Jawahir-ul-Quran - Al-Muminoon : 68
اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘
اَفَلَمْ يَدَّبَّرُوا : کیا پس انہوں نے غور نہیں کیا الْقَوْلَ : کلام اَمْ : یا جَآءَهُمْ : ان کے پاس آیا مَّا : جو لَمْ يَاْتِ : نہیں آیا اٰبَآءَهُمُ : ان کے باپ دادا الْاَوَّلِيْنَ : پہلے
سو کیا انہوں نے دھیان نہیں کیا58 اس کلام میں یا آئی ہے ان کے پاس ایسی چیز جو نہ آئی تھی ان کے پہلے باپ دادوں کے پاس
58:۔ ” افلم یدبروا الخ “ یہ زجر ہے یہ لوگ حق کا انکار کیوں کرتے ہیں اور ضد پر کیوں اڑے ہوئے ہیں کیا ان لوگوں نے قرآن میں غور و فکر نہیں کیا اور مسئلہ توحید کی حقیقت کو نہیں سمجھا ؟ ” ام جاءھم الخ “ یا یہ مسئلہ توحید کوئی نئی بات ہے جس کی دعوت ان کے باپ دادا کو بھی نہیں پہنچی ؟۔ ” ام لم یعرفوا الخ “ یا وہ اب تک پیغمبر خدا ﷺ کو دیانت و امانت، صدق، مقا۔ اور حسن فعال سے بھی نہیں پہچان سکے ؟ ” ام یقولون بہ جنۃ “ یا وہ اس خیال سے نہیں مانتے کہ وہ پیغمبر (علیہ السلام) کو عیاذا باللہ مجنون سمجھتے ہیں ؟ ان آیتوں میں مشرکین کے لیے تاکید زجر و توبیخ ہے اور ہر جگہ استفہام انکاری ہے جس سے مشرکین کے خیالات کی برائی اور شناعت کا اظہار مقصود ہے۔ الھمزۃ لانکار الواقع و استقباحہ (روح) مذکورہ بالا امور میں سے کوئی ایک بھی مشرکین کے انکار کی وجہ نہیں تھا بلکہ ان سے پہلے حضرت اسمعیل کے ذریعہ ان کے باپ دادا کو بھی اس کی دعوت پہنچ چکی تھی۔ وہ حضرت محمد ﷺ کی دیانت و امانت اور آپ کی سچائی کو بھی خوب جان چکے تھے اور انہیں یہ بھی خوب معلوم تھا کہحضور ﷺ نہایت ہی دانا اور دانشمند ہیں اور اعلی درجہ کی عقل و فراست کے مالک ہیں اس لیے ان کے انکار کی اصل وجہ ضد و حسد اور بغض وعناد تھی قال سفیان بلی قد عرفوہ ولکنھم حسدوہ (قرطبی ج 12 ص 140) ۔ ” اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ“ جنون ولیس کذالک لانھم یعلمون انہ ارجحھم عقلا واثبتھم ذھنا (مدارک ج 3 ص 95) ۔
Top