18. Al-Kahfالكهف
The Cave · Meccan · 110 ayahs · 12 rukus · مولانا امین احسن اصلاحی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًاؕٚ﴿1﴾
شکر کا سزاوار ہے وہ اللہ جس نے اپنے بندے پر کتاب اتاری اور اس میں اس نے کوئی کج پیچ نہیں رکھاقَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًاۙ﴿2﴾
بالکل ہموار اور استوار تاکہ وہ اپنی جانب سے جھٹلانے والوں کو ایک سخت عذاب سے آگاہ کردے اور ایمان لانے والوں کو، جو نیک اعمال کر رہے ہیں، اس بات کی خوش خبری سنا دے کہ ان کے لیے بہت اچھا اجر ہےمَّاكِثِیْنَ فِیْهِ اَبَدًاۙ﴿3﴾
جس میں وہ ہمیشہ رہیں گےوَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًاۗ﴿4﴾
اور ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ خدا نے اولاد بنائی ہوئی ہے آگاہ کردےمَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِهِمْ١ؕ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ؕ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا﴿5﴾
ان کو اس باب میں کوئی علم نہیں، نہ ان کو نہ ان کے آباء و اجداد کو۔ نہایت ہی سنگین بات ہے جو ان کے مونہو سے نکل رہی ہے۔ یہ محض جھوٹ ہے جو وہ بک رہے ہیںفَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا﴿6﴾
تو شاید تم ان کے پیچھے اپنے تئیں غم سے ہلاک کرکے رہو گے اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائےاِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا﴿7﴾
روئے زمین پر جو کچھ ہے ہم نے اس کو زمین کے لیے سنگار بنایا ہے تاکہ ہم لوگوں کا امتحان کریں کہ ان میں اچھے عمل کرنے والا کون بنتا ہےوَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًاؕ﴿8﴾
اور ہم بالآخر اس پر جو کچھ ہے سب کو چٹیل میدان کرکے رہیں گےاَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِ١ۙ كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا﴿9﴾
کیا تم نے کہف و رقیم والوں کو ہماری نشانیوں میں سے کچھ بہت عجیب خیال کیا !اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا﴿10﴾
جب کہ کچھ نوجوانوں نے غار میں پناہ لی اور دعا کی کہ اے ہمارے رب ہمیں اپنے پاس سے رحمت بخش اور ہمارے اس معاملے میں ہماری لیے رہنمائی کا سامان فرمافَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًاۙ﴿11﴾
تو ہم نے غار میں ان کے کانوں پر کئی برس کے لیے تھپک دیاثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْۤا اَمَدًا۠ع﴿12﴾
پھر ہم نے ان کو بیدار کیا کہ دیکھیں دونوں گروہوں میں سے کون مدت قیام کو زیادہ صحیح شمار میں رکھنے والا نکلتا ہےنَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّهُمْ فِتْیَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنٰهُمْ هُدًىۗۖ﴿13﴾
ہم تمہیں ان کی سرگزشت ٹھیک ٹھیک سناتے ہیں۔ یہ کچھ نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کی ہدایت میں مزید افزونی عطا فرمائیوَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا﴿14﴾
اور ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط کیا جب کہ وہ اٹھے اور کہا کہ ہمارا رب وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ ہم اس کے سوا کسی اور معبود کو ہرگز نہیں پکاریں گے۔ اگر ہم نے ایسا کیا تو ہم یہ حق سے نہایت ہٹی ہوئی بات کہیں گےهٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ لَوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَیِّنٍ١ؕ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاؕ﴿15﴾
یہ ہماری قوم کے لوگوں نے اس کے سوا کچھ دوسرے معبود بنا رکھے ہیں۔ یہ ان کے حق میں واضح دلیل کیوں نہیں پیش کرتے ! تو ان سے بڑا ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ باندھیںوَ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗۤا اِلَى الْكَهْفِ یَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یُهَیِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا﴿16﴾
اور اب کہ تم ان کو اور ان کے معبودوں کو، جن کو وہ خدا کے سوا پوجتے ہیں، چھوڑ کر الگ ہوگئے ہو تو غار میں پناہ لو، تمہارا رب تمہارے لیے اپنا دامن رحمت پھیلائے گا اور تمہارے اس مرحلہ میں تمہاری مایحتاج مہیا فرمائے گاوَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ اِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ هُمْ فِیْ فَجْوَةٍ مِّنْهُ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا۠ع﴿17﴾
