Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Jawahir-ul-Quran - Yaseen : 13
وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ
وَاضْرِبْ
: اور بیان کریں آپ
لَهُمْ
: ان کے لیے
مَّثَلًا
: مثال (قصہ)
اَصْحٰبَ الْقَرْيَةِ ۘ
: بستی والے
اِذْ
: جب
جَآءَهَا
: ان کے پاس آئے
الْمُرْسَلُوْنَ
: رسول (جمع)
اور ان سے گاؤں والوں کا قصہ بیان کرو جب ان کے پاس پیغمبر آئے
آیت نمبر
13
تا
32
ترجمہ : آپ ان سے ایک مثال (یعنی) ایک بستی انطاکیہ والوں کی مثال اس وقت کی بیان کیجئے جب اس بستی میں کئی رسول آئے مثلاً مفعول اول ہے اور اَصحٰبَ القریۃِ مفعول ثانی ہے، جب وہ ان کے پاس اذجاءَ ھَا الخ اصحاب القریۃ سے بدل الاشتمال ہے، اور مرسلون سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد مراد ہیں یعنی جب ہم نے ان کے پاس (اول) دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کی تکذیب کی اِذْاَرْسَلْنَا اول اِذْ سے بدل ہے، پھر ہم نے تیسرے سے تقویت دی فَعَزَّزْنَا میں تخفف اور تشدید دونوں قراءتیں ہیں یعنی دو کی تیسرے کے ذریعہ تائید کی، سو ان تینوں نے کہا ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں تو ان لوگوں نے جواب دیا تم تو ہمارے ہی جیسے انسان ہو اور خدا نے کوئی چیز نازل نہیں کی، تم محض جھوٹ بولتے ہو، فرستادوں نے کہا ہمارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں، رَبَّنَا قائم مقام قسم ہے اور اس قسم کے ذریعہ اور لام کے ذریعہ ماقبل کی بہ نسبت زیادتی انکار کی وجہ سے اِنَّا الیکُمْ لمُرْسَلُوْنَ میں تاکید زیادہ لائی گئی ہے اور ہمارے ذمہ تو واضح طور پر (پیغام) پہنچادینا ہے اور بس جو معجزات واضحہ سے مؤیَّد ہے، اور وہ (معجزہ) اندھوں کو بینا کرنا اور کوڑھی ومریض کو تندرست کرنا اور مردوں کو زندہ کرنا ہے وہ کہنے لگے تمہاری وجہ سے بارش موقوف ہونے کے سبب سے ہم کو نحوست لاحق ہوگئی اگر تم باز نہ آؤ گے تو ہم تم کو سنگسار کردیں گے اور تم کو ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی، ان فرستادوں نے کہا تمہاری نحوست تو تمہارے کفر کی وجہ سے تمہارے ساتھ ہے، کیا تم اس کو نحوست سمجھتے ہو کہ تم کو نصیحت کی گئی بلکہ (خود) تم ایسے لوگ ہو کہ اپنے شرک کی وجہ سے حد سے تجاوز کرگئے ہو، ہمزۂ استفہام ان شرطیہ پر داخل ہے اور اس کے ہمزہ میں تحقیق وتسہیل، اور دونوں صورتوں میں اس کے اور دوسرے یعنی (ہمزۂ استفہام) کے درمیان الف داخل کرنا ہے (اور ترک کرنا ہے) اور ذُکِّرْتُمْ بمعنی وُعِظْتُمْ اور خُوِّفْتُمْ ہے اور جواب شرط محذوف ہے یعنی تَطَیَّرْتُمْ وَکَفَرْتُمْ اور یہی محل استفہام ہے اور مراد اس سے تو بیخ ہے اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص کہ جس کا نام حبیب نجار تھا اور وہ رسولوں پر ایمان لاچکا تھا، اور اس کا مکان شہر کے پرلے کنارے پر تھا، جب اس نے قوم کا رسولوں کو جھٹلانا سنا تو دوڑتا ہوا آیا اس نے کہا اے میری قوم ایسے رسولوں کی اتباع کرو ثانی اِتَّبِعُوْا اول اِتَّبِعُوْا کی تاکید (لفظی) ہے، جو تم سے تبلیغ رسالت پر کوئی صلہ نہیں چاہتے اور وہ سیدھے راستہ پر ہیں، تو اس سے کہا گیا کہ کیا تو (بھی) ان کے دین پر ہے ؟ اس نے جواب دیا مجھے کیا (عذر) ہے کہ میں اس کی بندگی نہ کروں کہ جس نے مجھے پیدا کیا ؟ یعنی اس کی بندگی کرنے سے مجھے کوئی مانع نہیں ہے اور اس کی عبادت کا مقتضی (باعث) موجود ہے، اور تمہارا حال بھی ایسا ہی ہے (جیسا میرا ہے) اور مرنے کے بعد تم کو اس کے پاس لوٹ کر جانا ہے، أئَتَّخِذُ کے دونوں ہمزوں میں وہی قراءتیں ہیں جو أئَنْذَرْتَھُمْ میں گذر چکی ہیں، اور یہ استفہام بمعنی نفی ہے کیا میں اس کو چھوڑ کر اس کے غیر کو یعنی بتوں کو معبود بناؤں ؟ اگر خدا حق میں نقصان کا ارادہ کرے تو ان کی شفاعت مجھے کوئی فائدہ نہ دے جس کی تم (ان سے) توقع رکھتے ہو، اور نہ وہ مجھے چھڑاسکیں (لا ینقذونَ ) اٰلَھَۃً کی صفت ہے، اگر میں ایسا کروں یعنی اگر میں غیر اللہ کی بندگی کروں تو بلاشبہ کھلی گمراہی میں پڑگیا، میں تو تمہارے پروردگار پر ایمان لاچکا سو میری طرف دھیان دو یعنی میری بات سنو، تو ان لوگوں نے اس کو سنگسار کردیا تو وہ مرگیا، بوقت انتقال اس کو حکم دیا گیا جنت میں داخل ہوجا اور ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ جیتے جی جنت میں داخل ہوگیا کاش میری قوم کو میرے پروردگار کی طرف سے میری مغفرت کا اور مجھے معزز لوگوں میں داخل کرنے کا علم ہوجاتا اور ہم نے اس (حبیب) کی قوم پر آسمان سے اس کے مرنے کے بعد ان کو ہلاک کرنے کے لئے فرشتوں کا لشکر نہیں بھیجا اور نہ ہم کو کسی کے ہلاک کرنے کے لئے ملائکہ کو اتارنے کی ضرورت تھی مانافیہ ہے ان کی سزا تو صرف ایک چیخ تھی جو ان پر جبرئیل (علیہ السلام) نے ماری، سو وہ اچانک بجھ کر رہ گئے یعنی خاموش مردہ ہو کر رہ گئے ان (کافر) بندوں پر اور جیسے ان لوگوں پر جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی افسوس کہ وہ ہلاک کردیئے گئے اور یہ حسرت کو ندا شدت الم کی وجہ سے ہے اور اس کو ندا مجازاً ہے یعنی اے حسرت یہ تیری حاضری کا وقت ہے لہٰذا تو حاضر ہوجا، ان کے پاس کبھی کوئی رسول نہیں آیا کہ اس کا مذاق نہ اڑایا ہو کلام حسرت کے سبب کو بیان کرنے کے لئے لایا گیا ہے اس کلام کے استہزاء پر دلالت کرنے کی وجہ سے جو مفضی ہے ان کی ہلاکت تک جو حسرت کا مسبب عنہ (یعنی سبب) ہے۔ فائدہ : حسرت کا سبب ہلاکت اور ہلاکت کا سبب استہزاء گویا کہ استہزاء بواسطہ ہلاکت کا سبب ہوا۔ کیا اہل مکہ کو نبی کے بارے میں لَسْتَ مُرْسَلاً کہتے ہیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ ہم ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کرچکے ہیں اور وہ ہلاک شدگان ان کے یعنی اہل مکہ کے پاس (دنیا میں) لوٹ کر آنے والے نہیں اور استفہام تقریری ہے یعنی غور کیا کَمْ خبر یہ ہے، اور کثیراً کے معنی ہے، اور اپنے مابعد کا معمول ہے اور اپنے ماقبل کو اس میں عمل سے روکنے والا ہے، کیا یہ لوگ ان سے عبرت حاصل نہیں کرتے اور اَنَّھُمْ الخ معنی مذکورہ کی رعایت کے ساتھ ماقبل ہے اور معنی میں اِنَّا اَھْلَکْنَا قَبْلَھُمْ کثیراً کے ہے، اور سب کے سب محشر میں زندہ کرنے کے بعد ہمارے روبرو حساب کے لئے حاضر کئے جائیں گے ان نافیہ ہے یا مخففہ ہے کُلٌّ یعنی تمام مخلوق، کُلٌّ مبتداء ہے، لمَّا تشدید کے ساتھ اِلَّا کے معنی میں ہے یا تخفیف کے ساتھ ہے، اور لام فارقہ ہے اور مازائدہ ہے، جمیعٌ مبتداء کی خبر (اول) ہے، اور معنی میں مجموعُوْنَ کے ہے، محضرون للحساب خبر ثانی ہے۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : وَاضْرِبْ لَھُمْ مثلاً یہ کلام مستانف ہے، اور مخاطب آپ ﷺ ہیں، مفسر علام نے مثلاً کو اِضْرِبْ بمعنی اِجْعَلَ کا مفعول اول اور اصحابَ القریۃِ کو مفعول ثانی قرار دیا ہے مگر واضح اور احسن یہ ہے کہ اصحابَ القریۃِ مفعول اول اور مثلاً مفعول ثانی ہو، بعد میں چونکہ اصحاب القریۃ کی تشریح آرہی ہے، اس لئے مفعول اول کو مقدم کردیا تاکہ اجمال و تفصیل متصل ہوجائیں۔ قولہ : واضرب لھم الخ اس کا عطف ہو ای فانذرھم واضرب لھم اور ” ضرب مثل “ بعض اوقات ایک عجیب قصہ کی دوسرے عجیب قصہ کے ساتھ مطابقت ومماثلت بیان کرنے کے لئے بولا جاتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول ضرب اللہ مثلاً للذین کفروا امرأتَ نوحٍ اور بعض اوقات تطبیق و مماثلت کے قصد کے بغیر حالت غریبہ کو بیان کرنے کے لئے بھی اضربْ مثلاً ، بولا جاتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول وضربنا لکم الْاَ مثَال پہلی صورت میں آیت کے معنی ہوں گے اجعل اصحابَ القریۃ مثلاً لِھٰؤلاءِ فی الغلو فی الکفر والا صرار فی التکذیب ای طَبَقَ حالھم بحالھم، اصحاب القریۃ سے پہلے مثل مضاف محذوف ہے، اِضرب لھم مثلاً مثل اصحاب القریۃ اور یہ مضاف مثلاً سے بدل الکل عن الکل ہے، اور بعض حضرات نے عطف بیان بھی مانا ہے، مگر یہ ان کے نزدیک ہے جو تعریف وتنکیر کے اختلاف کے باوجود بدل صحیح مانتے ہیں۔ قولہ : القریۃ قاف کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ الضیعۃ اولمصر الجامع، بستی، آبادی، جمع قُریٰ وقِریٰ (اعراب القرآن) یہاں قریہ سے روم کا مشہور شہر انطار کیہ مراد ہے۔ قولہ : المرسلین حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اہل انطاکیہ کے پاس اولاً اپنے حواریوں میں سے دو قاصد جن کا نام یحییٰ اور بولس تھا بھیجے تھے، اور وہب نے کہا ہے کہ ان کا نام یوحنَّا اور بَولَسْ تھا، اور صادق، مصدوق بھی کہا گیا ہے، اس کے بعد تیسرا قاصد بھیجا، اس کا نام شمعون تھا۔ (اعراب القرآن) قولہ : الیٰ آخرہٖ ای آخر القصہ . قولہ : اِذ اَرْسلنا، اِذ جاءَ ھا المرسلون سے بدل المفصل من المجمل ہے۔ قولہ : رُسُل عیسیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد، مشہور یہی ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ بلا واسطہ اللہ کے رسول تھے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے رسولوں کو بھی اللہ کے رسول کہا جاسکتا ہے اس لئے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے ان کو بھیجا تھا۔ قولہ : تَطَیَّرْنَا کے اصل معنی پرندوں سے نیک یا بدفال لینا، یہاں مطلقاً بدفال لینے کے معنی میں استعمال ہوا ہے، عرب کی عادت تھی کہ وہ پرندوں سے فال (شگون) لیا کرتے تھے، اگر بائیں جانب سے دائیں جانب کو پرندہ اڑ کر سامنے سے گذر جاتا تو عرب اس کو نیک فال مانتے تھے اور اس کو الطائر السانح کہتے تھے، اور اس کی ضد یعنی دائیں جانب سے بائیں جانب کو اڑ کر جانے والے پرندے سے بدفالی لیتے تھے اور اس الطائر البارح کہتے تھے، اس کے بعد ہر بد فال کے لئے استعمال ہونے لگا۔ (مصباح) قولہ : رَبُّنا یَعْلَمُ اِنَّا اِلَیْکُمْ لَمُرْسَلُوْنَ ، اِنَّا اِلَیْکُمْ مرسلُوْنَ میں دو تاکیدوں کا استعمال ہوا ہے ایک جملہ اسمیہ اور دوسرے اِنَّ اس لئے کہ وہاں تکذیب اور نفی میں بھی زیادہ تاکید نہیں تھی، یہاں چونکہ کئی تاکیدوں کے ساتھ انکار و تکذیب مؤکد ہے، اس لئے اثبات میں بھی کئی تاکیدات لائی گئی ہیں، اول قسم جو کہ قائم مقام تاکید کے ہے دوم اِنَّ تیسرے جملہ اسمیہ چوتھے لام تاکید۔ قولہ : بکفر کم باسببیہ ہے ای بسبب کفر کم . قولہ : أئِنْ ذُکِّرْ تُمْ ہمزۂ استفہام انکاری تو بیخی ان شرطیہ پر داخل ہے، دونوں کو جواب کی ضرورت ہے اگر ہمزۂ استفہام اور شرط جمع جائیں تو سیبویہ ہمزۂ استفہام کا جواب قرار دیتے ہیں اور جواب شرط محذوف مانتے ہیں، اور یونس شرط کا جواب مانتے ہیں اور جواب استفہام محذوف مانتے ہیں، مفسر علام محلی نے جواب الشرط محذوف کہہ کر اشارہ کردیا کہ ان کے نزدیک سیبویہ کا مذہب راجح ہے، سیبویہ کے نزدیک تقدیر عبارت یہ ہوگی اَئِنْ ذُکِّرْ تُمْ تتَطَیَّرونَ اور یونس کے نزدیک ائِنْ ذکِّرْتُمْ تطیَّروا جزم کے ساتھ، مفسر علام نے بمَا غَفَرَلی رَبِّی کی تفسیر بغفرانہٖ سے کرکے اشارہ کردیا کہ مصدریہ ہے اور یہ بھی درست ہے کہ ماموصولہ ہو اس صورت میں عائد محذوف ہوگا، اور تقدیر عبارت یہ ہوگی بالَّذِیْ غفرہٗ ربِّی من الذنوب اور استفہامیہ بھی صحیح ہے ای بایِّ شیئٍ غفرلی ای بامر ٍ عظیمٍ وھو تو حیدی وصدقی بالحق (صاوی) حسرت کو ندادینا مجازاً ہے اس لئے کہ حسرت میں منادیٰ بننے کی صلاحیت نہیں ہے۔ قولہ : یَاحَسْرَۃً علَی العِبَاد اس میں تین احتمال ہیں (
1
) یہ اللہ کا کلام ہو (
2
) ملائکہ کا کلام ہو (
3
) مومنین کا کلام ہو اور اَلْعبَاد سے مراد تمام کفار ہوں، اس صورت میں الف لام جنس کا ہوگا، اور کہا گیا ہے کہ العباد سے مراد رُسُل ہوں اور علیٰ بمعنی مِن ہو اور قائل کفار ہوں، تقدیر عبارت یہ ہوگی یَاحَسْرَۃً علَیْنَا مِن مخالفۃ العِبَادِ مگر پہلی صورت اولیٰ ہے جو مفسر علام نے بیان کی ہے۔ قولہ : اِلَّا کانوا بہٖ یَستھْزِءُوْنَ یہ جملہ یاتیْھمْ کے مفعول سے حال ہے۔ قولہ : مَسوقٌ لِبَیَانِ سببِھَا یہ جملہ مستانفہ ہے اور سبب حسرت کو بیان کرنے کے لئے لایا گیا ہے، گویا کہ یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے، سوال کیا گیا، ماوَجْہُ التَّحَسُّر علیھمْ ؟ جواب دیا گیا مَا یاتِیْھِمْ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا کَانُوْا بہٖ یَستَھْزِءُوْنَ یعنی یہ جملہ بالواسطہ سبب حسرت کو بیان کرنے کے لئے ہے کہ استہزاء سبب ہلاکت ہے اور ہلاکت سبب حسرت ہے تو گویا استہزاء سبب حسرت ہے۔ قولہ : لا شتمالِہٖ ای لِدَلَالَۃِ ھَذا الکلام علی الإستھزاءِ ۔ قولہ : الَمْ یَرَوْا الخ یہاں رویۃ سے رویت علمیہ مراد ہے یعنی کیا اہل مکہ کو علم نہیں کَمْ خبر یہ ہے اور اَھْلَکْنَا کا مفعول مقدم ہے اور قَبْلَھُمْ اَھْلَکْنَا لا ظرف ہے اور مِنَ القرُوْنِ کَمْ کا بیان ہے اَلَمْ یَرَوْا میں استفہام تقریر یعنی مابعد نفی کا اقرار کرانے کے لئے ہے یعنی علم ہے کَمْ خبر یہ مابعد یعنی اَھْلَکْنَا کا معمول ہے ماقبل یعنی لَمْ یَرَوا کا معمول نہیں ہے اس لئے کہ کَمْ خبر یہ صدارت کلام کو چاہتا ہے لہٰذا اس کا ماقبل اس میں عامل نہیں ہوسکتا ورنہ تو اس کی صدارت باطل ہوجائے گی۔ (صاوی) قولہ : مُعَلِّقَۃٌ مَا قَبْلَھَا عَنِ العَمَلِ یعنی کم خبر یہ نے اپنے ماقبل یعنی لم یَرَوا کو لفظاً عمل سے روک دیا ہے اگرچہ معنی میں عمل جاری ہے۔ سوال : عمل سے مانع کم استفہامیہ ہوتا ہے نہ کہ خبر یہ، اور یہ کم خبریہ ہے ؟ جواب : چونکہ کم میں استفہامیہ ہونا اصل ہے، لہٰذا تعلیق (مانع) ہونے میں کم خبریہ کو کم استفہامیہ کے قائم مقام کردیا ہے۔ (جمل) تفسیر وتشریح واضرب۔۔۔ القریۃ ضرب مثل کا استعمال دو طریقوں پر ہوتا ہے (
1
