Urwatul-Wusqaa - Al-Muminoon : 68
اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘
اَفَلَمْ يَدَّبَّرُوا : کیا پس انہوں نے غور نہیں کیا الْقَوْلَ : کلام اَمْ : یا جَآءَهُمْ : ان کے پاس آیا مَّا : جو لَمْ يَاْتِ : نہیں آیا اٰبَآءَهُمُ : ان کے باپ دادا الْاَوَّلِيْنَ : پہلے
پھر کیا انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا یا ان کے سامنے کوئی ایسی عجیب بات آگئی ہے جو ان کے اگلے بزرگوں کے سامنے نہیں آئی تھی ؟
قرآن کریم کے نزول کا مقصد اس میں غور وفکر کرنا ہے اور علامہ حضرات اس سے روکتے ہیں : 68۔ ذرا غور کرو کہ قرآن کریم میں کس طرح بار بار اس پہلو پر زور دیتا ہے کہ کیا لوگوں نے اس پر تدبر نہیں کیا ؟ کیونکہ اس کا سارا مطالبہ تدبر وتعقل ہی سے ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ سچائی کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ عقل وبصیرت اسے پالے گی اور جہل وکوری اس سے روگرداں رہے گی پس اگر لوگ قرآن کریم میں تدبیر و تفکر کریں تو ممکن نہیں کہ اس کی سچائی انہیں گرویدہ نہ کرلے ، یہاں سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ قرآن کریم کا مطالبہ غور وفکر کا ہے نہ کہ تقلید کا پس جو شخص قرآن کریم کے مطالب میں غور وفکر نہیں کرتا وہ اس کا مطالبہ پورا نہیں کرتا اور پھر جب قرآن کریم کے لئے کہ وہ وحی الہی ہے تدبر ضروری ہے تو کیونکر یہ بات جائز ہو سکتی ہے کہ کسی مجتہد اور امام کی تحقیق میں تدبر ضروری نہ ہو ؟ اور ہم بغیر غور وفکر کئے اس کی تقلید کرتے رہیں اور اہل علم کے لئے یہ کیونکر ضروری ہو کہ وہ از روئے تقلید سرتسلیم خم کردیں ؟ لیکن افسوس کہ آج کے اہل علم نے اس بات کو ترجیح دی جس کو اس وقت کے جاہل نہیں بلکہ اجہل ترجیح دیا کرتے تھے کہ ہم کو یہ قطعا حق نہیں کہ قرآن کریم کو عقل وفکر کے ساتھ پڑھیں اور براہ راست بھی اس پر غور وفکر کرسکیں کیونکہ دین کی باتوں اور کاموں میں عقل کو دخل نہیں گویا قرآن کریم کی تعلیمات کے بالکل برعکس علمائے اسلام کی تعلیم ہوگئی اور ہمارے لئے ضروری ٹھہرا کہ ہم قرآن کریم کی تعلیمات کو چھوڑ کر ان نام کے علامہ اور حضرت العلام کی بتائی ہوئی تعلیم پر عمل کریں ۔ وائے افسوس کہ ہم نے اس کو پسند کیا جس سے قرآن کریم نے ہم کو سختی سے منع کیا تھا اور وہی ہمیں پسند نہ آیا جس کی قرآن کریم نے تاکید کی تھی اور ہم نے جہالت کا نام علم رکھ دیا ۔
Top