اور تم دیکھے سورج کو کہ جب طلوع ہوتا ہے تو ان کے غار سے دائیں جانب کو بچا رہتا ہے اور جب ڈوبتا ہے تو ان سے بائیں طرف کو کترا جاتا ہے اور وہ اس کے صحین میں ہیں۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے جس کو اللہ ہدایت دے وہی راہ یاب ہوتا ہے اور جس کو وہ گمراہ کردے تو تم اس کے لیے کوئی دستگیری کرنے والا اور رہنمائی کرنے والا نہیں پا سکتےوَ تَحْسَبُهُمْ اَیْقَاظًا وَّ هُمْ رُقُوْدٌ١ۖۗ وَّ نُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ١ۖۗ وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِ١ؕ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَیْهِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّ لَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا﴿18﴾
اور تم ان کو جاگتا گمان کرتے حالانکہ وہ سو رہے ہوتے اور ہم ان کو داہنے بائیں کروٹیں بھی بدلواتے اور ان کا کتا دونوں ہاتھ پھیلائے دہلیز پر ہوتا، اگر تمہاری نظر ان پر پڑجاتی تو تم وہاں سے الٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہوتے اور تمہارے اندر ان کی دہشت سما جاتیوَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِیَتَسَآءَلُوْا بَیْنَهُمْ١ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ١ؕ فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْیَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْیَتَؔلَطَّفْ وَ لَا یُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا﴿19﴾
اور اسی طرح ہم نے ان کو جگایا کہ وہ آپس میں پوچھ گچھ کریں۔ ان میں سے ایک پوچھنے والے نے پوچھا، تم یہاں کتنا ٹھہرے ہوگے ؟ وہ بولے ہم ایک دن یا ایک دن سے بھی کم ٹھہرے ہوں گے۔ بولے تمہاری مدت قیام کو تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے۔ پس اپنے میں سے کسی کو اپنی یہ رقم دے کر شہر بھیجو تو وہ اچھی طرح دیکھ لے کہ شہر کے کس حصہ میں پاکیزہ کھانا ملتا ہے اور وہاں سے تمہارے لیے کچھ کھانا لائے اور چاہیے کہ وہ دبے پاؤں جائے اور کسی کو تمہاری خبر نہ ہونے دےاِنَّهُمْ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ یَرْجُمُوْكُمْ اَوْ یُعِیْدُوْكُمْ فِیْ مِلَّتِهِمْ وَ لَنْ تُفْلِحُوْۤا اِذًا اَبَدًا﴿20﴾
اگر وہ تمہاری خبر پا جائیں گے تو تمہیں سنگسار کردیں گے یا تمہیں اپنی ملت میں لوٹا لیں گے اور پھر تم کبھی فلاح نہ پاسکوگےوَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَیْهِمْ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَیْبَ فِیْهَا١ۗۚ اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًا١ؕ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا﴿21﴾
اور اسی طرح ہم نے ان پر لوگوں کو مطلع کردیا تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ شدنی ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شبہ نہیں ہے وہ وقت بھی خیال کرو جب لوگ آپس میں ان کے معاملے میں جھگڑ رہے تھے تو بولے کہ ان کے غار پر ایک عمارت بنوا دو۔ ان کا رب ان کو خوب جانتا ہے۔ جو لوگ ان کے معاملے میں غالب آئے انہوں نے کہا کہ ہم تو ان کے غار پر ایک مسجد بنائیں گےسَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَیْبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ١۫۬ فَلَا تُمَارِ فِیْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا١۪ وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا۠ع﴿22﴾
اب یہ کہیں گے یہ تین تھے، ان کا چوتھا ان کا کتا تھا اور کہیں گے یہ پانچ تھے ان کا چھٹا ان کا کتا تھا۔ کہہ دو میرا رب ہی ان کی تعداد کو خوب جانتا ہے۔ ان کو بس تھوڑے ہی لوگ جانتے ہیں اور تم ان کے باب میں نہ بحث کرو مگر ٹالنے کے انداز میں اور ان کے باب میں ان میں سے کسی سے نہ پوچھووَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ﴿23﴾
اور کسی امر کے لیے یوں نہ کہا کرو کہ میں کل یہ کردوں گااِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١٘ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِیْتَ وَ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّهْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا﴿24﴾
مگر یہ کہ اللہ چاہے اور جب تم بھول جایا کرو تو اپنے رب کو یاد کرو اور کہو کہ امید ہے کہ میرا رب اس سے بھی کم مدت میں صحیح بات کی طرف میری رہنمائی فرما دےوَ لَبِثُوْا فِیْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِیْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا﴿25﴾
اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے اور نو سال مزید برآںقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا١ۚ لَهٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ١٘ وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا﴿26﴾
کہہ دو اللہ ہی خوب جانتا ہے جتنی مدت وہ رہے۔ آسمانوں اور زمین کا غیب صرف اسی کے علم میں ہے۔ کیا ہی خوب ہے وہ دیکھنے والا اور سننے والا۔ اس کے سوا ان کا کوئی کارساز نہیں اور وہ اپنے اختیار میں کسی کو ساجھی نہیں بناتاوَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ١ؕۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١۫ۚ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا﴿27﴾
اور تمہارے رب کی جو کتاب تم پر وحی کی جا رہی ہے اس کو سناؤ، خدا کے قوانین کو کوئی بدل نہیں سکتا اور اس کے سوا تم کوئی پناہ نہیں پا سکتےوَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْ١ۚ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا﴿28﴾
اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ جمائے رکھو جو صبح و شام اپنے رب کی رضا جوئی میں اس کو پکارتے ہیں۔ اور تمہاری نگاہیں حیات دنیا کی زینتوں کی خاطر ان سے ہٹنے نہ پائیں اور تم ان لوگوں کی بات پر دھیان نہ کرو جن کے دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیے ہیں اور جو اپنی خواہشوں کے پیچھے پڑے ہیں اور جن کا معاملہ حد سے متجاوز ہوچکا ہےوَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ١ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا١ؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا﴿29﴾
اور کہہ دو یہی حق ہے تمہارے رب کی جانب سے، تو جس کا جی چاہے ایمان لائے اور جس کا جی چاہے کفر کرے۔ ہم نے ظالموں کے لیے ایسی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں ان کو اپنے گھیرے میں لے لیں گی۔ اور اگر وہ اپنی کے لیے فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کی مانند ہوگا، چہروں کو بھون ڈالے گا۔ کیا ہی برا پانی ہوگا ! اور کیا ہی برا ٹھکانا !اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ﴿30﴾
بیشک جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے عمل کیے تو ہم خوب کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کریں گےاُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ؕ نِعْمَ الثَّوَابُ١ؕ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۠ع﴿31﴾
ان کے لیے ہمیشگی کے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ وہاں وہ سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ سندس و استبرق کی سبز پوشاک پہنیں گے، تختوں پر ٹیک لگائے ہوئے، کیا ہی خوب صلہ ہے اور کیا ہی خوب ٹھکاناوَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَیْنَهُمَا زَرْعًاؕ﴿32﴾
اور دو شخصوں کی تمثیل سناؤ۔ ان میں سے ایک کے لیے ہم نے انگوروں کے دو باغ بنائے، ان کو کھجوروں کی قطار سے گھیرا اور ان کے درمیان کھیتی کے قطعات بھی رکھےكِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْئًا١ۙ وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاۙ﴿33﴾
دونوں باغ خوب پھل لائے، ان میں زرا کمی نہیں کی اور ان کے بیچ بیچ میں ہم نے نہر بھی دوڑا دیوَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ١ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا﴿34﴾
اور اس کے پھلوں کا موسم ہوا تو اس نے اپنے ساتھ سے بحث کرتے ہوئے کہا، میں تم سے مال میں بھی زیادہ اور تعداد کے اعتبار سے بھی زیادہ طاقت ور ہوںوَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ﴿35﴾
اور وہ اپنے ابغ میں اس حال میں داخل ہوا کہ وہ اپنی جان پر آفت ڈھا رہا تھا۔ اس نے کہا کہ میں یہ گمان نہیں کرتا کہ یہ کبھی برباد ہوجائے گاوَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا﴿36﴾
اور میں قیامت کے آنے کا بھی گمان نہیں رکھتا اور اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹایا ہی گیا تو اس سے بھی بہتر مرجع پاؤں گاقَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ﴿37﴾
اس کے ساتھی نے بحث کرتے ہوئے کہا، کیا تم نے اس ذات کا انکار کیا جس نے تم کو مٹی سے بنایا، پھر پانی کی ایک بوند سے، پھر تم ایک مرد بنا کر کھڑا کیالٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا﴿38﴾
