20. Taa-Haaطه
Taa-Haa · Meccan · 135 ayahs · 8 rukus · مولانا امین احسن اصلاحی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
طٰهٰۚ﴿1﴾
یہ سورة ـ طٰہٰ ہےمَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ﴿2﴾
ہم نے تم پر قرآن اس لئے نہیں اتارا ہے کہ تم مصیبت میں پھنس جائواِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰىۙ﴿3﴾
یہ تو بس ان لوگوں کے لئے یاد دہانی ہے جو خدا سے ڈ ریںتَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰىؕ﴿4﴾
یہ نہایت اہتمام کے ساتھ اس ذات کی طرف سے اتارا گیا ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہےاَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى﴿5﴾
جو رحمان عرش حکومت پر متمکن ہےلَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰى﴿6﴾
اسی کے اختیار میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے جو کچھ زمین میں ہے، جو کچھ ان کے درمیان ہے اور جو کچھ زمین کے نیچے ہےوَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى﴿7﴾
خواہ تم علانیہ بات کہو یا چپکے سے، وہ علانیہ اور پوشیدہ سب کو جانتا ہےاَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى﴿8﴾
اللہ ہی معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ تمام اچھی صفتیں اسی کے لئے ہیںوَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ﴿9﴾
اور کیا موسیٰ ؑ کی سرگزشت تمہارے علم میں آئی ہےاِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى﴿10﴾
جب کہ اس نے دیکھا ایک شعلہ تو اس نے اپنے اہل خانہ سے کہا کہ تم لوگ ذرا ٹھہرو، مجھے آگ نظر آئی ہے، تاکہ میں اس میں سے ایک انگارہ لائوں یا ممکن ہے مجھے وہاں راستہ کا کچھ سراغ مل جائےفَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰىؕ﴿11﴾
تو جب وہ اس کے پاس آیا تو اس کو آواز آئی کہ اے موسیٰاِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىؕ﴿12﴾
یہ تو میں تمہارا رب ہوں تو تم اپنے جوتے اتار دو کیونکہ تم طویٰ کی مقدس وادی میں ہووَ اَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰى﴿13﴾
اور میں نے تم کو برگزیدہ کیا تو جو وحی کی جا رہی ہے اسے غور سے سنو !اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ١ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ﴿14﴾
بیشک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو میری ہی عبادت کیجیو اور میری یاد کے لئے نماز کا اہتمام رکھیواِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى﴿15﴾
بیشک قیامت شدنی ہے۔ میں اس کو چھپائے ہی رکھوں گا تاکہ ہر جان کو اس کے عمل کا بدلہ دیا جائےفَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى﴿16﴾
تو نماز سے تمہیں وہ شخص غافل نہ کرنے پائے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہشوں کا پیرو ہے کہ تم ہلاک ہو کر رہ جائووَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى﴿17﴾
اور یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے، اے موسیٰ !قَالَ هِیَ عَصَایَ١ۚ اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى﴿18﴾
اس نے کہا، یہ میری لٹھیا ہے، میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے لئے دوسرے فائدے بھی ہیںقَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰى﴿19﴾
فرمایا، اس کو زمین پر ڈال دو ، اے موسیٰ !فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى﴿20﴾
اس نے اس کو ڈال دیا تو دفعتہً وہ ایک رینگتا ہوا سانپ بن گئیقَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْ١ٙ سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰى﴿21﴾
فرمایا اس کو اٹھا لو اور ڈرو نہیں، ہم اس کو پھر اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گےوَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً اُخْرٰىۙ﴿22﴾
اور اپنے ہاتھ کو اپنے بازو کی طرف سکیڑ لو، وہ وہاں سے ایک دوسری نشانی بن کر، چٹا سفید، بغیر کسی مرض کے، برآمد ہو گالِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰىۚ﴿23﴾
تاکہ ہم اپنی بڑی نشانیوں میں سے بعض کا تمہیں مشاہدہ کرائیںاِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠ع﴿24﴾
تم فرعون کے پاس جائو۔ وہ بہت سرکش ہوگیا ہےقَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ﴿25﴾
