Tafseer-e-Usmani - Al-Muminoon : 68
اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘
اَفَلَمْ يَدَّبَّرُوا : کیا پس انہوں نے غور نہیں کیا الْقَوْلَ : کلام اَمْ : یا جَآءَهُمْ : ان کے پاس آیا مَّا : جو لَمْ يَاْتِ : نہیں آیا اٰبَآءَهُمُ : ان کے باپ دادا الْاَوَّلِيْنَ : پہلے
سو کیا انہوں نے دھیان نہیں کیا اس کلام میں4 یا آئی ہے ان کے پاس ایسی چیز جو نہ آئی تھی ان کے پہلے باپ دادوں کے پاس5
4 یعنی قرآن کی خوبیوں میں غور وفکر نہیں کرتے۔ ورنہ حقیقت حال منکشف ہوجاتی کہ بلاشبہ یہ کام اللہ جل شانہ، کا ہے جس میں ان کی بیماریوں کا صحیح علاج بتلایا گیا ہے۔ 5 یعنی نصیحت کرنے والے ہمیشہ ہوتے رہے ہیں، پیغمبر ہوئے یا پیغمبر کے تابع ہوئے۔ آسمانی کتابیں بھی برابر اترتی رہی ہیں۔ کبھی کہیں، کبھی کہیں۔ سو یہ کوئی انوکھی بات نہیں جس کا نمونہ پیشتر سے موجود نہ ہو۔ ہاں جو اکمل ترین و اشرف ترین کتاب اب آئی اس شان و مرتبہ کی پہلے نہ آئی تھی تو اس کا مقتضی یہ تھا کہ اور زیادہ اس نعمت کی قدر کرتے اور آگے بڑھ کر اس کی آواز پر لبیک کہتے۔ جیسا کہ صحابہ ؓ نے کہی۔ (تنبیہ) شاید یہاں " آباء اولین " سے آباء ابعدین مراد ہوں۔ اور سورة " یس " میں جو آیا ہے۔ " لتنذرقوما ماانذر اٰبآؤہم " وہاں آباء اقربین کا ارادہ کیا گیا ہو۔ واللہ اعلم۔
Top