لیکن میرا رب تو وہی اللہ ہے اور میں اپنے رب کا کسی کو شریک نہیں ٹھہراتاوَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ١ۚ اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ﴿39﴾
اور جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تو تم نے یوں کیوں نہ کہا کہ یہ جو کچھ ہے سب اللہ کا فضل ہے۔ اللہ کے بدون کس کسی کو کوئی قوت حاص نہیں۔ اگر تم مال و اولاد کے اعتبار سے مجھے اپنے سے کم دیکھتے ہوفَعَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَ یُرْسِلَ عَلَیْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًاۙ﴿40﴾
تو امید ہے کہ میرا رب تمہارے باغ سے بہتر باغ مجھے دے اور تمہارے باغ پر آسمان سے کوئی ایسی گردش بھیجے کہ وہ چٹیل میدان ہو کر رہ جائےاَوْ یُصْبِحَ مَآؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَهٗ طَلَبًا﴿41﴾
یا اس کا پنی نیچے اتر جائے اور تم اس کو کسی طرح نہ پا سکووَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا﴿42﴾
اور اس کے پھلوں پر آفت آئی تو جو کچھ اس نے اس پر خرچ کیا تھا اس پر ہاتھ ملتا رہ گیا اور وہ باغ اپنی ٹٹیوں پر گر پڑا تھا اور وہ کہہ رہا تھا کہ اے کاش ! میں کسی کو اپنے رب کا شریک نہ بناتاوَ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ مُنْتَصِرًاؕ﴿43﴾
اور اس کے پاس نہ تو کوئی جتھا تھا جو خدا کے مقابلے میں اس کی مدد کرتا اور نہ وہ خود ہی انتقام لینے والا بن سکاهُنَالِكَ الْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ١ؕ هُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا۠ع﴿44﴾
اس وقت سارا اختیار صرف خدائے برحق ہی کا ہے اور وہ بہترین اجر اور بہترین انجام والا ہےوَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا﴿45﴾
اور ان کو اس دنیوی زندگی کی تمثیل سناؤ کہ اس کو یوں سمجھو کہ بارش ہو جس کو ہم نے آسمان سے اتارا پس زمین کی نباتا اس سے خوب اپچیں پھر وہ چورا ہوجائیں جس کو ہوائیں اڑائے لیے پھریں اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہےاَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا﴿46﴾
مال اور اولاد دنیوی زندگی کی زینت ہیں اور باقی رہنے والے اعمال صالحہ باعتبار ثواب اور باعتبار امید تمہارے رب کے نزدیک بہتر ہیںوَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَ تَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً١ۙ وَّ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًاۚ﴿47﴾
اس دن کا خیال کرو جس دن ہم پہاڑوں کو چلا دیں گے اور تم زمین کو دیکھو گے کہ بالکل عریاں ہوگئی ہے اور ہم ان کو اکٹھا کریں گے تو ان میں سے کسی کو چھوڑیں گے نہیںوَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا١ؕ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ١٘ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا﴿48﴾
اور وہ سب کے سب صف بستہ تیرے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے۔ ہم کہیں گے تم ہمارے پاس اسی طرح آئے ہو جس طرح ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا بلکہ تم نے گمان کیا کہ ہم تمہارے حساب کے لیے کوئی یوم موعود نہیں مقرر کریں گےوَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا١ؕ وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠ع﴿49﴾
اور رجسٹر پیش کیا جائے گا تو تم مجرموں کو دیکھو گے کہ جو کچھ اس میں ہے اس سے لرزاں ہیں اور کہیں گے ہائے ہماری شامت ! یہ رجسٹر عجب ہے جس نے نہ کوئی چھوٹا گناہ نوٹ کرنے سے چھوڑا ہے نہ کوئی بڑا گناہ۔ اور جو کچھ انہوں نے کیا ہوگا سب موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر کوئی ظلم ہیں کرے گاوَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ١ؕ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّیَّتَهٗۤ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِیْ وَ هُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ١ؕ بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا﴿50﴾
اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے، وہ جنوں میں سے تھا پس اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی۔ تو کیا تم اس کو اور اس کی ذریت کو میرے سوا اپنا کارساز بناتے ہو، در آنحالیکہ وہ تمہارے دشمن ہیں ؟ ظالموں کے لیے کیا ہی برا بدل ہے !مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ١۪ وَ مَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا﴿51﴾