) کسی عجیب و غریب معاملہ کو ثابت کرنے کے لئے اسی جیسے عجیب و غریب معاملہ کی مثال بیان کرنے کو کہتے ہیں (
2
) مطلقاً کسی عجیب و غریب معاملہ کو بغیر کسی واقعہ کی تطبیق ومماثلت کے بیان کرنے کو کہتے ہیں۔ اوپر جن منکرین نبوت و رسالت کفار کا ذکر سابقہ آیات میں آیا ہے ان کو متنبہ کرنے کے لئے قرآن کریم نے بطور مثال پہلے زمانہ کا ایک قصہ بیان کیا ہے جو ایک بستی میں پیش آیا تھا۔ یہ بستی کونسی تھی اور وہ قصہ کیا تھا ؟ قرآن کریم نے اس بستی کا نام نہیں بتایا، تاریخی روایات میں محمد بن اسحٰق نے حضرت ابن عباس ؓ اور کعب احبار، اور وہب بن منبہ سے نقل کیا ہے کہ یہ بستی انطاکیہ تھی، جمہور مفسرین نے اسی کو اختیار کیا ہے، معجم البلدان کی تصریح کے مطابق انطاکیہ ملک شام کا مشہور اور عظیم الشان شہر ہے جو اپنی شادابی اور استحکام میں معروف ہے، اس شہر میں نصاریٰ کے عبادت خانے بکثرت تھے، زمانہ اسلام میں اس کو فاتح شام امین الامتہ حضرت ابوعبیدہ جراح ؓ نے فتح کیا تھا، روح البیان میں سہیلی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ شہر انطاکیہ کو آباد کرنے والا ایک شخص تھا جس کا نام انطیقس تھا، اسی شخص کی طرف نسبت کرتے ہوئے اس شہر کا نام انطاکیہ ہوگیا، بائبل کتاب اعمال کے آٹھویں اور گیارہوں باب میں ایک قصہ کے مشابہ قدرے تفاوت کے ساتھ انطاکیہ کا بیان ہوا ہے۔ (فوائد عثمانی ملخصًا) اس قصہ کا ذکر مومنین کے لئے بشارت اور مکذبین کے لئے عبرت ہے، معجم البلدان میں یاقوت حموی نے یہ بھی لکھا ہے کہ حبیب نجار (جس کا واقعہ اس آیت میں آگے آرہا ہے) اس کی قبر بھی انطاکیہ میں معروف ہے، دور دور سے لوگ اس کی زیارت کے لئے آتے ہیں، اس تصریح سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں قریہ کا ذکر ہے وہ یہی انطاکیہ ہے، لیکن ابن کثیر نے تاریخی حیثیت ماننی پڑے گی، صاحب فتح المنان نے ابن کثیر کے اشکالات کے جوابات بھی دیئے ہیں، مگر سہل اور بےغبار بات وہی ہے جو حضرت حکیم الامت مولانااشرف علی تھانوی (رح) تعالیٰ نے بیان القرآن میں اختیار فرمائی ہے، کہ آیات قرآنی کا مضمون سمجھنے کے لئے اس قریہ کی تعیین ضروری نہیں ہے، اور قرآن کریم نے بھی اس کو مبہم رکھا ہے تو اس کی تعیین کے لئے اتنا زور صرف کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ سلف صالحین کا یہ ارشاد کہ اَبْھِمُوْا مَا اَبْھَمَہُ اللہ یعنی اللہ نے جس چیز کو مبہم رکھا ہے تم بھی اس کو مبہم رکھو، اس کا مقتضی بھی یہی ہے۔ اذ۔۔۔ سلون یہ فرستادے حضرت (علیہ السلام) کے حواریین میں سے تھے، آیا ان کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اہل انطاکیہ کی جانب تعلیم و تبلیغ کی عرض سے بحکم خدا وندی بھیجا تھا، یا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے رفع الی السماء کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو تبلیغ دین کے لئے اہل انطاکیہ کی جانب بھیجا تھا دونوں احتمال ہیں (فتح القدیر) اہل انطاکیہ نے ان کی تکذیب کی، کہا گیا ہے کہ ان میں سے دو کے نام یوحنا اور شمعون تھے، اور بعض نے سمعان، ویحییٰ وبولس کہا ہے، انکے ناموں کی کسی صحیح روایت سے تصدیق نہیں ہوسکتی، اور نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ بلاواسطہ اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبر تھے یا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے قاصد، اگر یہ حضرات بلا واسطہ پیغمبر تھے تو ان کی بعثت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے ہوئی تھی۔ (فوائد عثمانی ملخصًا) اولاً دو رسول بھیجے گئے تھے جب بستی والوں نے ان کی تکذیب کی تو اللہ نے ان کی تائید وتقویت کے لئے ایک تیسرا رسول بھیج دیا، پھر ان تینوں رسولوں نے بستی والوں کو خطاب کرکے کہا اِنَّا اِلَیْکُمْ مُرْسَلُوْنَ ۔ قالو۔۔ مثلنا بستی والوں نے کہا تم میں کونسا سرخاب لا پر ہے جو اللہ نے تمہیں رسول بنا کر بھیجا ہے، تم ہم سے کس بات میں بڑھ کر تھے جس کی وجہ سے اللہ نے تم کو نبوت و رسالت کے لئے منتخب فرمایا تم خواہ مخواہ اللہ کا نام لیتے ہو، معلوم ہوتا ہے تم تینوں نے سازش کرکے ایک بات گھڑلی ہے۔ قالو۔۔ بکم تطیر کے معنی بدفالی کے ہیں، مطلب یہ ہے کہ اس بستی والوں نے ان قاصدوں کی بات نہ مانی، بلکہ کہنے لگے کہ تم لوگ منحوس ہو، بعض روایات میں ہے کہ ان کی نافرمانی اور فرستادوں کی بات نہ ماننے کی وجہ سے اس بستی میں قحط پڑھ گیا تھا، اس لئے بستی والوں نے ان کو منحوس کہا، تو ان حضرات نے کہا۔ طائر۔۔ معکم یعنی تمہاری نحوست تمہارے ہی ساتھ ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ خشک سالی وغیرہ سب تمہارے اعمال کا نتیجہ ہیں، وجاء اقصی المدینۃِ رجُلٌ یَّسْعٰی پہلی آیت میں اس بستی کو قریہ سے تعبیر کیا ہے اور اس آیت میں مدینہ سے، قریہ عربی زبان میں مطلقاً بستی کو کہتے ہیں خواہ بڑی ہو یا چھوٹی اور مدینہ بڑے شہر کو کہتے ہیں، یعنی شہر کے دور و دراز علاقہ سے یہ شخص تیزی کے ساتھ دوڑ کر یا اہتمام کے ساتھ آیا۔ دوڑ کر آنے والا شخص کون تھا ؟ یہ کیا کام کرتا تھا ؟ قرآن اس بارے میں خاموش ہے تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کا نام حبیب تھا، اور مشہور یہ ہے کہ یہ نجار تھا، لکڑی کا کام کرتا تھا۔ (ابن کثیر) تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص بھی شروع میں بت پرست تھا۔ واقعہ کی تفصیل : مذکورہ قصہ کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے حواریوں میں سے دو کو اہل انطاکیہ کی دعوت وتبلغ کے لئے بھیجا، ایک کا نام صادق اور دوسرے کا نام مصدوق تھا، (ناموں میں اختلاف ہے) جب یہ دونوں حضرات شہر انطاکیہ کے قریب پہنچے تو ان کی ملاقات حبیب نامی ایک بوڑھے سے ہوگئی، جو جنگل میں بکریاں چرارہا تھا، دعا سلام کے بعد شیخ نے ان سے پوچھا تم کون لوگ ہو اور کہاں سے آرہے ہو، تو ان دونوں حضرات نے جواب دیا ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد ہیں، ہم تم کو بتوں کی عبادت سے رحمٰن کی عبادت دیتے ہیں، شیخ نے معلوم کیا کیا تمہارے پاس نشانی ہے، کہا ہاں ! ہم مریضوں کو اچھا کردیتے ہیں، اور اندھوں کو بینا اور کوڑھیوں کو اللہ کے حکم سے صحت مند کردیتے ہیں، اور یہ ان حضرات کی کرامت اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ تھا، شیخ نے کہا میرا ایک لڑکا ہے جو سالہاسال سے بیمار ہے، چناچہ یہ دونوں حضرات شیخ کے ہمراہ اس کے لڑکے کو دیکھنے کے لئے اس کے گھر چلے گئے، ان دونوں حضرات نے مریض پر ہاتھ پھیردیا، لڑکا بحکم خدا وندی اسی وقت تندرست ہوگیا، چناچہ یہ خبر آناً فاناً پورے شہر میں پھیل گئی، اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر سینکڑوں لوگوں کو شفاء عطا فرمائی، ان کا ایک بت پرست بادشاہ تھا جس کا نام انطیخا تھا، روح البیان میں اس بادشاہ کا نام بحناطیس رومی اور انطیخس لکھا ہے، شدہ شدہ ان حضرات کی خبر بادشاہ کو بھی پہنچ گئی، بادشاہ نے ان کو اپنے دربار میں بلایا اور معلوم کیا تم کون ہو ؟ جواب دیا ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد ہیں، بادشاہ نے معلوم کیا تمہارے آنے کا کیا مقصد ہے ؟ ان حضرات نے جواب دیا ہم اس بات کی دعوت دینے آئے ہیں، کہ ان بہرے گونگے بتوں کی بندگی ترک کرکے قارد مطلق، دانا وبینا ایک خدا کی بندگی کرو، بادشاہ نے کہا کیا ہمارے معبودوں کے علاوہ بھی کوئی معبود ہے ؟ ان دونوں حضرات نے جواب دیا، ہاں ! جس نے تجھ کو اور تیرے معبودوں کو پیدا کیا، بادشاہ نے کہا اس وقت یہاں سے چلے جاؤ، ہم تمہارے معاملہ میں غور کرلیں، ان دونوں حضرات کے دربار سے نکلنے کے بعد لوگوں نے ان کا پیچھا کیا اور پکڑ لیا، ہر ایک کو سو سو کوڑے مارے اور جیل میں بند کردیا، اس کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے حواریین میں سے سب سے بڑے حواری شمعون کو ان کی تائید و حمایت کے لئے بھیجا، شمعون ہیئت اور لباس بدل کر اس قربہ میں داخل ہوا، اور بادشاہ کے مصاحبین میں شامل ہوگیا، لوگ اس سے مانوس ہوگئے حتی کہ بادشاہ بھی اس سے مانوس ہوگیا، شمعون عبادت میں بظاہر بادشاہ کے طور طریقے اختیار کرتا رہا ایک روز موقع پا کر شمعون نے بادشاہ سے کہا سنا ہے کہ آپ نے دو آدمیوں کو اس بناء پر قید میں ڈال رکھا ہے کہ وہ تیرے معبودوں کے علاوہ کسی دوسرے معبود کا عقیدہ رکھتے ہیں، کیا آپ نے ان سے گفتگو کی ہے اور ان کی پوری بات سنی ہے ؟ بادشاہ نے جواب دیا میں غصہ کی وجہ سے نہ ان کی پوری بات سن سکا اور نہ ان کی تحقیق حال ہی کرسکا، شمعون نے کہا میں چاہتا ہوں کہ آپ ان کو بلائیں اور پوری بات سنیں اور دیکھیں کہ وہ کیا کہتے ہیں، چناچہ بادشاہ نے ان دونوں کو بلایا، جب دونوں دربار میں حاضر ہوگئے تو شمعون نے سوال کیا تم کو یہاں کس نے بھیجا ہے ؟ جواب دیا کہ اس اللہ نے جس نے ہر شئ کو پیدا کیا اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے، شمعون نے کہا اختصار کے ساتھ کچھ اور تفصیل بیان کرو، انہوں نے کہا اِنَّہٗ یَفْعَلُ مَایَشَاءُ ویَحْکُمُ مَایُرِیْدُ پھر شمعون نے کہا تمہارے پاس اس کی کیا دلیل ہے ؟ ان حضرات نے کہا کو آپ چاہیں، چناچہ بادشاہ کے حکم سے ایک لڑکا لایا گیا جو نابینا تھا، حتی کہ اس کی آنکھوں کے نشانات بھی نہیں تھے، یہ حضرات اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہے تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھوں کے نشانات ظاہر فرمادیئے، ان حضرات نے مٹی کی دو گولیاں لیکر آنکھوں کے نشانات میں رکھ دیں، اللہ تعالیٰ کی قدرت سے وہ آنکھ کی پتلیاں بن گئیں، اور ان سے نظر آنے لگا، بادشاہ کو نہایت تعجب ہوا، شمعون نے بادشاہ سے کہا اگر آپ اپنے معبودوں سے دعا کرتے تو کیا یہ ممکن تھا ؟ بادشاہ نے شمعون سے کہا تجھ سے کوئی راز پوشیدہ نہیں، ہمارے معبود جن کی ہم بندگی کرتے ہیں نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں اور نہ وہ کسی کو نفع پہنچا سکتے ہیں، اور نہ نقصان، بادشاہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصدوں سے کہا اگر تملہارا معبود مردے کو زندہ کردے تو میں اس پر ایمان لے آؤں گا، ان حضرات نے جواب دیا ہمارا معبود ہر شئ پر قادر ہے، بادشاہ نے کہا، یہاں ایک میت ہے جس کا ایک ہفتہ قبل انتقال