اس نے دعا کی کہ اے میرے رب ! میرے سینے کو میرے لئے کھول دےوَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ﴿26﴾
اور میری مہم کو آسان کروَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ﴿27﴾
اور میری زبان کی گرہ کھول دےیَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪﴿28﴾
کہ لوگ میری بات سمجھیںوَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْۙ﴿29﴾
اور میرے خاندان سے میرے لئے وزیر مقرر کر کےهٰرُوْنَ اَخِیۙ﴿30﴾
میرے بھائی ہارون کواشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْۙ﴿31﴾
میری کمر کو مضبوط کروَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْۙ﴿32﴾
اور اس کو میری ذمہ داری میں شریک بناكَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًاۙ﴿33﴾
کہ ہم تیری زیادہ سے زیادہ تسبیح کریںوَّ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًاؕ﴿34﴾
اور زیادہ سے زیادہ تیرا چرچا پھیلائیںاِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا﴿35﴾
بیشک تو برابر ہمارا نگران حال رہا ہےقَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ یٰمُوْسٰى﴿36﴾
فرمایا، تمہاری درخواست منظور ہوئی، اے موسیٰ !وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤىۙ﴿37﴾
اور ہم نے تم پر ایک بار اور بھی اپنا فضل کیااِذْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا یُوْحٰۤىۙ﴿38﴾
جب کہ ہم نے تمہاری ماں کو الہام کی وہ بات جو وحی کی جا رہی ہےاَنِ اقْذِفِیْهِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْهِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِهِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّیْ وَ عَدُوٌّ لَّهٗ١ؕ وَ اَلْقَیْتُ عَلَیْكَ مَحَبَّةً مِّنِّیْ١ۚ۬ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَیْنِیْۘ﴿39﴾
کہ اس کو صندوق میں رکھ دو پھر اس کو دریا میں ڈال دو۔ پس یوں ہو کہ دریا اس کو کنارے پر ڈال دے کہ اس کو اٹھا لے وہ جو میرا بھی دشمن ہے اور اس کا بھی دشمن ہے اور میں نے تم پر اپنی محبت کا پرتو ڈال دیا اور تاکہ تمہاری پرورش میری نگرانی میں ہواِذْ تَمْشِیْۤ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى مَنْ یَّكْفُلُهٗ١ؕ فَرَجَعْنٰكَ اِلٰۤى اُمِّكَ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ١ؕ۬ وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا١۫۬ فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ١ۙ۬ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ یّٰمُوْسٰى﴿40﴾
جب کہ تمہاری بہن جاتی اور کہتی تھی کہ کیا میں ایسے لوگوں کا پتہ دوں جو اس بچے کی پرورش کریں۔ پس ہم نے تم کو تمہاری ماں کی طرف لوٹا دیا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائے اور تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تو ہم نے تم کو غم سے نجات دی اور ہم نے تم کو خوب خوب پرکھا۔ پھر تم کئی سال اہل مدین میں رہے۔ پھر ایک خاص اندازہ کئے ہوئے وقت پر تم یہاں پہنچے اے موسیٰ !وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِیْۚ﴿41﴾
اور میں نے اپنے کار خاص کے لئے تمہیں منتخب کیااِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِكْرِیْۚ﴿42﴾
تم اور تمہارا بھائی میری نشانیوں کے ساتھ جائو اور میرے ذکر میں ڈھیلے نہ پڑنااِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىۚۖ﴿43﴾
تم دونوں فرعون کے پاس جائو، بیشک وہ بہت سرکش ہوگیا ہےفَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى﴿44﴾
پس اس کو نرمی کے ساتھ دعوت دو ، شاید وہ یاد دہانی حاصل کرے یا ڈرےقَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ اَنْ یَّطْغٰى﴿45﴾
انہوں نے عرض کی اے ہمارے خداوند، ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر تقدی کرے یا اس کی سرکشی اور بڑھ جائے۔قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى﴿46﴾
فرمایا تم اندیشہ نہ کرو، میں تمہارے ساتھ سب کچھ سنتا دیکھتا ہوںفَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْ١ؕ قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى﴿47﴾
پس اس کے پاس جائوں اور اس سے کہو کہ ہم دونوں تیرے رب کے رسول ہیں، تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے اور ان کو عذاب میں مبتلا نہ رکھ، ہم تیرے خداوند کے پاس سے ایک بڑی نشانی بھی لے کر آئے ہیں۔ اور سلامتی ان لوگوں پر ہے جو ہدایت کی پیروی کریںاِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى﴿48﴾
