Anwar-ul-Bayan - Al-Muminoon : 68
اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘
اَفَلَمْ يَدَّبَّرُوا : کیا پس انہوں نے غور نہیں کیا الْقَوْلَ : کلام اَمْ : یا جَآءَهُمْ : ان کے پاس آیا مَّا : جو لَمْ يَاْتِ : نہیں آیا اٰبَآءَهُمُ : ان کے باپ دادا الْاَوَّلِيْنَ : پہلے
کیا انہوں نے اس کلام میں غور نہیں کیا ؟ یا ان کے پاس کچھ ایسی چیز آئی ہے جو ان کے اگلے باپ دادا کے پاس نہیں آئی تھی
(23:68) افلم یدبروا القول۔ میں ہمزہ استفہام انکاری کا وقت ہے۔کلام سابقہ پر عطف کے لئے ہے۔ ای افعلوا ما فعلوا من النکوص والاستکبار والھجر فلم یتدبروا القران لیعلموا بما فیہ۔ کیا ان کا آیات قرآنی سن کر پھرجانا اور تولیت کعبہ پر تکبر وفخر کرنا اور اپنی شبانہ مجلسوں میں قرآن اور فرمان رسول کے متعلق ہرزہ سرائی کرنا (محض جہالت اور ضد کی بنا پر تھا) اور انہوں نے قرآن اور فرمان رسول پر کچھ بھی تدبر نہ کیا۔ القول سے مراد القرآن اور ارشادات رسول کریم ﷺ ہیں۔ لم یدبروا۔ فعل مضارع نفی حجد بلم کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ اس کا مصدر تدبر (تفعل) ہے اصل میں یتدبروا تھا۔ کیا انہوں نے غور نہیں کیا۔
Top