچکی ہوتیفَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا﴿24﴾
پس (کھجور کے) نیچے سے فرشتہ نے اس کو آواز دی کہ مغموم نہ ہو۔ تمہارے پائیں سے تمہارے پروردگار نے ایک دشمہ جاری کر رکھا ہےوَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘﴿25﴾
اور تم کھجور کے تنہ کو اپنی طرف ہلاؤ، ت پر تروتازہ خرمے چھڑیں گےفَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا١ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا١ۙ فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ﴿26﴾
پس کھاؤ اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو۔ اور اگر کوئی آدمی معترض ہو تو اس سے اشارے سے کہہ دیجیو کہ میں نے خدائے رحمان کے لیے روزے کی منت مان رکھی ہے تو آج میں کسی انسان سے کوئی بات نہیں کرسکتیفَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ١ؕ قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا﴿27﴾
پس وہ اس کو گود میں اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئی۔ لوگوں نے کہا مریم ! تم نے تو یہ نہایت عجیب حرکت کر ڈالییٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ﴿28﴾
اے ہارون کی بہن ! نہ تمہارا باپ ہی کوئی برا آدمی تھا اور نہ تمہاری ماں ہی کوئی چھنال تھیفَاَشَارَتْ اِلَیْهِ١ؕ قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا﴿29﴾
اس نے اس کی طرف اشارہ کیا۔ لوگوں نے کہا ہم اس سے کس طرح بات کریں جو ابھی گود میں بچہ ہے ؟قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ﴿30﴾
بچے نے جواب دیا، میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے نبی بنایا ہےوَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ١۪ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا٢۪ۖ﴿31﴾
اور میں جہاں کہیں بھی ہوں اس نے مجھے سرچشمہ خیر و برکت ٹھہرایا ہے اور جب تک جیوں اس نے مجھے نماز اور زکوۃ کی ہدایت فرمائی ہےوَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ١٘ وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا﴿32﴾
اور مجھے ماں کا فرمانبردار بنایا ہے، مجھے سرکش اور بدبخت نہیں بنایا ہےوَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا﴿33﴾
مجھ پر سلامتی ہے جس دن میں پیدا ہوا، دن مروں گا اور جس دن زندہ کرکے اٹھایا جاؤں گاذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ١ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ﴿34﴾
یہ ہیں عیسیٰ ان مریم۔ یہ اصل حقیقت بیان ہوئی ہے جس میں یہ لوگ جھگڑ رہے ہیںمَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُؕ﴿35﴾
خدا کے شایان نہیں کہ وہ کوئی اولاد بنائے۔ وہ پاک ہے جب وہ کسی امر کا فیصلہ کرلیتا ہے تو بس اس کو فرماتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہےوَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ﴿36﴾
اور بیشک اللہ ہی میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی تو اسی کی بندگی کرو۔ یہی سیدھی راہ ہےفَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ﴿37﴾
پس ان کے اندر سے مختلف فرقوں نے باہم اختلاف کیا۔ تو ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کف کی ایک ہولناک دن کی حاضری کے باعث ہلاکی ہوگیاَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ١ۙ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴿38﴾
جس دن یہ ہمارے حضور میں حاضر ہوں گے بڑے شنوا اور بڑے بینا ہوجائیں گے لیکن آج یہ ظالم نہایت کھلی ہوئی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیںوَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ١ۘ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ﴿39﴾
اور ان لوگوں کو اس حسرت کے دن سے آگاہ کردو جب کہ معاملہ کا فیصلہ کردیا جائے گا اور یہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ایمان نہیں لا رہے ہیںاِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ۠﴿40﴾
بیشک زمین اور روئے زمین پر بسنے والوں کے وارث ہم ہوں گے اور سارے لوگ ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گےوَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاع﴿41﴾
اور کتاب میں ابراہیم کی سرگزشت کو یاد کرو۔ بیشک وہ راست باز اور نبی تھااِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْئًا﴿42﴾
