Ahsan-ut-Tafaseer - Yaseen : 13
وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ
وَاضْرِبْ : اور بیان کریں آپ لَهُمْ : ان کے لیے مَّثَلًا : مثال (قصہ) اَصْحٰبَ الْقَرْيَةِ ۘ : بستی والے اِذْ : جب جَآءَهَا : ان کے پاس آئے الْمُرْسَلُوْنَ : رسول (جمع)
اور ان سے گاؤں والوں کا قصہ بیان کرو جب ان کے پاس پیغمبر آئے
13۔ تا 19۔ اوپر ذکر تھا کہ نصیحت انہی لوگوں کے دل پر اثر کرتی ہے جو علم الٰہی میں نیک قرار پا چکے ہیں جو لوگ علم الٰہی میں بد قرار پا چکے ہیں ان کے دل پر کسی نصیحت کا کچھ اثر نہیں ہوتا اس قصے میں ایک شخص نیک کا اور بستی کے تمام سرکشوں کا حال بیان کر کے اوپر کی بات کی مثال سمجھائی حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ایک بستی میں دو رسول بھیجے جب بستی کے لوگوں نے ان دونوں رسولوں کو جھٹلایا تو تیسرے رسول کو ان دونوں کی مدد کے لیے بھیجا گیا لیکن بستی کے لوگوں نے ان تینوں رسولوں کو جھٹلایا اور تمام گمراہ قوموں کی طرح یہ کہا کہ اللہ کے رسول انسان نہیں ہوسکتے اس لیے تم تینوں جھوٹے ہو۔ اللہ کے رسولوں نے جواب دیا کہ جس اللہ نے ہم کو رسول بنا کر بھیجا ہے اس کو خوب معلوم ہے کہ ہم اس کے رسول ہیں کیوں کہ اگر ہم اس کا پیغام پہنچانے میں جھوٹ بولتے تو اللہ تعالیٰ ہم کو جھوٹ کی سزا میں پکڑ لیتا تفسیر مقاتل میں ہے کہ جب بستی کے لوگوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تو اس کو سزا کے طور پر اس بستی میں قحط پڑا اسی واسطے بستی کے لوگوں نے اللہ کے رسولوں سے کہا کہ اسی بستی میں تمہارا آنا منحوس ہوا جس سے یہ قحط پڑا اب بھی تم اگر ہمارے ٹھاکروں کی مذمت سے باز نہ آؤگے تو ہم تم کو طرح طرح سے صدمہ پہنچائیں گے اللہ کے رسولوں نے جواب دیا کہ یہ قحط تمہاری ناشکری اور بداعمالی کے سبب سے پڑا ہے جس اللہ نے تم کو تمہاری ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا ہم تو یہی نصیحت کرتے ہیں کہ ان نعمتوں کے شکریہ میں تم خالص اس کی تعظیم کرو اس کی تعظیم اور عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہ ٹھہراؤایسی سیدھی باتوں پر تم جو ہم کو منحوس بتاتے ہو یہ تمہاری حد سے زیادہ گمراہی ہے تمہارے بتوں میں اگر کچھ قدرت ہے تو ان کی مدد سے اللہ کے بھیجے ہوئے قحط کو ٹال دو ورنہ یہ خوب سمجھ لو کہ اللہ کے خلاف مرضی کاموں کے سبب سے ہمیشہ تم پر ایسی آفتیں آتی رہیں گی ‘ اللہ کے رسولوں کی یہ پیشین گوئی سچی ہوئی کہ آخر کو یہ بستی ایک سخت چنگھاڑ کے عذاب سے ہلاک ہوگئی چناچہ اس کا ذکر آگے آتا ہے اس بستی کے لوگوں نے یہ جو کہا کہ اللہ کے رسول انسان نہیں ہوسکتے نوح (علیہ السلام) سے لے کر قریش تک سب گمراہ قوموں نے یہی بات اللہ کے رسولوں سے کہی ہے اور اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے جو دیا ہے وہ سورة الانعام میں گزر چکا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ فرشتے کو اصلی صورت میں دیکھنا انسان کی طاقت سے باہر ہے اس لیے انتظام الٰہی یہی قرار پایا ہے کہ نبی آدم کی ہدایت کے لیے جو رسول اللہ کی طرف سے آوے گا وہ ضرور انسان ہوگا ‘ صحیح بخاری مسلم 1 ؎ میں جبرئیل (علیہ السلام) کا دحیہ کلبی صحابی کی صورت میں وحی لے کر آنے کا جو قصہ ہے اس میں حضرت ام سلمہ ؓ قسم کھا کر فرماتی ہیں (1 ؎ الاصابہ ص 472 جلد اول) کہ میں جبرئیل (علیہ السلام) کو دحیہ کلبی سمجھا کرتی تھی ‘ یہ وحیہ کلبی نہایت خوبصورت شخص تھے یہ وہی صحبی وحیہ بن خلیفہ کلبی ہیں جن کے ہاتھ اللہ کے رسول نے ہرقل بادشاہ روم کے پاس خط بھجا تھا اس حدیث کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب قرار پایا کہ تمام بنی آدم تو درکنار اللہ کے رسول کے دیکھنے والے اعلیٰ مرتبہ کہ نبی آدم بھی جبرئیل (علیہ السلام) کو اصلی صورت میں نہیں دیکھ سکتے تھے اس واسطے جبرئیل (علیہ السلام) وحیہ کلبی صحابی کی صورت بن کر وحی لایا کرتے تھے اس بستی کا کیا نام تھا اور تینوں رسول کس زمانہ میں تھے اس کا ذکر آگے آوے گا۔
Top