ہم پر یہ وحی کی گئی ہے کہ ان لوگوں پر عذاب ہے جو جھٹلائیں اور اعراض کریںقَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى﴿49﴾
اس نے سوال کیا اے موسیٰ ! تم دونوں کا رب کون ہے ؟قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى﴿50﴾
اس نے جواب دیا، ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی خلقت عطا فرمائی پھر اس کی رہنمائی کیقَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى﴿51﴾
اس نے پوچھا، تو پھر اگلی قوموں کا کیا حال ہے ؟قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍ١ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘﴿52﴾
اس نے جواب دیا کہ ان کا علم میرے رب کے پاس ایک رجسٹر میں ہے۔ نہ میرا رب بھٹکتا ہے نہ بھولتا ہےالَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى﴿53﴾
وہی جس نے تمہارے لئے زمین کو گہوارا بنایا اور اس میں تمہارے لئے راہیں نکالیں اور آسمان سے پانی برسایا، پس ہم نے اس سے مختلف نباتات کی گوناگوں قسمیں پیدا کر دیںكُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ع﴿54﴾
کھائو اور اپنے چوپایوں کو چرائو۔ اس کے اندر اہل عقل کے لئے نشانیاں ہیںمِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى﴿55﴾
اسی سے ہم نے تم کو پیدا کیا ہے اور اسی میں تم کو لوٹائیں گے اور اسی سے تم کو دوبارہ نکالیں گےوَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى﴿56﴾
اور ہم نے اس کو اپنی ساری نشانیاں دکھائیں تو اس نے جھٹلایا اور انکار کیاقَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى﴿57﴾
اس نے کہا، موسیٰ ! کیا تم اس لئے ہمارے پاس آئے ہو کہ اپنے جادو کے زور سے ہم کو ہمارے ملک سے بےدخل کر دوفَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى﴿58﴾
تو ہم بھی تمہارے قابل میں ایسا ہی جادو لائیں گے۔ تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک مقام معین ٹھہرا لو، کوئی بیچ کی جگہ، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں نہ تمقَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى﴿59﴾
اس نے کہا، تمہارے لئے وعدے کا دن میلہ والا دن ہے اور یہ کہ لوگ بوقت چاشت جمع کئے جائیںفَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى﴿60﴾
پس فرعون وہاں سے ہٹا اور اپنی ساری تدبیریں اکٹھی کر کے پھر مقابلہ میں آیاقَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ١ۚ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى﴿61﴾
موسیٰ ؑ نے کہا تمہاری ناس ہو ! اللہ پر جھوٹ نہ باندھو کہ وہ تم کو کسی عذاب میں پیس دے اور جس نے خدا پر جھوٹ باندھا وہ نامراد ہوافَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى﴿62﴾
پس انہوں نے آپس میں، اپنے معاملہ میں، مشورت اور سرگوشی کیقَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى﴿63﴾
انہوں نے کہا یہ دونوں بڑے ماہر جادوگر ہیں، یہ چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے بےدخل کردیں اور تمہارے اعلیٰ نظام کو درہم برہم کر کے رکھ دیںفَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا١ۚ وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى﴿64﴾
تو اپنی ساری تدبیریں اکٹھی کرلو، پھر ان کے مقابل میں متحد ہو کر آئو اور آج کامیاب وہی رہے گا جو غالب آئے گاقَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى﴿65﴾
انہوں نے کہا اے موسیٰ ؑ ! یا تو تم پیش کردیا پھر ہم ہی پہلے پیش کرنے والے بنتے ہیںقَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى﴿66﴾
اس نے کہا بلکہ تم ہی پیش کرو۔ تو دفعۃً ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ان کے جادو کے زور سے اس کو اس طرح نظر آنے لگیں گویا وہ رینگ رہی ہیںفَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى﴿67﴾
تو موسیٰ ؑ دل ہی دل میں کچھ ڈراقُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى﴿68﴾
ہم نے کہا ڈرو نہیں، تم ہی غالب رہو گےوَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى﴿69﴾
اور تم اس کو جو تمہارے ہاتھ میں ہے زمین پر ڈالو۔ یہ ان کے سارے سوانگ کو جو انہوں نے رچایا ہے نگل جائے گا۔ یہ کرتب جو انہوں نے دکھایا ہے یہ تو بس ایک جادوگر کا کرتب ہے اور جادوگر جہاں بھی جائے کامیاب نہیں ہوتافَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى﴿70﴾