اور میں نے ان کو نہ تو آسمانوں اور زمین کے پیدا کرتے وقت بلایا اور نہ خود انہی کو پیدا کرتے وقت بلایا اور میں گمراہ کرنے والوں کو دست وبازو بنانے ولا انہ تھاوَ یَوْمَ یَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ مَّوْبِقًا﴿52﴾
اور یاد کرو جس دن وہ فرمائے گا کہ بلاؤ تو میرے شریکوں کو جن کو تم نے میرا شریک گمان کیا تو وہ ان کو بلائیں گے لیکن وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک مہلکہ حائل کردیں گےوَ رَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَ لَمْ یَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا۠ع﴿53﴾
اور مجرم دوزخ کو دیکھیں گے اور گمان کریں گے کہ وہ اسی میں گرنے والے ہیں اور وہ اس سے کوئی مفر نہیں پائیں گےوَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا﴿54﴾
اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کی رہنمائی کے لیے ہر قسم کی تنبیہات گوناگوں پہلوؤں سے بیان کردی ہیں لیکن انسان سب سے زیادہ جھگڑالو واقع ہوا ہےوَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰى وَ یَسْتَغْفِرُوْا رَبَّهُمْ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا﴿55﴾
اور لوگوں کو بعد اس کے کہ ان کے پاس خدا کی ہدایت آچکی ہے، ایمان لانے اور اپنے رب سے مغفرت مانگنے سے نہیں روکا ہے مگر اس چیز نے کہ وہ چاہتے ہیں کہ خدا کا وہی معاملہ ان کے لیے بھی ظاہر ہوجائے جو اگلوں کے لیے ظاہر ہوا یا عذاب الٰہی ان کے سامنے سے نمودار ہوجائےوَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ وَ یُجَادِلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ مَاۤ اُنْذِرُوْا هُزُوًا﴿56﴾
اور رسولوں کو تو ہم صرف خوش خبری دینے والا اور خبر دار کرنے والا بنا کر بھیجتے ہیں۔ اور یہ کافر باطل کی مدد سے کٹ حجتیاں کرتے ہیں کہ اس کے ذریعہ سے حق کو پسپا کردیں اور انہوں نے میری آیات کو اور اس چیز کو جس سے ان کو ڈرایا گیا ہے، مذاق بنا رکھا ہےوَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا﴿57﴾
اور ان سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جن کو ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے یاد دہانی کی جائے تو وہ اس سے اعراض کریں اور اپنے ہاتھوں کی کرتوت کو بھول جائیں اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں کہ وہ اس کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں ڈاٹ دے دی ہے کہ اس کو نہ سنیںوَ رَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ لَوْ یُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ١ؕ بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْئِلًا﴿58﴾
اور تمہارا رب بخشنے والا اور رحمت کرنے والا ہے۔ اگر وہ ان کے اعمال کی پاداش میں فورًا پکڑنا چاہتا تو ان پر فوراً عذاب بھیج دیتا لیکن ان کے لیے ایک مقررہ وقت ہے اور وہ اس کے مقابل میں کوئی پناہ کی جگہ نہیں پائیں گےوَ تِلْكَ الْقُرٰۤى اَهْلَكْنٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَ جَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَّوْعِدًا۠ع﴿59﴾
اور یہ بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کردیا جب کہ ان کے لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے اور ہم نے ان کی ہلاکت کے لیے ایک وقت مقرر کیاوَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰىهُ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰۤى اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا﴿60﴾
اور یاد کرو، جب کہ موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ میں چلتا رہوں گا یہاں تک کہ یا تو دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ پر پہنچ جاؤں یا اسی طرح سال ہا سال چلتا ہی رہوں گافَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِهِمَا نَسِیَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا﴿61﴾
پس جب وہ ان کے ملنے کی جگہ پہنچے تو وہ اپنی مچھلی بھول گئے اور اس نے دریا میں اپنی راہ لیفَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا١٘ لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا﴿62﴾
پس جب وہ آگے بڑھ گئے تو موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ اب ہمارا کھانا لاؤ۔ ہمارے اس سفر سے تو ہم کو بڑی تکان ہوگئیقَالَ اَرَءَیْتَ اِذْ اَوَیْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ١٘ وَ مَاۤ اَنْسٰىنِیْهُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ١ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ١ۖۗ عَجَبًا﴿63﴾
