Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Maarif-ul-Quran - Yaseen : 13
وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ
وَاضْرِبْ
: اور بیان کریں آپ
لَهُمْ
: ان کے لیے
مَّثَلًا
: مثال (قصہ)
اَصْحٰبَ الْقَرْيَةِ ۘ
: بستی والے
اِذْ
: جب
جَآءَهَا
: ان کے پاس آئے
الْمُرْسَلُوْنَ
: رسول (جمع)
اور ان سے گاؤں والوں کا قصہ بیان کرو جب ان کے پاس پیغمبر آئے
قصہ اصحاب القریہ برائے عبرت ونصیحت مکذبین رسالت قال اللہ تعالیٰ واضرب لہم مثلا اصحب القریۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وہم مھتدون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں معاندین اور مکذبین رسالت کا ذکر تھا اب آگے ان کی تہدید اور عبرت کے لئے ایک آبادی کا قصہ بیان کرتے ہیں تاکہ مشرکین مکہ کو معلوم ہوجائے کہ مستکبرین اور منکرین نبوت کا کیا انجام ہوتا ہے اور ایسوں کو ڈرانا اور نہ ڈرانا برابر ہے اس قصہ کے ذکر کرنے سے مسئلہ نبوت و رسالت کی تائید اور تکذیب کرنے والوں کی تہدید مقصود ہے تاکہ مکذبین رسالت اس سے عبرت پکڑیں۔ اور جان لیں کہ ذکر اور نصیحت سے اعراض کا کیا انجام ہوتا ہے۔ جمہور مفسرین یہ کہتے ہیں کہ اس قصہ میں جس قریہ کا ذکر ہے اس سے شہر انطاکیہ مراد ہے جو شام کے علاقہ میں ایک بستی ہے اور اس قصہ میں جن مرسلین کا ذکر ہے ان سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری مراد ہیں جو شہر انطاکیہ میں وعظ اور نصیحت اور تبلیغ اور دعوت کی غرض سے آئے تھے۔ تاکہ وہاں کے بت پرستوں کو توحید اور رسالت اور قیامت پر ایمان لانے کی دعوت دیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے رفع الی السماء سے کچھ پہلے ان تین حواریوں کو انطاکیہ کی طرف بھیجا کہ ان کو دین حق کی دعوت دیں اور چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان حواریوں کو اللہ کے حکم سے بھیجا تھا اس لئے اذ ارسلنا الیہم اثنین میں ان کے ارسال کو خداوند ذوالجلال کی طرف منسوب کیا گیا غرض یہ کہ اس رکوع میں جن کو مرسلین کہا گیا وہ خداوند کے بلاواسطہ رسول نہ تھے بلکہ نائب رسول یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرستادہ تھے اور وہ تینوں عیسیٰ (علیہ السلام) کے مبلغ اور ایلچی تھے ان کی طرف سے لوگوں کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کی اور ان کی شریعت کی اتباع کی دعوت دیتے تھے اس لئے اہل قریہ نے ان مبلغین کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قائم مقام اور وکیل سمجھ کر ان انتم الا بشر مثلنا کہا۔ اہل قریہ کی طرف سے ظاہر میں یہ خطاب حواریین کو تھا مگر در پردہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو تھا اس لئے کہ اصل رسول تو عیسیٰ (علیہ السلام) تھے اور یہ حواری ان کے وکیل اور قائم مقام اور نمائندہ تھے اور مرسل اور ” مرسلین “ کے معنی فرستادہ کے ہیں۔ خواہ خدا تعالیٰ کے رسول مرسل ہوں یا کسی نبی کے فرستادہ ہوں۔ لفظ مرسل کا اطلاق سب پر آیا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس فرشتوں کی ایک جماعت آئی تو یہ فرمایا۔ قال فما خطبکم ایھا المرسلون اس آیت میں مرسلین سے فرشتے مراد ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے بھیجا تھا۔ اور ملکہ بلقیس نے جو سلیمان (علیہ السلام) کے پاس قاصد اور ایلچی بھیجے تھے ان پر بھی مرسلین کا اطلاق آیا ہے۔ انی مرسلۃ الیہم بھدیۃ فناظرۃ بم یرجع المرسلون۔ اسی طرح ہوسکتا ہے کہ ان آیات میں مرسلین سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرستادہ مراد ہوں۔ اور بعض علماء تفسیریہ کہتے ہیں کہ تینوں شخص بلا واسطہ خدا کے رسول تھے اس قریہ والوں کی طرف اول دو رسول بھیجے گئے۔ جیسے اہل مصر کی طرف اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا۔ دیکھو تفسیر (ف 1) قرطبی ص 14 ج 15۔ 1 قال الامام القرطبی قیل ہم رسل من اللہ علی الابتداء وقیل ان عیسیٰ (علیہ السلام) بعثہم الی انطاکیۃ للدعاء الی اللہ تعالیٰ وھو قولہ تعالیٰ اذ ارسلنا الیہم اثنین واضاف الرب ذلک الی نفسہ لان عیسیٰ (علیہ السلام) اوسلھما بامرا لرب وکان ذلک حین رفع عیسیٰ الی السماء اھ تفسیر قرطبی ص 14 ج 15۔ غرض یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسی قریہ والوں کی طرف اول دو رسول بھیجے پھر بعد میں ان کی تائید اور تقویت کے لئے تیسرا رسول بھیجا۔ تینوں نے مل کر ان بت پرستوں کو توحید کی دعوت دی۔ اہل قریہ نے ان کے جواب میں کہا ما انتم الا بشر مثلنا کہ تم لوگ تو ہم ہی جیسے بشر اور آدمی ہو۔ اہل قریہ کا یہ کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ تینوں شخص بلا واسطہ خدا کے رسول تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے اہل انطاکیہ کی طرف رسول بنا کر بھیجا تھا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرستادہ نہ تھے پس اگر یہ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مبلغ اور ایلچی یا ان کے فرستادہ ہوتے تو اہل قریہ ان سے یہ نہ کہتے ما انتم الا بشر مثلنا کیونکہ آدمی کی طرف سے آدمی کے ایلچی ہونے کے وہ بھی منکر نہ تھے نیز اگر وہ تینوں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری ہوتے تو وہ خود کہتے کہ ہم عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے یہ پیام لے کر آئے ہیں اور ہم ان کے قاصد اور ایلچی ہیں اس لئے حافظ ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک اس قریہ سے قریہ انطاکیہ مراد نہیں بلکہ گزشتہ زمانہ کی کوئی بستی مراد ہے جہاں یہ واقعہ گذرا ہے اور ہم کو اس کی تفصیل اور تعیین معلوم نہیں نیز یہ بستی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر سب سے پہلے ایمان لانے والی بستیوں میں سے ہے۔ منکرین اور مکذبین رسالت سے نہیں اور نہ یہ بستی عذاب الٰہی سے ہلاک ہوئی۔ معلوم ہوا کہ اس رکوع میں جس قریہ کا ذکر کیا گیا ہے اس سے انطاکیہ مراد نہیں بلکہ پہلے زمانہ کی کوئی بستی مراد ہے۔ جس کا ہمیں علم نہیں اور یہ قصہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے زمانہ کے مکذبین رسالت کا ہے جہاں اول بار خدا تعالیٰ نے دو رسول بھیجے اور پھر ان کی مدد کے لئے تیسرا رسول بھیجا پھر ان تین رسولوں کی مدد کے لئے شہر کے کنارہ سے ایک مرد صالح آیا جس نے رسولوں کی اطاعت اور اتباع کے متعلق نہایت معقول اور مدلل تقریر کی جس پر نادانوں نے برافروختہ ہو کر اس مرد صالح کو قتل کردیا یا خدا تعالیٰ نے اپنی رحمت اور عنایت سے اس کو صحیح سالم زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ بہر حال اس قریہ سے قریہ انطاکیہ مراد نہیں بلکہ کوئی اور بستی مراد ہے اور قرآن کریم اور احادیث صحیحہ سے یہ ثابت نہیں کہ یہ قصہ کس بستی کا ہے اور کن رسولوں اور پیغمبروں کے زمانہ کا یہ واقعہ ہے لہٰذا بہتر یہ ہے کہ بستی کی تعیین سے سکوت کیا جائے اس لئے کہ ان آیات کی تفسیر اس قریہ کی اور رسولوں کی تعیین پر موقوف نہیں اس قصہ کے بیان سے منکرین رسالت کی تہدید مقصود ہے وہ بہر صورت حاصل ہے۔ مقصود کفار مکہ کو سنانا ہے کہ سن لیں منکرین نبوت و رسالت کا یہ انجام ہوتا ہے جو اہل قریہ کا ہوا پس اے ہمارے نبی آپ ﷺ یہ قصہ اہل مکہ کو سنا دیجئے تاکہ جو ایمان کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ ایمان لے آئیں اور جو کٹر کافر ہیں وہ روز بد کے لئے تیار ہوجائیں غرض یہ کہ آیات قرآنیہ تعیین قریہ کے بارے میں مبہم ہیں اس لئے اب ہم بھی تعیین سے سکوت کرتے ہیں اور قرآن کریم نے جس اجمال اور ابہام کے ساتھ اس قصہ کو ذکر کیا ہے اسی کے مطابق ہم اس کی تفسیر کرتے ہیں۔ چناچہ حق جل شانہ فرماتے ہیں اے نبی آپ ان مکذبین رسالت کے لئے اگلوں کی تکذیب اور ان کی بد انجامی کی ایک داستان بیان کیجئے جس سے ان کو معلوم ہو کہ ان سے پہلے ایک قوم نے پیغمبروں کی تکذیب کی پھر وہ لوگ قیامت سے پہلے ہی دنیاوی عذاب میں گرفتار ہوئے یعنی ان کے سامنے اس بستی والوں کا حال بیان کر۔ جس میں تین رسول آئے تھے۔ اول بار ہم نے ان کی طرف دو رسول بھیجے پس لوگوں نے ان کو جھٹلایا اور سنتے ہی فورا ان کی تکذیب کردی۔ پھر دوسری بار ہم نے تیسرے رسول سے ان کو قوت دی۔ ان دونوں کی تائید اور تقویت کے لئے تیسرے کو ہم نے وہاں جانے کا حکم دیا تاکہ تین کے جمع ہوجانے سے دعوت اور تبلیغ میں قوت پیدا ہو۔ پس ان تینوں رسولوں نے بستی والوں سے کہا کہ ہم تینوں من جانب اللہ تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ تم کو خدا کا راستہ بتلائیں۔ بت پرستی کو چھوڑو اور توحید و رسالت پر ایمان لاؤ اہل قریہ نے جواب دیا کہ تم کچھ نہیں سوائے اس کے کہ تم ہم ہی جیسے آدمی ہو۔ صفات بشریہ میں ہم اور تم یکساں ہیں پس خدا نے تم کو نبوت اور رسالت کے ساتھ کیوں خاص کیا اور علاوہ ازیں مسئلہ نبوت و رسالت سرے ہی سے غلط ہے اس لئے کہ تمہارے قول کی بنا پر نبوت کا دارومدار وحی الٰہی ہے اور اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز یعنی وحی اور کتاب نازل نہیں کی جیسے یہود نے عناد میں کہا تھا۔ ما انزل اللہ علی بشر من شیء اسی طرح ضد اور عناد میں ان لوگوں نے بھی یہی کہہ دیا کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز نازل نہیں کی لہٰذا تمہارا یہ کہنا کہ ہم خدا کے فرستادہ ہیں اور خدا نے بذریعہ وحی کے ہم کو یہ حکم دیا ہے یہ سب غلط ہے وحی کوئی چیز نہیں۔ اور بولے کہ نہیں ہو تم مگر جھوٹ بولتے ہو کہ اللہ نے ہم کو نبی بنا کر بھیجا ہے اور ہم پر یہ وحی نازل کی ہے۔ اللہ کو اگر پیغام دینا منظور ہوتا تو کسی فرشتہ کو بھیجتا انہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ ہم نے اپنی طرف سے کوئی جھوٹ نہیں بنایا بلکہ حقیقۃً اللہ تعالیٰ نے ہم کو بھیجا ہے بلاشبہ ہم تمہاری طرف خدا کا پیغام دے کر بھیجے گئے ہیں سو وہ ہم نے تم تک پہنچا دیا ہے اور ہمارا کام تو صرف اللہ کے پیغام اور احکام کو ٹھیک ٹھیک پہنچا دینا ہے اب آگے ماننا اور نہ ماننا وہ تمہارا کام ہے اس کے بعد شاید اہل شہر قحط اور دیگر مصائب میں مبتلا کر دئیے گئے ہوں۔ جیسا کہ اللہ کی سنت ہے کہ عذاب نازل کرنے سے پہلے نافرمانوں کو قحط وغیرہ میں مبتلا کرتے ہیں۔ تاکہ متنبہ ہوجائیں۔ مگر وہ بدبخت الٹا پیغمبروں پر الزام لگانے لگے اور بولے کہ تحقیق ہم نے تم کو منحوس پایا۔ کہ تمہاری وجہ سے ہم کو یہ نحوست پہنچی جب سے تمہارے ” منحوس قدم “ اس شہر میں آئے بارش نہیں برسی اور ہماری سب کھیتیاں خشک ہوگئیں اور قوم میں نااتفاقی ہوگئی اور بولے کہ تحقیق ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔ جب سے تم آئے ہو ہم طرح طرح کی مصیبتوں میں گرفتار ہیں جب سے تم اس شہر میں آئے ہو اس وقت سے بارش نہیں ہوئی اور ہماری سب کھیتیاں خشک ہوگئیں۔ اگر تم اپنے اس دعوے سے اور اپنی اس تبلیغ اور دعوت سے اور ایسی باتوں سے باز نہ آئے تو سن لو کہ ہم تم کو سنگسار کردیں گے اور تمہارا کام تمام کردیں گے اور بلکہ اس سے پہلے ہی تم کو ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی یعنی طرح طرح سے ہم تم کو ستائیں گے۔ ان رسولوں نے کہا کہ تمہارا یہ شگون بد اور یہ نحوست سب تمہارے ساتھ ہے ہم سے اس کا کوئی تعلق نہیں یہ نحوست جو تم کو پہنچی ہے۔ وہ تمہاری طرف سے آئی ہے اور اس پر ڈھٹائی یہ ہے کہ ڈراتے اور دھمکاتے ہو ہم کو۔ ہم اللہ کے فرستادہ ہیں اور مجسم رحمت ہیں حق اور ہدایت لے کر آئے ہیں جس چیز کو تم نے نحوست سمجھا ہے وہ محض تمہارا گمان ہے اور اپنی وہمی اور خیالی نحوست کو ہماری طرف منسوب کرنا یہ بھی تمہارا خواب و خیال ہے جس پر عقلاً ونقلاً کوئی دلیل نہیں نحوست کا اصل منشا کفر اور معصیت ہے جو تمہیں چمٹا ہوا ہے کیا محض اس لئے کہ ہماری طرف سے تم کو نصیحت کی گئی ہے تم ہمیں الزام دینے لگے اور نصیحت اور دعوت حق کو نحوست بتلانے لگے اور ہمیں دھمکانے اور ڈرانے لگے تمہاری یہ باتی بالکل غلط ہے بلکہ اصل حقیقت یہ ہے تم خود حد سے گذر جانے والے لوگ ہو اور یہ مصیبت اور نحوست تمہارے افعال بد کا نتیجہ ہے بلاوجہ اور بلا دلیل تم اس کو ہماری طرف منسوب کرتے ہو اور ہماری نصیحت کو نحوست کا سبب بتلانے لگے ہو۔ اور ہم جو کہہ رہے ہیں وہ سامان سعادت وسعودت ہے نہ کہ نحوست۔ اور جب اس گفتگو کی خبر تمام شہر میں پھیل گئی تو اسی اثنا میں ایک چوتھا شخص یعنی ایک مرد کامل منتہائے شہر سے مرسلین کی تائید اور اعانت کے لئے دوڑتا ہوا آیا۔ اور لوگوں کو نصیحت کرنے لگا اور یہ کہا کہ اے میری قوم عقل کا تقاضا یہ ہے کہ تم خدا کے ان فرستادوں کا اتباع اور ان کی پیروی کرو جو حق دے کر تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں لہٰذا ان کا کہنا مانو۔ بالکل سچے لوگ ہیں۔ خدا کی طرف سے تمہارے پاس نیک پیغام لے کر آئے ہیں اور تم کو صدق اور امانت اور عفاف اور صلہ رحمی اور مکارم اور محاسن اعمال اور توحید اور حسن عبادت کا حکم دیتے ہیں جس سے مقصود محض تمہاری خیر خواہی ہے اور جو شخص ایسی پاکیزہ باتوں کا حکم دے وہ کبھی منحوس نہیں ہوسکتا۔ عقل کا فتویٰ یہ ہے کہ ایسی پاکیزہ ہستیوں کا اتباع عقلا واجب ہے اور ان کی پیروی سراسر خیرو برکت ہے اور باعث سعادت ہے اور اس سے اعراض نحوست ہے نیز ان کے واجب الاتباع ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ عقل سلیم یہ حکم دیتی ہے کہ ایسے ناصح مخلص کی پیروی کرو جو تم سے کوئی اجرت اور معاوضہ نہیں مانگتا۔ وہ ناصح مخلص ہے وہ تم سے نہ مال کا طالب ہے اور نہ جاہ کا طالب ہے۔ بےغرض ہے حرص اور طمع سے بالکلیہ پاک ہے محض تمہاری شفقت اور خیر خواہی کے لئے تم نادانوں کی طرف سے یہ مشقتیں برداشت کر رہا ہے ایسے شخص کی پیروی میں کیا تردد ہے مخلص اور بےغرض ناصح کا اتباع عقلا واجب ہے اور علاوہ ازیں ان کے واجب الاتباع ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ لوگ خود راہ راست پر ہیں اور ہدایت یافتہ ہیں اور تم کو بھی راہ راست پر چلانا چاہتے ہیں لہٰذا ان کے اتباع اور پیروی سے گریز میں تمہارے لئے کوئی عذر نہیں مگر ان بدبختوں اور بدعقلوں نے ایک نہ سنی۔ بالآخر اس چوتھے شخص کو شہید کر ڈالا۔ جیسا کہ عنقریب آتا ہے۔ نکتہ : حضرت شاہ ولی اللہ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انبیا علیہم الصلاۃ والسلام کے بعد ایک جماعت ایسی بھی تھی جو کلمہ حق کو بشہادت قلبی پہچان لیتی ہے اور انبیاء (علیہم السلام) کی پیروی کر کے خلق اللہ کو کلمہ حق کی دعوت دیتی ہے۔ آخرت میں انبیاء (علیہ السلام) کے بعد جو مراتب ومنازل ہیں وہ ان کو عطا کئے جائیں گے اور یہ صفت خلافت خاصہ کے لوازم میں سے ہے (ازالۃ الخفاء )
Top