تو جادوگر سجدے میں گر پڑے۔ پکار اٹھے کہ ہم موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کے رب پر ایمان لائےقَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ١٘ وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى﴿71﴾
فرعون نے کہا تم نے بدوں میری اجازت کے اس کی تصدیق کردی بیشک وہی تمہارا گرو ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے تو میں تمہارے ہاتھ اور پائوں بےترتیب کاٹوں گا اور تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی دوں گا اور تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم میں سے کس کی سزا زیادہ سخت اور زیادہ دیرپا ہوتی ہے !قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ١ؕ اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ﴿72﴾
انہوں نے جواب دیا کہ ہم ان روشن دلائل پر جو ہمارے پاس آئے ہیں اور اس ذات پر جس نے ہم کو پیدا کیا ہے، تم کو ہرگز ترجیح دینے والے نہیں ہیں تو تمہیں جو کچھ کرنا ہے کر گزرو۔ تم جو کچھ کرسکتے ہو بس اس دنیاوی زندگی کا کرسکتے ہو !اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى﴿73﴾
ہم اپنے رب پر ایمان لائے کہ وہ ہماری خطائوں کو اور اس جادو کو جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا، بخشے اور اللہ ہی بہتر اور باقی رہنے والا ہےاِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى﴿74﴾
بیشک جو شخص اپنے رب کے سامنے مجرم کی حیثیت سے حاضر ہوگا تو اس کے لئے جہنم ہے، نہ اس میں مرے گا، اور نہ جیے گاوَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ﴿75﴾
اور جو اس کے پاس باایمان ہو کر جائیں گے، انہوں نے نیک عمل بھی کئے ہوں گے، تو یہی لوگ ہیں جن کے لئے اونچے درجے ہوں گےجَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠ع﴿76﴾
ان کے لئے ہمیشگی کے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ صلہ ہے اس کا جس نے پاکیزگی اختیار کیوَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى١ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا١ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى﴿77﴾
اور ہم نے موسیٰ ؑ کو وحی کی کہ میرے بندوں کو شب میں لے کر نکل جائو۔ ان کے لئے دریا میں ایک خشک راہ کھول لو، نہ تمہیں تعاقب سے کوئی خطرہ ہوگا نہ ڈوبنے کا کوئی اندیشہ ؟فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْؕ﴿78﴾
تو فرعون نے اپنی فوجوں کے ساتھ ان کا تعاقب کیا۔ بالآخر ان کو سمندر کی اس چیز نے ڈھاک لیا جس چیز نے ڈھانک لیا ؟وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى﴿79﴾
اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا، اس کو صحیح راہ نہ دکھائی !یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى﴿80﴾
اے بنی اسرئیل ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات بخشی اور تم سے طور کے مبارک جانب کو ایک میعاد ٹھہرائی اور تم پر ہم نے من وسلویٰ اتاراكُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ لَا تَطْغَوْا فِیْهِ فَیَحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبِیْ١ۚ وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْهِ غَضَبِیْ فَقَدْ هَوٰى﴿81﴾
کہ ہماری بخشی ہوئی پاکیزہ چیزیں کھائو اور اس نعمت کو پا کر سرکشی نہ کیجیو کہ تم پر میرا غضب نازل ہو اور جس پر میرا غضب اترا وہ تباہ ہواوَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى﴿82﴾
اور میں ان لوگوں کے لئے بڑا ہی غفار ہوں جو توبہ کریں، ایمان لائیں اور عمل صالح کریں پھر ہدایت کی روشنی اختیار کریںوَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰى﴿83﴾
اور اے موسیٰ یہ تم کو، اپنی قوم کو چھوڑ کر جلدی آنے پر کس نے ابھارا ؟قَالَ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِیْ وَ عَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى﴿84﴾
اس نے کہا، وہ لوگ بھی میرے پیچھے ہی ہیں، اور میں، اے میرے رب ! تیری خوشنودی کے لئے جلدی چلا آیا ہوںقَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ﴿85﴾
