Tafseer-e-Jalalain - Al-Hadid : 7
اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ
اٰمِنُوْا : ایمان لاؤ بِاللّٰهِ : اللہ پر وَرَسُوْلِهٖ : اور اس کے رسول پر وَاَنْفِقُوْا مِمَّا : اور خرچ کرو اس میں سے جو جَعَلَكُمْ : اس نے بنایا تم کو مُّسْتَخْلَفِيْنَ : پیچھے رہ جانے والے۔ خلیفہ۔ جانشین فِيْهِ ۭ : اس میں فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : تو وہ لوگ جو ایمان لائے مِنْكُمْ : تم میں سے وَاَنْفَقُوْا : اور انہوں نے خرچ کیا لَهُمْ اَجْرٌ : ان کے لیے اجر ہے كَبِيْرٌ : بڑا
(تو) خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور جس (مال) میں اس نے تم کو (اپنا) نائب بنایا ہے اس میں خرچ کرو جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور (مال) خرچ کرتے رہے ان کے لئے بڑا ثواب ہے
امنوا باللہ وسرولہ وانفقوا مما جعلکم مستخلفین فیہ یہ آیت غزوہ تبوک کے بارے میں نازل ہوئی ہے، روح المعانی میں ہے والایۃ علی ماروی عن الضحاک نزلت فی تبوک فلا تغفل اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خطاب کا روئے سخن مسلمانوں کی طرف ہے اس لئے کہ جن حالات میں انفاق فی سبیل اللہ کی بڑے زور دار اور نئے انداز سے اپیل کی جا رہی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اپیل اور ترغیب غیر معمولی حالات کے پیش نظر کی جا رہی ہے جس میں حضرت ابوبکر صدیق نے اپنا کل مال اور حضرت عمر ؓ نے نصف مال اور اس ہنگامی فوجی اور قومی ضرورت کے لئے خدمت میں پیش کیا اور حضرت عثمانی غنی ؓ نے اس غزوہ میں ایک ہزار دینار اور تین سو اونٹ مع ساز و سامان کے پیش کئے اور ایک دوسری روایت کی ہے سے اس ہنگامی اور فوری ضرورت کے لئے ضروری عثمان رضیا للہ تعالیٰ عنہ نے ایک ہزار اونٹ اور ستر گھوڑے مع ان کے ساز و سامان کے پیش کئے، اسی موقع پر آپ ﷺ نے حضرت عثمان غنی ؓ کے حق میں فرمایا ما علی عثمان ؓ بعد ھذہ اور ایک روایت میں ہے، آپ نے فرمایا : غفر اللہ لک یا عثمان ما اسرت وما اعلنت و ماحول کائن الی یوم الپقیامۃ ما بیالی ما عمل بدھا (صاوی) ان قرآئن سے معوم ہوتا ہے کہ یہ خطاب غیر مسلموں سے نہیں ہے بلکہ بعد کی پوری تقریر یہ ظاہر کر رہی ہے کہ مخاطب وہ مسلمان ہیں جو کلمہ اسلام کا اقرار کر کے مسلمانوں کے گروہ میں بظاہر شامل ہوچکے مگر ایمان کے تقاضے پورا کرنے سے پہلے تہی کر رہے تھے ظاہر ہے کہ غیر مسلموں کو ایمان کی دعوت دینے کے ساتھ فوراً ہی ان سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جہاد فی سبیل اللہ کے مصارف میں دل کھول کر اپنا حصہ ادا کرو اور نہ کہا جاسکتا ہے کہ تم میں سے جو فتح مکہ سے پہلے جہاد اور انفاق فی سبیل اللہ کیر گا اس کا درجہ ان لوگوں سے بلند تر ہوگا جو بعد میں یہ خدمت انجام دیں گے غیر مسلم کو دعوت ایمان دینے کی صورت میں تو پہلے اس کے سامنے ایمان کے ابتدائی تقاضے پیش کئے جاتے ہیں نہ کہ انتہائی ا، اگرچہ آمنوا باللہ و رسولہ الخ کے عموم کے لحاظ سے اس بات کی گنجائش ہے کہ مخاطبین میں غیر مسلمین بھی شامل ہوں مگر سیاق وسباق اور فجوائے کلام کے لحاظ سے یہاں آمنہ باللہ و ررسولہ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اے وہ لوگو جو ایمان کا دعویٰ کر کے مسلمانوں کے گروہ میں شامل ہوگئے ہو، اور اس کے رسول کو سچے دل سے مانو اور وہ طرز عمل اختیار کرو جو اخلاص کے ساتھ ایمان لانے والوں کو اختیار کرنا چاہیے۔ سیاق وسباق اور آیت کے شان نزول اور موقع نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر خرچ کرنے سے مراد عام بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا نہیں ہے بلکہ آیت نمبر 10 کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ یہاں اس جدوجہد کے مصارف میں حصہ لینا مراد ہے جو اس وقت کفر کے مقابلہ میں اسلام کو سربلند کرنے کے لئے رسول اللہ ﷺ کی قیادت میں جاری تھی، خاص طور پر اس وقت دو ضرورتیں تھیں جن کے لئے فراہمی مالیات کی طرف فوری توجہ کرنے کی سخت ضرورت تھی جنگی ضروریات اور دوسرے ان مظلوم مسلمانوں کی باز آباد کاری جو کفار کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر عرب کے ہر حصہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تھے اور آرہے تھے، مخلص اہل ایمان ان مصارف کو پورا کرنے کے لئے اپنے اوپر اتنا بوجھ برداشت کر رہے تھے جو ان کی طاقت و وسعت سے بہت زیادہ تھا، لیکن مسلمانوں کے گروہ میں بکثرت اچھے خاصے کھاتے پیتے لوگ ایسے موجود تھے جو کفر و اسلام کی اس کشمکش کو محض تماشائی بن کر دیکھ رہے تھے اور اس بات کا انہیں کوئی احساس نہ تھا کہ جس چیز پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کر رہے ہیں اس کے کچھ حقوق بھی ان کی جان و مال پر عائد ہوتے ہیں، یہی دوسرے قسم کے لوگ اس آیت کے مخاطب ہیں، ان سے کہا جا رہا کہ سچے مومن بنو اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو۔ راہ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب و فضیلت : وانفقوا مما جعلکم مستخلفین فیہ روح المعانی میں اس آیت کے دو مطلب بیان کئے گئے ہیں ایک یہ کہ جو مال تمہارے پاس ہے یہ دراصل تمہارا ذاتی مال نہیں بلکہ اللہ کا بخشا ہوا مال ہے اصل مالک اللہ تعالیٰ ہے، اللہ نے اپنے خلیفہ کی حیثیت سے یہ تمہارے تصرف میں دیا ہے، لہٰذا اصل مالک کی خدمت میں اسے صرف کرنے سے دریغ نہ کرو، نائب کا یہ کام نہیں کہ مالک کے مال کو مالک ہی کے کام میں خرچ کرنے سے جی چرائے۔ دوسرا مطلب وقیل جعلکم خلفاء من کان قبلکم ممن ترثونہ و سینتقل الی غیرکم ممن یرثکم فلاتبخلوا بہ (روح المعانی) اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مال ہمیشہ سے نہ تمہارے پاس تھا نہ ہمیشہ تمہارے پاس رہنے والا ہے، کل یہ دوسرے لوگوں کے پاس تھا پھر اللہ نے تم کو ان کا جانشین بنا کر اسے تمہارے حوالہ کیا، پھر ایک وقت آئے گا کہ جب یہ تمہارے پاس نہ رہے گا دوسرے لوگ اس پر تمہارے جانشین بن جائیں گے، اس عارضی جانشینی کی تھوڑی سی مدت میں جب یہ تمہارے قبضہ تصرف میں ہے، اسے اللہ کے کام میں خرچ کرو تاکہ آخرت میں اس کا مستقل اور دائمی اجر تمہیں حاصل ہو، اسی مطلب کے مطابق اس اعرابی کا قول ہے جس سے کسی نے سوال کیا لمن ھذہ الابل ؟ فقالھی للہ تعالیٰ عندی یہ اللہ کا اونٹ ہے جو میرے پاس امانت ہے۔ اسی مضمون کو حضور ﷺ نے ایک حدیث میں بیان فرمایا ہے، ترمذی میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز ہم نے ایک بکری ذبح کی جس کا اکثر حصہ تقسیم کردیا، ایک دست گھر کے لئے رکھ لیا، آنحضرت ﷺ نے مججھ سے دریافت فرمایا کہ اس بکری میں سے تقسیم کے بعد کیا باقی رہا ؟ حضرت عائشہ نے عرض کیا مابقی الاکتفھا ایک شانے کے سوا کچھ نہیں بچا، آپ ﷺ نے فرمایا بقی کلھا الاکتفھا ایک شانے کے سوا پوری بکری باقی رہ گئی یعنی خدا کی راہ میں جو کچھ دیدیا دراصل وہی بقای رہ گیا۔ بخاری اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا یقول ابن آدم مالی مالی وھل لک من مالک الا ما اکلت فافنیت او لبست فابلیت او تصدقت فامضیت و ماسوا ذلک فذاھب و تارکہ للناس آدمی کہتا ہے کہ میرا مال میرا مال، حالانکہ تیرے مال میں تیرا حصہ اس کے سوا کیا ہے جو تو نے کھا کر ختم کردیا یا پہن کر پرانا کردیا یا صدقہ کر کے آگے بھیج دیا اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ تیرے ہاتھ سے جانے والا ہے اور اسے دوسروں کے لئے چھوڑ جانے والا ہے۔ (مسلم) گزشتہ آیات میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی تاکید بیان فرمانے کے بعد اگلی آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں جو خرچ کیا جائے ثواب تو ہر ایک کو ہرحال میں ملے گا، لیکن ثواب کے درجات میں ایمان و اخلاص اور مسابقت اعتبار سے فرق ہوگا، اس کے لئے فرمایا۔ یایستوی منکم من انفق من قبل الفتح وقاتل یعنی اجر کے مستحق تو دونوں ہی ہیں لیکن ایک گروہ کا رتبہ دوسرے گروہ سے لازماً بلند تر ہے کیونکہ اس نے زیادہ سخت حالات میں اللہ تعالیٰ کی خاطر وہ خطرات مول لئے جو دوسرے گروہ کو درپیش نہ تھے اس نے ایسی حالت میں مال خرچ کیا کہ جب دور دور کہیں یہ امکان نظر نہ آتا کہ کبھی فتوحات سے اس خرچ کی تلافی ہوجائے گی اور اس نے ایسے نازک دور میں کفار سے جنگ مول لی جب ہر قسم یہ اندیشہ تھا کہ دشمن غالب آ کر اسلام کا نام لینے والوں کو پیس ڈالیں گے۔ مجاہد و قتادہ وغیرہ کہتے ہیں کہ یہاں فتح سے مراد فتح مکہ ہے اور عامر و شعبی وغیرہ کہتے ہیں کہص لح حدیبیہ مراد ہے پہلے قول کو اکثر مفسرین نے اختیار کیا ہے۔ اولئک اعظم درجۃ من الذین انفقوا من بعد وقاتلوا اس سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام ؓ کے درمیان شرف و فضل میں تفاوت تو ضرور لیکن تفاوت رجات کا مطلب یہ نہیں کہ بعد میں مسلمان ہونے والے صحابہ کرام ؓ ایمان وا خلاق کے اعتبار سے بالکل گئے ذرے تھے جیسا کہ بعض حضرات امیر معاوضہ ؓ اور ان کے والد حضرت ابوسفیان ؓ ایمان و اخلاق کے اعتبار سے بالکل گئے گذرے تھے جیسا کہ بعض حضرات امیر معاویہ ؓ اور ان کے والد حضرت حضرت ابوسفیان ؓ اور دیگر بعض ایسے ہی جلیل القدر صحابہ ؓ ت عالیٰ عنہم کے بارے میں ہر زہ سرائی یا انہیں طلقاء کہہ کر ان کی تفقیص و اہانت کرتے ہیں، نبی ﷺ نے تمام صحابہ کرام ؓ کے بارے میں فرمایا لاتسبوا اصحابی میرے اصحاب پر سب و ستم نہ کرو قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر اللہ کی راہ میں خرچ کرے وہ میرے صحابی کے خرچ کئے ہوئے ایک مد بلکہ نصف مد کے برابر بھی نہیں تھا۔
Top