ہوا ہے اور وہ ایک دیہاتی کا لڑکا ہے اس کا باپ سفر میں ہے، میں نے اس کے والد کے آنے تک میت کو دفن کرنے سے منع کردیا ہے، حتی کہ اب اسمیں تعفن بھی ہوگیا ہے، ان دونوں حضرات نے علانیہ اور شمعون نے خفیہ دعاء کرنی شروع کی، چناچہ وہ لڑکا بحکم خدا وندی اٹھ کھڑا ہوا، اور کہنے لگا مرا انتقال ایک ہفتہ پہلے ہوا تھا، اور میں مشرک تھا، چناچہ مجھکو جہنم کی سات وادیوں میں داخل کردیا گیا، میں تمکو اس دین و مذہب کے بارے میں خدا سے ڈراتا ہوں جس پر تم ہو، چناچہ یہ لوگ اللہ پر ایمان لے آئے، زندہ ہونے والے لڑکے نے کہا میرے سامنے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے ہیں، اور مجھے ایک حسین و جمیل نوجوان نظر آرہا ہے جو ان تینوں یعنی شمعون اور اسکے دونوں ساتھیوں کی سفارش کررہا ہے، اور میں اس بات کی شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور عیسیٰ اس کی روح اور اس کے کلمہ ہیں، ایک روایت میں ہے کہ یہ واقعہ دیکھکر بادشاہ اور اسکی قوم کے کچھ افراد ایمان لے آئے، ایک روایت میں ہے کہ بادشاہ نے دعوت حق قبول کرنے سے انکار کردیا اور انکے قتل کے درپے ہوگیا جب حبیب نجار کو یہ صورت حال معلوم ہوئی تو وہ شہر کے دور دراز کنارے سے دوڑتا ہوا آیا، اور انکو سمجھانے کی کوشش کی اور پھر اپنے مومن ہونے کا اعلان ان کلمات سے کردیا اِنِّی آمنتُ بِرَبِّکُمْ فاسْمَعُوْنِ یہ خطاب رسولوں کو تھا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پوری قوم کو خطاب ہو اور اللہ کو ان کا رب کہنا اظہار حقیقت کے طور پر تھا، اگرچہ وہ اس کو تسلیم نہ کرتے تھے (واقعہ کی تفصیل روح البیان اور صاوی سے ماخوذ ہے) قیل۔۔ الجنۃ (الآیۃ) قرآن کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حبیب نجار کو شہید کردیا گیا اس لئے کہ دخول جنت یا آثار جنت کا، شاہدہ بعد از مرگ ہی ہوسکتا ہے، تاریخی روایات میں حضرت عباس ؓ مقاتل، مجاہد، ائمہ تفسیر سے منقول ہے کہ اس شخص کا نام حبیب بن اسماعیل نجار تھا، اور یہ ان خوش نصیب لوگوں میں ہے جو ہمارے رسول محمد ﷺ پر آپ کی بعثت سے چھ سو سال پہلے ایمان لایا، جیسا کہ تبَّع اکبر کے متعلق منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بشارت کتب سابقہ میں پڑھ کر آپ پر ایمان لایا تھا، تیسرے بزرگ جو آپ پر آپ کی بعثت و دعوت سے پہلے ایمان لائے ورقہ بن نوفل ہیں، جن کا ذکر بخاری شریف میں ابتداء وحی کے واقعات میں ہے، یہ بھی آپ ﷺ کی حصوصیات ہے کہ آپ کی بعثت بلکہ ولادت سے بھی پہلے آپ پر بعض حضرات ایمان لائے، ایسا معاملہ کسی اور رسول کے ساتھ نہیں ہوا۔ وما۔۔۔ السماء (الآیۃ) یہ اس قوم پر آسمانی عذاب کا ذکر ہے جس نے رسولوں کی تکذیب کی، اور حبیب نجار کو مار مار کر شہید کردیا تھا، اور عذاب کی تمہید کے طور پر فرمایا کہ اس قوم کو عذاب میں پکڑنے کے لئے ہمیں آسمان سے کوئی لشکر بھیجنا نہیں پڑا، اور نہ ایسا لشکر بھیجنا ہمارا دستور ہے، کیونکہ اللہ کا ایک ہی فرشتہ بڑی بڑی بہادر قوموں کو تباہ کردینے کے لئے کافی ہے، اس کو فرشتوں کا لشکر بھجنے کی کیا ضرورت ہے ؟ اس تمہید کے بعد ان پر آنے والے عذاب کو بیان فرمایا کہ بس اتنا ہوا کہ حضرت جبرئیل امین نے شہر پناہ کے دروازے کی چوکھٹ کے دونوں بازو پکڑ کر ایک ایسی زور دار چیخ ماری کہ سب کے پتّے پھٹ گئے اور روح پرواز کرگئی اور بجھ کر ٹھنڈے ہو کر رہ گئے۔ (معارف ملخصًا)
Top