فرمایا تو ہم نے تمہاری قوم کو تمہارے پیچھے ایک فتنہ میں ڈال دیا اور سامری نے ان کو گمراہ کر ڈالافَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۚ۬ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا١ؕ۬ اَفَطَالَ عَلَیْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ﴿86﴾
تو موسیٰ ؑ اپنی قوم کے پاس غصہ اور غم سے بھرا ہوا لوٹا اور بولا کہ اے میری قوم کے لوگو، کیا تم سے تمہارے رب نے نہایت اچھا وعدہ نہیں کیا تھا ! کیا تم پر زمانہ زیادہ گزر گیا یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب نازل ہو کر تم نے میری ٹھہرائی ہوئی میعاد کی خلاف ورزی کر ڈالی !قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِیُّۙ﴿87﴾
انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے آپ سے کئے ہوئے عہد کی خلاف ورزی اپنی مرضی سے نہیں کی۔ بلکہ قوم کے زیورات کا بوجھ جو ہمارے حوالہ کیا گیا تھا ہم نے اس کو پھینک دیا اور اس طرح سامری نے ڈھال کر پیش کردیا۔فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَ اِلٰهُ مُوْسٰى١۬ فَنَسِیَؕ﴿88﴾
پس اس نے ان کے لئے ایک بچھڑا برآمد کردیا۔ ایک دھڑ جس سے بھاں بھاں کی آواز نکلتی تھی پس انہوں نے کہا یہی تمہارا معبود ہے اور یہی موسیٰ ؑ کا بھی معبود ہے لیکن وہ بھول گیا ہےاَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعُ اِلَیْهِمْ قَوْلًا١ۙ۬ وَّ لَا یَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا۠ع﴿89﴾
کیا یہ لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے تھے کہ نہ وہ کسی بات کا جواب دے سکتا ہے اور نہ کوئی نقصان یا نفع پہنچا سکتا ہے !وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرِیْ﴿90﴾
اور ہارون ؑ نے ان سے پہلے ہی کہا کہ اے میری قوم کے لوگو، تم اس کے ذریعہ سے فتنہ میں ڈال دیئے گئے ہو، تمہارا رب خدائے رحمان ہے تو میری پیروی کرو اور میری بات مانوقَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْهِ عٰكِفِیْنَ حَتّٰى یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُوْسٰى﴿91﴾
وہ بولے کہ ہم تو اب اسی کی عبادت پر جمے رہیں گے تاآنکہ موسیٰ ہمارے پاس واپس آجائیںقَالَ یٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَیْتَهُمْ ضَلُّوْۤاۙ﴿92﴾
موسیٰ نے کہا اے ہارون !ٖ جب تم نے دیکھا کہ یہ گمراہ ہوئے جا رہے ہیںاَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْ﴿93﴾
تو تم کو میری پیروی سے کس چیز نے روکا ! کیا تم نے میرے حکم کی نافرمانی کیقَالَ یَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَ لَا بِرَاْسِیْ١ۚ اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ﴿94﴾
اس نے جواب دیا کہ اے میرے ماں جائے ! نہ میری ڈاڑھی پکڑیے نہ میرا سر۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ مبادا آپ یہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل کے درمیان پھوٹ ڈالی دی اور میری بات کا لحاظ نہ کیاقَالَ فَمَا خَطْبُكَ یٰسَامِرِیُّ﴿95﴾
موسیٰ نے پوچھا، اے سامری تیرا کیا ماجرا ہے ؟قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ﴿96﴾
اس نے جواب دیا مجھے وہ چیز نظر آئی جو اوروں کو نظر نہیں آئی تو میں نے فرستادے کے نقش قدم سے ایک مٹھی اٹھائی اور وہ اس میں ڈال دی اور اس طرح میرے نفس نے مجھے سمجھایاقَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ١۪ وَ اِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْهِ عَاكِفًا١ؕ لَنُحَرِّقَنَّهٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا﴿97﴾
موسیٰ نے کہا، چل دور ہو، اب تیرے لئے زندگی بھر یہ ہے کہ تو کہتا پھرے کہ کوئی چھوئے نہیں اور تیرے لئے ایک اور وقت موعود بھی ہے جو تجھ سے ٹلنے والا نہیں اور اپنے اس معبود کو دیکھ جس پر تو … رہا ہے، ہم اس کو جلائیں گے، پھر اس کو سمندر میں بکھیر دیں گےاِنَّمَاۤ اِلٰهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَسِعَ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا﴿98﴾
تمہارا معبود تو بس اللہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا علم ہر چیز پر حاوی ہےكَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ١ۚ وَ قَدْ اٰتَیْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًاۖۚ﴿99﴾
اسی طرح ہم تمہیں ماضی کی سرگزشتیں بھی سناتے ہیں اور خاص اپنے پاس سے تمہیں بھی یاد دہانی عطا کی ہےمَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وِزْرًاۙ﴿100﴾