یاد کرو جب کہ اس نے اپنے باپ سے کہا کہا کہ اے میرے باپ ! آپ ایسی چیزوں کی پرستش کیوں کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں، نہ دیکھتی ہیں اور نہ وہ کچھ آپ کے کام آنے والی ہیں !یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا﴿43﴾
اے میرے باپ ! میرے پاس وہ علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا ہے تو آپ میری پیروی کریں، میں آپ کو سیدھی راہ دکھاؤں گایٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا﴿44﴾
اے میرے باپ، شیطان کی پرستش نہ کیجیے۔ شیطان خدائے رحمان کا بڑا ہی نافرمان ہےیٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا﴿45﴾
اے میرے باپ مجھے ڈر ہے کہ آپ کو خدائے رحمان کا کوئی عذاب آپکڑے اور شیطان کے ساتھی بن کے رہ جائیںقَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِیْ مَلِیًّا﴿46﴾
وہ بولا، اے ابراہیم ! کیا تم میرے معبودوں سے برگشتہ ہورہے ہو ! اگر تم باز نہ آئے تو میں تمہیں سنگسار کردوں گا، تم مجھ سے ہمیشہ کے لیے دور اور دفع ہو !قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَ١ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا﴿47﴾
ابراہیم نے کہا، اچھا میرا سلام ! میں آپ کے لیے اپنے رب سے مغفرت مانگوں گا وہ میرے حال پر بڑا ہی مہربان ہےوَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ١ۖ٘ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا﴿48﴾
میں آپ لوگوں کو اور ان چیزوں کو جن کو آپ لوگ خدا کے ماسوا پوجتے ہیں، چھوڑ کر علیحدہ ہو رہا ہوں اور صرف اپنے رب ہی کی بندگی کروں گا۔ امید ہے کہ اپنے رب کی بندگی کرکے میں محروم نہیں رہوں گافَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا﴿49﴾
پس جب وہ ان کو اور ان کو چیزوں کو جن کو وہ خدا کے ماسوا پوجتے تھے چھوڑ کر الگ ہوگیا تو ہم نے اس کو اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور ان میں سے ہر ایک کو نبی بنایاوَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠ع﴿50﴾
اور ان کو اپنے فضل میں سے حصہ دیا اور ان کو نہایت پائیدار شہرت عطا فرمائیوَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى١٘ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا﴿51﴾
اور کتاب میں موسیٰ کی سرگزشت کو یاد کرو۔ بیشک وہ برگزیدہ اور رسول اور نبی تھاوَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا﴿52﴾
اور ہم نے اس کو طور کے مبارک کے کنارے سے آواز دی اور راز و سرگوشی کے لیے اس کو قریب کیاوَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا﴿53﴾
اور ہم نے اپنے فضل سے اس کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر اس کو دیاوَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ﴿54﴾
اور کتاب میں اسماعیل کی سرگزشت کو یاد کرو، بیشک وہ وعدے کا پکا اور رسول اور نبی تھاوَ كَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ١۪ وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِیًّا﴿55﴾
وہ اپنے لوگوں کو نماز اور زکوۃ کا حکم دیتا تھا اور اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ تھاوَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاۗۙ﴿56﴾
اور کتاب میں ادریس کو یاد کرو۔ بیشک وہ راست باز اور نبی تھاوَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا﴿57﴾
اور ہم نے اس کو رتبہ بلند پر پہنچایااُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَ١ۗ وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١٘ وَّ مِنْ ذُرِّیَّةِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْرَآءِیْلَ١٘ وَ مِمَّنْ هَدَیْنَا وَ اجْتَبَیْنَا١ؕ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩۩﴿58﴾
یہ لوگ ہیں جن پر، اللہ نے نبیوں میں سے، اپنا فضل فرمایا آدم کی اولاد میں سے اور ان لوگوں کی نسل میں سے جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کرایا اور ابراہیم و اسرائیل کی اولاد میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے ہدایت بخشی اور برگزیدہ کیا۔ جب ان کو خدائے رحمان کی آیتیں سنائی جاتیں تو سجدہ کرتے اور روتے ہوئے گر پڑتےفَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ﴿59﴾
پھر ان کے بعد ان کے ایسے جانشین اٹھے جنہوں نے نماز ضائع کردی اور خواہشوں کے پیچھے پڑگئے تو یہ لوگ عنقریب گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں گےاِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْئًاۙ﴿60﴾