اس نے کہا کیا عرض کروں، جب ہم نے چٹان کے پاس پناہ لی تو میں مچھلی کو بھول گیا، اور یہ شیطان ہی تھا جس نے اس کو یاد رکھنے سے مجھے غافل کردیا، اور اس نے عجیب طرح اپنی راہ دریا میں نکال لیقَالَ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ١ۖۗ فَارْتَدَّا عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًاۙ﴿64﴾
اس نے کہا، یہی تو ہمیں مطلب تھا، پس وہ اپنے نقش قدم دیکھتے ہوئے واپس لوٹےفَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَاۤ اٰتَیْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا﴿65﴾
تو انہوں نے پایا ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو جس کو ہم نے اپنے خاص فضل سے نوازا تھا اور جس کو خاص اپنے پاس سے علم عطا فرمایا تھاقَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا﴿66﴾
موسیٰ نے اس سے درخواست کی کہ کیا میں آپ کے ساتھ بایں شرط رہ سکتا ہوں کہ جو علم آپ کو عطا ہوا ہے آپ اس میں سے کچھ مجھے بھی سکھائیںقَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا﴿67﴾
س نے جواب دیا کہ کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکوگےوَ كَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا﴿68﴾
اور آخر جو باتیں تمہارے دائرہ علم سے باہر ہوں گی، ان پر تم سے صبر ہو بھی کیسے سکے گاقَالَ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعْصِیْ لَكَ اَمْرًا﴿69﴾
اس نے کہ انشاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے میں کسی معاملے میں بھی آپ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کروں گاقَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلَا تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْءٍ حَتّٰۤى اُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا۠ع﴿70﴾
اس نے کہا اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو یہ شرط ہے کہ کسی چیز کے متعلق مجھ سے اس وقت تک کچھ نہ پوچھیو جب تک میں خود ہی اس کا کچھ ذکر نہ چھیڑوںفَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِی السَّفِیْنَةِ خَرَقَهَا١ؕ قَالَ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا١ۚ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا﴿71﴾
بالآخر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس نے اس میں چھید کردیا۔ موسیٰ نے کہا کیا یہ چھید آپ نے اس لیے کیا ہے کہ اہل کشتی کو غرق کردیں ؟ یہ تو آپ نے بڑی ہی عجیب حرکت کی !قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا﴿72﴾
اس نے کہا، میں نے نہیں کہا ھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکوگے !قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ وَ لَا تُرْهِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا﴿73﴾
موسیٰ نے کہا میری بھول چوک پر مواخذہ نہ کیجیے اور میرے معاملہ میں زیادہ سخت گیری نہ فرمائیےفَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ١ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِیَّةًۢ بِغَیْرِ نَفْسٍ١ؕ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّكْرًا﴿74﴾
پھر چلے، یہاں تک کہ جب ایک لڑکے سے ملاقات ہوئی تو اس نے اس کو قتل کرڈالا۔ موسیٰ ؑ نے کہا آپ نے ایک معصوم جان کو بغیر کسی قصاص کے قتل کرڈالا۔ یہ تو آپ نے بڑی ہی منکر بات کی !قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا﴿75﴾
اس نے کہا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گےقَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَیْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِیْ١ۚ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا﴿76﴾
موسیٰ نے کہا، اب اس کے بعد اگر میں آپ سے کسی امر کے متعلق پوچھوں تو مجھے ساتھ نہ رکھیے گا۔ آپ میری جانب سے عذر کو پہنچ گئےفَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَهْلَ قَرْیَةِ اِ۟سْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِیْهَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗ١ؕ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْهِ اَجْرًا﴿77﴾
پھر چلے یہاں تک کہ جب پہنچے ایک بستی الوں کے پاس تو ان سے کھانا کھلانے کی درخواست کی لیکن انہوں نے ان کی میزبانی سے انکار کردیا تو انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھو جو گرا چاہتی تھی، وہ دیوار اس نے کھڑی کردی۔ موسیٰ نے کہا اگر آپ چاہتے تو اس پر کچھ مزدوری بھی ٹھہرا لیتےقَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِكَ١ۚ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِیْلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا﴿78﴾