جو اس سے اعراض کریں گے وہ یقامت کے دن ایک بھاری بوجھ اٹھائیں گےخٰلِدِیْنَ فِیْهِ١ؕ وَ سَآءَ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًاۙ﴿101﴾
اسی کے تلے ہمیشہ رہیں گے اور قیامت کے دن یہ بہت بھاری بوجھ ہوگا ؟یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًاۚۖ﴿102﴾
جس دن صور پھونکا جائے گا اور مجرموں کو اس دن ہم اس حال میں اکٹھا کریں گے کہ خوف کے مارے ان کی آنکھیں نیلی پڑی ہوں گییَّتَخَافَتُوْنَ بَیْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا﴿103﴾
وہ آپس میں چپکے چپکے کہتے ہوں گے کہ بس تم دس دن رہے ہو گے !نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِیْقَةً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا۠ع﴿104﴾
ہم خوب جاتنے ہیں جو کچھ وہ کہیں گے جب کہ ان میں جو سب سے بڑا لال بجھکڑ ہوگا کہے گا کہ بس زیادہ سے زیادہ ایک دن تم ٹھہرے ہو گےوَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ﴿105﴾
اور وہ تم سے پہاڑوں کی بابت سوال کرتے ہیں کہہ دو کہ میرا رب ان کو گرد و غبار کی طرح اڑا دے گافَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ﴿106﴾
اور زمین کو بالکل صفا چٹ چھوڑ دے گالَّا تَرٰى فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاؕ﴿107﴾
نہ تم اس میں کوئی کجی دیکھو گے اور نہ کوئی بلندییَوْمَئِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَهٗ١ۚ وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا﴿108﴾
اس دن سب پکارنے والے کے پچیھے چل پڑیں گے۔ مجال نہیں کہ ذرا اس سے کج ہو سکیں اور ساری آوازیں خدائے رحمان کے آگے پست ہوجائیں گی، بس تم صرف کا نا پھوسی ہی سنو گےیَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا﴿109﴾
اس دن شفاعت نفع نہ دے گی الا آنکہ خدائے رحمان جس کو اجازت دے اور جس کے لئے کوئی بات کہنے کو پسند کرےیَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا﴿110﴾
وہ ان کے آگے اور ان کی پیچھے جو کچھ ہے سب سے باخبر ہے اور ان کا علم اس کا احاطہ نہیں کر سکتاوَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ١ؕ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا﴿111﴾
سب کے چہرے خدائے حی وقیوم کے حضور جھکے ہوئے ہوں گے اور جو کسی شرک کا مرتکب ہو اور وہ نامراد ہواوَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا﴿112﴾
اور جو نیک اعمال کرے گا اور وہ مومن بھی ہے تو اس کو نہ کسی حق تلفی کا اندیشہ ہوگا اور نہ کسی زیادتی کاوَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا﴿113﴾
اور اسی طرح ہم نے اس کو عربی قرآن کی صورت میں اتارا اور اس میں ہم نے اپنی وعید گوناگوں پہلوئوں سے واضح کردی ہے تاکہ یہ لوگ خدا کے غضب سے بچیں یا یہ ان کے اندر کچھ سوجھ بوجھ پیدا کرےفَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا﴿114﴾
پس اللہ بادشاہ حقیقی بہت برتر ہے۔ پس تم قرآن کے لئے، اپنی طرف اس کی وحی پوری کئے جانے سے پہلے جلدی نہ کرو اور دعا کرتے رہو کہ اے میرے رب میرے علم میں افرونی فرماوَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠ع﴿115﴾
اور ہم نے اس سے پہلے آدم پر ایک عہد کی ذمہ داری ڈالی تو وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں عزم کی پختگی نہیں پائیوَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى﴿116﴾
اور جب کہ ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے اس نے انکار کردیافَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى﴿117﴾
تو ہم نے کہا کہ اے آدم، یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے تو تم کو کہیں جنت سے نکال نہ چھوڑے کہ تم محروم ہو کر رہ جائواِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ﴿118﴾
اس میں تم کو یہ مقام حاصل ہے کہ تم اس میں نہ بھوکے رہو گے اور نہ ننگےوَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى﴿119﴾
اور نہ تم کو پیاس ستائے گی اور نہ دھوپ لگے گیفَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى﴿120﴾
تو شیطان نے اس کو ورغلایا، کہا کہ اے آدم، کیا میں تمہیں زندگی دوام کے درخت اور ایسی بادشاہی کا سراغ دوں جس پر کبھی کہنگی نہ آئے !فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١٘ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ﴿121﴾
تو ان دونوں نے اس درخت کا پھل کھالیا تو ان کے ڈھانکنے کی چیزیں عریاں ہوگئیں اور وہ اپنے اوپر باغ کے پتے گانٹھنے گونتھنے لگے اور آدم نے اپنے رب کے حکم کی خلاف ورزی کی تو بھٹک گئےثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَیْهِ وَ هَدٰى﴿122﴾
پھر اس کے رب نے اس کو نوازا، اس کی توبہ قبول کی اور اس کو ہدایت بخشیقَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِیْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى١ۙ۬ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى﴿123﴾
حکم ہوا کہ تم سب یہاں سے اترو، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے۔ پس اگر تمہارے پاس میری ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا نہ وہ گمراہ ہوگا اور نہ محروم رہے گاوَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى﴿124﴾
اور جو میری یاد دہانی سے اعراض کرے گا تو اس کے لئے عنیق کی زندگی ہوگی اور قیامت کے دن ہم اس کو اندھا اٹھائیں گےقَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا﴿125﴾
وہ کہے گا اے رب تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا، میں تو بینا تھا !قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَا١ۚ وَ كَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنْسٰى﴿126﴾
ارشاد ہوگا، اسی طرح دنیا میں ہماری آیتیں تیرے پاس آئیں تو تو نے ان کو نظر انداز کیا تو اسی طرح تو آج نظر انداز کیا جائے گاوَ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ وَ لَمْ یُؤْمِنْۢ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى﴿127﴾
اور اسی طرح ہم بدلہ دیں گے اس کو جو حدود سے تجاوز کرے گا اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہیں لائے گا اور عذاب آخرت زیادہ سخت اور زیادہ دیرپا ہوگا۔اَفَلَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ع﴿128﴾
کیا ان کے لئے یہ چیز ہدایت دینے والی نہ بنی کہ کتنی ہی قوموں کو ان سے پہلے ہم نے بلاک کردیا جن کی بستیوں میں یہ چلتے پھرتے ہیں بیشک اس کے اندر اہل عقل کے لئے بڑی بڑی نشانیاں ہیں !وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّىؕ﴿129﴾
اور اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے طے نہ ہوچکی ہوتی اور ایک اجل معین مقرر نہ ہوچکی ہوتی تو عذاب مسلط ہو کے رہتافَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا١ۚ وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى﴿130﴾
تو جو کچھ یہ کہتے ہیں اس پر صبر کرو اور اپنے رب کی، اس کی حمد کیساتھ، تسبلیح کرو سورج کے طلوع اور اس کے غروب سے پہلے اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو اور ان کے اطراف میں بھی تاکہ تم نہال ہو جائووَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ۬ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى﴿131﴾
اور ان کی بعض جماعتوں کو آسائش زندگی کی جس رونق سے ہم نے ان کی آزمئاش کے لئے بہرہ مند کر رکھا ہے اس کی طرف نگاہ نہ اٹھائو اور تمہارے رب کا رزق بہتر اور پائیدا رہےوَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَا١ؕ لَا نَسْئَلُكَ رِزْقًا١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكَ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى﴿132﴾
اور اپنے لوگوں کو نماز کا حکم دو اور اس پر جمے رہو۔ ہم تم سے رزق کا مطالبہ نہیں کرتے ہم تم کو رزق دیں گے اور انجام کار کی فیروز مندی تقویٰ کے لئے ہےوَ قَالُوْا لَوْ لَا یَاْتِیْنَا بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اَوَ لَمْ تَاْتِهِمْ بَیِّنَةُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰى﴿133﴾
اور یہ کہتے ہیں کہ یہ اپنے رب کے پاس سے ہمارے لئے کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے ! کیا ان کے پاس اگلے صحیفوں میں جو کچھ مذکور ہے اس کی دلیل نہیں پہنچی !وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى﴿134﴾
اور اگر ہم ان کو اس سے پہلے ہی کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو یہ کہتے کہ اے ہمارے رب تو نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے تیری ہدایات کی پیروی کرتے !قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَ مَنِ اهْتَدٰى۠ع﴿135﴾
کہہ دو ، ہر ایک منتظر ہے تو تم بھی انتظار کرو۔ تم عنقریب جان لو گے کہ سیدھی راہ والے کون ہیں اور منزل پر کون پہنچے