اس سے صرف وہ لوگ مستثنی ہوں گے جو توبہ کرلیں گے اور ایمان و عمل صالح کی روش اختیار کریں گے۔ یہی لوگ ہوں گے جو جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرا بھی حق تلفی نہ ہوگیجَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا﴿61﴾
ہمیشگی کے باغ جن کا خدائے رحمان نے اپنے بندوں سے عالم غیب میں وعدہ کر رکھا ہے بیشک اس کا وعدہ پورا ہو کے رہے گالَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا١ؕ وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ فِیْهَا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا﴿62﴾
یہ اس میں کوئی لغویات نہیں سنیں گے، بس تحیت ہی تحیت ہوگی۔ اس میں صبح و شام ان کا رزق مہیا ہوگاتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا﴿63﴾
یہ وہ جنت ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے ان کو بنائیں گے جو خدا سے ڈرنے والے ہوں گےوَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ١ۚ لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِیًّاۚ﴿64﴾
اور ہم نہیں اترتے مگر آپ کے رب کے حکم سے۔ ہمارے آگے اور پیچھے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے سب اسی کے اختیار میں ہے اور آپ کا رب کسی چیز کو بھولنے والا نہیں ہےرَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ١ؕ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا۠ع﴿65﴾
آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا مالک وہی ہے تو اسی کی بندگی کرو اور اسی کی بندگی کرو اور اسی کی بندگی پر جمے رہو۔ کیا تم اس کی کسی اور نظیر سے آشنا ہو !وَ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا﴿66﴾
اور انسان کہتا ہے کہ کیا جب میں مرجاؤں گا تو پھر زندہ کرکے نکالا جاؤں گا !اَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ یَكُ شَیْئًا﴿67﴾
کیا یہ انسان اس بات کو نہیں چیتتا کہ ہم نے اس کو اس سے پہلے پیدا کیا در آنحالیکہ وہ کچھ بھی نہ تھا !فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّاۚ﴿68﴾
پس تیرے رب کی قسم ! ہم ان کو بھی اور شیطانوں کو بھی ضرور اکٹھا کریں گے پھر ہم ان کو جہنم کے گرد اس طرح حاضر کریں گے کہ وہ دوزانو بیٹھے ہوئے ہوں گےثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِیْعَةٍ اَیُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِیًّاۚ﴿69﴾
پھر ہم ہر گروہ میں سے ان لوگوں کو چھانٹ کر الگ کریں گے جو خدائے رحمان سے سب سے زیادہ سرکشی کرنے والے رہے ہوں گےثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِیًّا﴿70﴾
پھر ہم ان لوگوں کے سب سے زیادہ جاننے والے ہوں گے جو اس جہنم میں داخل ہونے کے سب سے زیادہ سزاوار ہوں گےوَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا١ۚ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ﴿71﴾
(اور ان کو حکم دیں گے) کہ تم میں سے ہر ایک کو بہرحال اس میں داخل ہونا ہے۔ یہ تیرے رب کے اوپر ایک طے شدہ امر واجب ہےثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا﴿72﴾
پھر ہم ان لوگوں کو نجات بخشیں گے جنہوں نے تقوی اختیار کیا ہوگا اور اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والوں کو اسی میں اکڑوں بیٹھے چھوڑ دیں گےوَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا١ۙ اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِیًّا﴿73﴾
اور جب ان کو ہماری واضح ٓیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں نے کی راہ اختیار کر رکھی ہے وہ ایمان لانے والوں سے سوال کرتے ہیں کہ فریقین میں سے اپنے مرتبہ اور سوسائٹی کے اعتبار سے کون بڑھ کر ہے ؟وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّ رِءْیًا﴿74﴾
اور ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی قومیں ہلاک کر چھوڑیں جو ان سے سازوسامان اور شان و شوکت میں کہیں بڑھ چڑھ کر تھیںقُلْ مَنْ كَانَ فِی الضَّلٰلَةِ فَلْیَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا١ۚ۬ حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَةَ١ؕ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضْعَفُ جُنْدًا﴿75﴾
ان سے کہہ دو کہ جو لوگ گمراہی میں پڑے رہتے ہیں تو خدائے رحمان کی شان یہی ہے کہ ان کی رسی اچھی طرح دراز کرے۔ یہاں تک کہ جب وہ دیکھ لیں گے اس چیز کو جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے خواہ عذاب دنیا یا قیامت۔ ان کو پتہ چل جائے گا کہ درجے کے اعتبار سے کون بدتر اور حمایتیوں کے اعتبار سے کون کمزور تر ہےوَ یَزِیْدُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا هُدًى١ؕ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ مَّرَدًّا﴿76﴾
اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی ہدایت میں اضافہ فرماتا ہے جو ہدایت کی راہ اختیار کرتے ہیں اور باقی رہنے والے اعمالِ صالحہ اجر کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں اور مآل کار کے اعتبار سے بھی خوش انجام ہیںاَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًاؕ﴿77﴾
بھلا دیکھا تم نے اس کو جس نے ہماری آیات کا انکار کیا اور دعوی کیا کہ میں آخرت میں بھی مال اور اولاد سے نوازا جاؤں گااَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۙ﴿78﴾
کیا اس نے غیب میں جھانک کر دیکھ لیا ہے یا خدائے رحمان سے کوئی عہد کرالیا ہے !كَلَّا١ؕ سَنَكْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّاۙ﴿79﴾
ہر گز نہیں، جو کچھ وہ بکتا ہے ہم اس کو نوٹ کر رکھیں گے اور اس کے عذاب میں مزید اضافہ کریںوَّ نَرِثُهٗ مَا یَقُوْلُ وَ یَاْتِیْنَا فَرْدًا﴿80﴾
اور جن چیزوں کا وہ مدعی ہے اس کے وارث ہم بنیں گے اور وہ ہمارے پاس یکہ و تنہا حاضر ہوگاوَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّیَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّاۙ﴿81﴾
اور انہوں نے اللہ کے ماسوا معبود بنا رکھے ہیں تاکہ وہ ان کے لیے پشت پناہ بنیںكَلَّا١ؕ سَیَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَ یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِمْ ضِدًّا۠ع﴿82﴾
ہرگز نہیں ! وہ ان کی عبادت کا انکار کریں گے اور ان کے عدو بنیں گےاَلَمْ تَرَ اَنَّاۤ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ تَؤُزُّهُمْ اَزًّاۙ﴿83﴾
تم نے دیکھا نہیں کہ ہم نے کافروں پر شیاطین کو چھوڑ دیا ہے، وہ انہیں خوب خوب اکسا رہے ہیںفَلَا تَعْجَلْ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّاۚ﴿84﴾
تو تم ان کے فیصلے کے لیے جلدی نہ کرو۔ ہم ان کے لیے اچھی طرح گنی کر رہے ہیںیَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًاۙ﴿85﴾
یاد کرو جس دن ہم خدا ترسوں کو خدائے رحمان کی طرف وفد وفد لے جائیں گےوَّ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًاۘ﴿86﴾
اور مجرموں کو جہنم کے گھاٹ کی طرف ہانکیں گے پیاسےلَا یَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۘ﴿87﴾
اس دن کسی کو شفاعت کا اختیار نہیں وگا مگر اس کو جس نے اللہ کے پاس کوئی عہد حاصل کرلیاوَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًاؕ﴿88﴾
اور کہتے ہیں کہ خدائے رحمان نے اولاد بنا رکھی ہےلَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًا اِدًّاۙ﴿89﴾
یہ تم نے ایسی سنگین بات کہی ہےتَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّاۙ﴿90﴾
کہ قریب ہے کہ اس سے آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہوجائے اور پہاڑ دھماکے کے ساتھ گر پڑیںاَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًاۚ﴿91﴾
کہ انہوں نے خدا کی طرف اولاد کی نسبت کیوَ مَا یَنْۢبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًاؕ﴿92﴾
اور یہ بات خدا کے شایان نہیں ہے کہ وہ اولاد بنائےاِنْ كُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًاؕ﴿93﴾
آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب خدائے رحمان کے حضور بندے ہی کی حیثیت سے حاضر ہوں گےلَقَدْ اَحْصٰىهُمْ وَ عَدَّهُمْ عَدًّاؕ﴿94﴾
سب کا اس نے احاطہ کر رکھا ہے اور اچھی طرح گن رکھا ہےوَ كُلُّهُمْ اٰتِیْهِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَرْدًا﴿95﴾
اور ان میں سے ہر ایک اس کے حضور یکہ و تنہا حاضر ہوگااِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا﴿96﴾
البتہ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ان کے لیے خدائے رحمان مہر و محبت پیدا کردے گافَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِیْنَ وَ تُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا﴿97﴾
پس ہم نے اس کتاب کو تمہاری زبان میں اس لیے سہل و ساز گار بنایا کہ تم خدا ترسوں کو بشارت پہنچا دو اور جھگڑالو قوم کو آگاہی سنا دووَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ١ؕ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا۠ع﴿98﴾
اور ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم نے ہلاک کر چھوڑا۔ کیا تم ان میں سے کسی کو محسوس کرتے ہو یا ان کی کوئی آہٹ سنتے ہو