اس نے کہا بس اب میرے اور تمہارے درمیان یہ جدائی ہے میں اب تمہیں ان باتوں کی حقیقت بتاؤں گا جن پر تم صبر نہ کرسکےاَمَّا السَّفِیْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَهَا وَ كَانَ وَرَآءَهُمْ مَّلِكٌ یَّاْخُذُ كُلَّ سَفِیْنَةٍ غَصْبًا﴿79﴾
کشتی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ چند مسکینوں کی تھی جو دریا میں محنت مزدوری کرتے تھے، میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کردوں اور اور ان کے پرے ایک بادشاہ تھا جو تمام کشتیوں کو زبردستی غصب کر رہا تھاوَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَاۤ اَنْ یُّرْهِقَهُمَا طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاۚ﴿80﴾
رہا لڑکا تو اس کے ماں باپ باایمان تھے۔ ہمیں اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ بڑا ہو کر سرکشی و ناشکری سے ان پر تعدی نہ کرےفَاَرَدْنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَیْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّ اَقْرَبَ رُحْمًا﴿81﴾
پس ہم نے چاہا کہ ان کا رب ان کو اس کی جگہ ایک ایسا فرزند عطا فرمائے جو پاکیزہ نفسی میں اس سے بہتر اور مروت و دردمندی میں اس سے بڑھ کر ہووَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا١ۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا١ۖۗ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ۚ وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْ١ؕ ذٰلِكَ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا٢ؕ۠ع﴿82﴾
اور رہا دیوار کا معاملہ تو وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی۔ اس کے نیچے ان کا دفینہ تھا اور ان کا باپ ایک صالح آدمی تھا۔ تیرے رب یہ چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا دفینہ نکالیں۔ یہ تیرے رب کی عنایت سے ہوا اور یہ جو کچھ میں نے کیا اپنی رائے سے نہیں کیا۔ یہ ہے حقیقت ان باتوں کی جن پر تم صبر نہ کرسکےوَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ١ؕ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًاؕ﴿83﴾
اور وہ تم سے ذوالقرنین کے بابت سوال کرتے ہیں۔ کہہ دو ، میں تم کو اس کا کچھ سبق آموز احوال سناؤں گااِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِی الْاَرْضِ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ سَبَبًاۙ﴿84﴾
ہم نے اس کو زمین میں بڑا اقتدار بخشا تھا اور اس کو ہر قسم کے اسباب و وسائل سے بہرہ مند کیا تھافَاَتْبَعَ سَبَبًا﴿85﴾
پس وہ ایک مرتبہ وسائل کے درپے ہواحَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا١ؕ۬ قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْهِمْ حُسْنًا﴿86﴾
یہاں تک کہ وہ سورج کے غروب ہونے کے مقام تک جا پہنچا۔ اس کو دیکھا کہ گویا وہ ایک سیاہ چشمے میں ڈوبتا ہے۔ اور اس کے پاس اس کو ایک قوم ملی۔ ہم نے کہا اے ذوالقرنین چاہو ان کو سزا دو اور چاہو ان کے ساتھ حسن سلوک کروقَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَیُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكْرًا﴿87﴾
اس نے کہا جو ان میں سے لم کا مرتکب ہوگا تو اس کو تو ہم بھی سزا دیں گے، پھر وہ اپنے رب کی طرف بھی لوٹایا جائے گا اور وہ اس کو نہایت سخت عذاب دے گاوَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ اِ۟لْحُسْنٰى١ۚ وَ سَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًاؕ﴿88﴾
رہا وہ جو ایمان اور عمل صالح اختیار کرے گا تو اس کے لیے اللہ کے پاس بھی اچھا بدلہ ہے اور ہم بھی اس کے ساتھ آسان معاملہ کریں گےثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا﴿89﴾
پھر اس نے ایک اور مہم کی تیاری کیحَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًاۙ﴿90﴾
یہاں تک کہ جب وہ طلوع آفتاب کے مقام پر پہنچا تو اس نے اس کو ایک ایسی قوم پر طلوع ہوتے دیکھا جس کے لیے آفتاب کے بالمقابل ہم نے کوئی پردہ نہیں رکھا تھاكَذٰلِكَ١ؕ وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا﴿91﴾
ایسا ہی ہم نے کیا اور ہم اس کے احوال سے خوب باخبر تھےثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا﴿92﴾
