Ahsan-ut-Tafaseer - Al-Muminoon : 68
اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘
اَفَلَمْ يَدَّبَّرُوا : کیا پس انہوں نے غور نہیں کیا الْقَوْلَ : کلام اَمْ : یا جَآءَهُمْ : ان کے پاس آیا مَّا : جو لَمْ يَاْتِ : نہیں آیا اٰبَآءَهُمُ : ان کے باپ دادا الْاَوَّلِيْنَ : پہلے
کیا انہوں نے اس کلام میں غور نہیں کیا ؟ یا ان کے پاس کچھ ایسی چیز آئی ہے جو ان کے اگلے باپ دادا کے پاس نہیں آئی تھی
68۔ 75:۔ سورة الانعام میں گزر چکا ہے کہ مشرکین مکہ نسل ابراہیمی میں اپنے آپ کو زیادہ عقل مند سمجھ کر یہ کہا کرتے تھے کہ اگر ہم لوگوں کی ہدایت کے لیے کوئی آسمانی کتاب نازل ہوتی تو ہم پہلے لوگوں سے بڑھ کر راہ راست پر آتے ‘ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 1 ؎ میں ابوسفیان ؓ اور ہرقل بادشاہ روم کا جو قصہ ہے ‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ نبی ہونے سے پہلے مشرکین مکہ اللہ کے رسول کو بہت سچا آدمی جانتے تھے ‘ صحیح 2 ؎ بخاری کے حوالہ سے جبیر بن مطعم کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے، جس میں محمد بن جبیر کے باپ نے کہا جب میں نے سورة والطور سنی تو میرا دل بےقابو ہوگیا۔ سورة الانعام کی آیتوں اور اوپر کی حدیثوں کو ان آیتوں کے ساتھ لانے کا یہ مطلب ہوا کہ نہ تو قرآن ایسی نئی آسمانی کتاب ہے کہ اس سے پہلے کسی بشر پر آسمانی کتاب کا نازل ہونا ان مشرکین مکہ کے کانوں تک نہ پہنچا ہو ‘ نہ اللہ کے رسول ایسے اوپرے ہیں جن کے سچ چھوٹ سے یہ لوگ واقف نہ ہوں اور نہ قرآن ایسا کلام ہے جو دیوانے لوگوں کے کلام کی طرح بےٹھکانے ہو ‘ بلکہ یہ تو ایسا کلام ہے جس کے سننے سے ان میں کے اکثر لوگوں کے دل بےقابو ہوجاتے ہیں اور وہ اپنے بڑوں کے طریقہ کو چھوڑ کر قرآن کے پیرو بن جاتے ہیں ‘ حاصل یہ ہے کہ ان باتوں میں سے کوئی بات نہیں بلکہ بات فقط اتنی ہے کہ ان میں کے اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق دوزخی ٹھہر چکے ہیں ‘ حاصل یہ ہے کہ ان باتوں میں سے کوئی بات نہیں بلکہ بات فقط اتنی ہے کہ ان میں کے اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق دوزخی ٹھہر چکے ہیں ‘ اس لیے وہ قرآن کی نصیحت کو نہ دھیان سے سنتے ہیں ‘ نہ ان کو سچی بات اچھی معلوم ہوتی ہے ان کو تو یہ اچھا معلوم ہوتا ہے کہ ان کی خواہش کے موافق دنیا میں شرک جائز ہوجائے ‘ یہ نہیں جانتے کہ اگر ایسا ہو تو جس طرح دنیا کے دو بادشاہوں کے شراکت کی بادشاہت کا انتظام بگڑ جاتا ہے ‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا بھی کوئی شریک ہوتا تو تمام عالم کا انتظام خراب ہوجاتا ‘ پھر فرمایا کہ یہ لوگ قرآن کو پچھلے لوگوں کی کہانیاں جو کہتے ہیں قرآن تو ایسا نہیں ہے بلکہ قرآن میں تو ان لوگوں کی عقبیٰ کے درست ہوجانے کی نصیحت ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق جو لوگ بدبخت ٹھہر چکے ہیں وہ اس نصیحت کو دھیان سے نہیں سنتے ‘ پھر فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے قرآن کی نصیحت پر اجرت بھی تو نہیں مانگتے جو یہ لوگ قرآن کی نصیحت سے گھبراتے ہیں ‘ تمہاری اجرت تو اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ رکھی ہے کیونکہ ساری مخلوقات کی پرورش اسی کے ذمہ ہے ‘ پھر فرمایا ‘ ان میں جو لوگ عقبی کے منکر ہیں وہ عقبیٰ کی بہبودی کے سیدھے راستہ کو چھوڑ کر ٹیڑھا راستہ چلتے ہیں ‘ پھر فرمایا ‘ ان لوگوں کو سرکشی کے سبب سے مکہ میں جو قحط پڑا ‘ اگر اللہ اپنی رحمت سے اس قحط کو رفع کردے تو ان لوگوں کی شرارت تو یہاں تک بڑھی ہوئی ہے کہ قحط کے رفع ہوتے ہی پھر یہ لوگ سرکشی کی وہی بہکی ہوئی باتیں کرنے لگیں گے ‘ صحیح بخاری کی عبداللہ بن مسعود کی روایت کے حوالہ سے مکہ کے قحط کا قصہ کئی جگہ گزر چکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قریش نے جب بہت سرکشی شروع کی تو اللہ کے رسول ﷺ نے قریش کے حق میں بددعا کی جس کے اثر سے مکہ میں بہت سخت قحط پڑا ‘ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے صحیح قول 3 ؎ کے موافق آخری آیت میں مختصر طور پر اسی قحط کا ذکر ہے۔ (1 ؎ صحیح بخاری باب اول حدیث) (2 ؎ دیکھئے اوائل صحیح بخاری۔ ) (3 ؎ تفسیر ابن جریر ص 45 ج 8 ا )
Top