Tafseer-e-Majidi - Al-Muminoon : 68
اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘
اَفَلَمْ يَدَّبَّرُوا : کیا پس انہوں نے غور نہیں کیا الْقَوْلَ : کلام اَمْ : یا جَآءَهُمْ : ان کے پاس آیا مَّا : جو لَمْ يَاْتِ : نہیں آیا اٰبَآءَهُمُ : ان کے باپ دادا الْاَوَّلِيْنَ : پہلے
کیا ان لوگوں نے (اس) کلام میں غور نہیں کیا یا (یہ بات ہے کہ) ان کے پاس وہ بات آئی جو ان کے اگلے بڑوں کے پاس (کبھی) نہیں آئی تھی ؟ ،61۔
61۔ (یعنی کیا تکذیب کی بنیاد یہ ہے کہ وحی و رسالت کا تخیل ہی ان کے لئے نامانوس ہے۔ اور یہ آواز پہلی بار ان کے کان میں پڑرہی ہے ؟ ) (آیت) ” افلم یدبروالقول “۔ یعنی اگر یہ لوگ اس کلام پر غور کرتے تو اس کے اعجاز کے قائل ہوجاتے اور تکذیب سے باز آجاتے۔ یہاں تکذیب کا اصل باعث بےالتفاتی کو ٹھہرایا ہے۔
Top