اس نے پھر ایک اور مہم کی تیاری کیحَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًا١ۙ لَّا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ قَوْلًا﴿93﴾
یہاں تک کہ دو پہاڑوں کے درمیان کے درے تک جا پہنچا۔ ان دونوں پہاڑوں کے درے اس کو ایسے لوگ ملے جو کوئی بات سمجھ نہیں پاتے تھےقَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُمْ سَدًّا﴿94﴾
انہوں نے درخواست کی کہ اے ذوالقرنین، یاجوج و ماجوج ہمارے ملک میں فساد مچاتے رہتے ہیں تو کیا یہ ہوسکتا ہے کہ ہم آپ کے لیے خرچ کا بندوبست کردیں اور آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردیںقَالَ مَا مَكَّنِّیْ فِیْهِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ رَدْمًاۙ﴿95﴾
اس نے جواب دیا کہ میرے رب نے جو کچھ میرے تصرف میں دے رکھا ہے وہ کافی ہے البتہ تم ہاتھ پاؤں سے میری مدد کرو، میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک نوٹ کھڑی کیے دیتا ہوںاٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا١ۙ قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاؕ﴿96﴾
میرے پاس لوہے کے ٹکڑے لاؤ۔ یہاں تک کہ جب بیچ کے خلا کو بھر دیا، حکم دیا کہ اس کو خوب دھونکو، یہاں تک کہ جب اس کو آگ کردیا حکم دیا کہ اب تانبا لاؤ اس پر انڈیل دوںفَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ یَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا﴿97﴾
پس نہ تو وہ اس پر چڑھ ہی سکتے تھے اور نہ اس میں نقب ہی لگا سکتے تھےقَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّیْ١ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ١ۚ وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّاؕ﴿98﴾
یہ نے کہا یہ میرے رب کا ایک فضل ہے۔ پس جب میرے رب کے وعدے کا ظہور ہوگا اس کو ہموار کردے گا اور میرے رب کا وعدہ شدنی ہےوَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًاۙ﴿99﴾
اور اس دن ہم چھوڑ دیں گے وہ ایک دوسرے سے موجوں کی طرح ٹکرائیں گے اور صور پھونکا جائے گا پس ہم ان سب کو اکٹھا کریں گےوَّ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْكٰفِرِیْنَ عَرْضَاۙ﴿100﴾
اور اس دن ہم جہنم کو ان کافروں کے روبرو پیش کریں گےاِ۟لَّذِیْنَ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ وَ كَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۠ع﴿101﴾
جن کی آنکھوں پر ہماری تنبیہ سے پردہ پڑا رہا کہ اور وہ سننے کی تاب نہیں لاتے تھےاَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ نُزُلًا﴿102﴾
کیا ان کافروں نے گمان کیا کہ وہ میرے بندوں کو میرے سوا اپنے لیے کارساز بنا لیں گے ؟ ہم نے کافروں کے لیے جہنم بطور ضیافت تیار کر رکھی ہےقُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاؕ﴿103﴾
کہو کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ خسارے میں کون ہیںاَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا﴿104﴾
وہ لوگ جن کی تمام سعی اس دنیا کی زندگی کے پیچھے اکارت گئی اور وہ گمان کرتے رہے کہ وہ بہت اچھا کا کر رہے ہیںاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآئِهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا﴿105﴾
یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا۔ بس ان کے اعمال اکارت گئے اور قیامت کے دن ہم ان کو ذرا بھی وزن نہ دیں گےذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ رُسُلِیْ هُزُوًا﴿106﴾
یہی جہنم ان کا بدلہ ہے بوجہ اس کے کہ انہوں نے کفر کیا اور میری آیات اور میرے رسولوں کا مذاق اڑایااِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ﴿107﴾
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے ان کے لیے فردوس کے باغوں کی ضیافت ہےخٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا﴿108﴾
جس میں ہمیشہ رہیں گے۔ وہاں سے ہٹنا نہیں چاہیں گےقُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا﴿109﴾
کہہ دو اگر میرے رب کی نشانیوں کو قلم بند کرنے کے لیے سندر روشنائی بن جائے تو میرے رب کی نشانیوں کے ختم ہونے سے پہلے سمندر ختم ہوجائے گا اگرچہ ہم اس کے ساتھ اسی کے مانند اور سمندر ملا دیںقُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا۠ع﴿110﴾
کہہ دو کہ میں تو بس تمہاری ہی طرح ایک بشر ہوں۔ مجھ پر وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود بس ایک ہی معبود ہے۔ پس جو اپنے رب کی ملاقات کا متوقع ہو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے