Ruh-ul-Quran - Yaseen : 13
وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ
وَاضْرِبْ : اور بیان کریں آپ لَهُمْ : ان کے لیے مَّثَلًا : مثال (قصہ) اَصْحٰبَ الْقَرْيَةِ ۘ : بستی والے اِذْ : جب جَآءَهَا : ان کے پاس آئے الْمُرْسَلُوْنَ : رسول (جمع)
اور انھیں بستی والوں کی مثال سنائیے جبکہ اس بستی میں رسول آئے
وَاَضْرِبْ لَھُمْ مَّثَلاً اَصْحٰبَ الْقَرْیَۃِ م اِذْجَـآئَ ھَاالْمُرْسَلُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 13) (اور انہیں بستی والوں کی مثال سنائیے، جبکہ اس بستی میں رسول آئے۔ ) اس سے پہلے کے رکوع میں سب سے پہلے آنحضرت ﷺ کی رسالت کو حتمی انداز میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے کہ قرآن کریم جیسی مسکت دلیل اس کے لیے پیش کی گئی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نبی کی بعثت کے بعد سب سے اہم نکتہ جس پر اللہ تعالیٰ کے رسول اور مخالفین کے درمیان بحث ہوتی اور مخالفت کا طوفان اٹھتا ہے وہ رسالت ہی کا نکتہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا رسول لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو رسول کے طور پر پیش کرتا ہے لیکن مخالفین ہر ممکن طریقے سے اس کا رد کرتے ہیں۔ اور جب دلائل سے کام نہیں چلتا تو پھر وہ طاقت استعمال کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ اور پیغمبر کی شخصیت اور اس کے دعوے کی حقانیت کو سامنے رکھتے ہوئے جو اعتراضات ان کے ذہن میں آتے ہیں انہیں بار بار اچھالتے ہیں تاکہ عوام کو اللہ تعالیٰ کے رسول کی رسالت پر یکسو نہ ہونے دیا جائے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کی رسالت پر بھی مختلف وقتوں میں مختلف دلائل دیے گئے اور گزشتہ رکوع میں بھی مختلف حوالوں سے اس کا اثبات فرمایا گیا۔ پیش نظر رکوع میں تاریخی دلائل سے آنحضرت ﷺ کی نبوت کا اثبات فرمایا گیا ہے اور قریش مکہ آپ کی نبوت اور رسالت پر جس قسم کے اعتراضات کیا کرتے تھے تاریخ کی روشنی میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔ اور یہ بھی تنبیہ کی گئی ہے کہ تم نے اگر اپنا رویہ نہ بدلا اور اپنے طرزعمل کی اصلاح نہ کی تو تمہارا انجام ان لوگوں سے مختلف نہیں ہوگا جن کا ذکر پیش نظر رکوع میں کیا گیا ہے۔ قریش کی عبرت کے لیے اہل قریہ کی مثال اور قریہ کا تعین اس رکوع میں ایک قریہ والوں کا قصہ سنایا گیا ہے۔ قریہ جس طرح ایک بستی یا گائوں پر بولا جاتا ہے اسی طرح اس کا اطلاق ایک شہر پر بھی ہوتا ہے۔ یہاں جس قریہ کا ذکر ہے ممکن ہے وہ کوئی بڑا شہر رہ چکا ہو۔ لیکن قرآن کریم نے اس کا نام نہیں لیا۔ اور حدیث میں بھی اس کی وضاحت نہیں فرمائی گئی۔ اس وجہ سے مفسرین میں اس قریہ کے تعین میں اختلاف ہوا ہے۔ مفسرین کی اکثریت اس طرف گئی ہے کہ اس سے مراد شام کا مشہور شہر انطاکیہ ہے۔ اور یہاں جن رسولوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے رسول نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے سفیر تھے جنھیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے انطاکیہ والوں کے انذار کے لیے بھیجا تھا۔ لیکن مفسرین کی یہ رائے بوجوہ صحیح معلوم نہیں ہوتی۔ اور علامہ ابن کثیر نے بھی ایسی ہی وجوہ کے باعث اس رائے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور تنقید فرمائی ہے۔ ہمارے نزدیک اس رائے کے محل نظر ہونے کے مندرجہ ذیل اسباب ہیں : 1 تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری سے پہلے دو خاندان انطاکیہ پر حکمران رہے۔ ایک سلوقی خاندان، جس کے دور حکومت میں تیرہ بادشاہ اینتیوکس کے نام سے گزرے ہیں۔ یعنی جس طرح مصر کا ہر حکمران فرعون اور حبشہ کا ہر حکمران نجاشی کہلاتا تھا، اسی طرح سلوقی خاندان کا ہر حکمران اینتیوکس کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ اس خاندان کی حکومت پینسٹھ قبل مسیح میں ختم ہوگئی۔ اس کے بعد رومیوں کی حکومت آئی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت کے وقت رومی ہی اس علاقے کے حکمران تھے۔ اور انطاکیہ بھی ان کی حکومت میں شامل تھا۔ سلوقیوں کی حکومت میں تو ایسے کسی واقعہ کا پیش آنا اس لیے غلط ہے کہ ان رسولوں کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سفیر کہا گیا ہے۔ بنا بریں ظاہر ہے کہ ان کا وجود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے کئی سال پہلے کسی طرح عقل کے لیے قابل قبول نہیں۔ اور رومیوں کی تاریخ ایسے کسی واقعہ کو پیش نہیں کرتی جس میں انطاکیہ پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا ہو۔ 2 انطاکیہ پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا نزول اگر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں ہوا ہوتا تو یہ اتنا بڑا واقعہ تھا کہ انجیلوں اور بائیبل ہسٹری میں اس کا ذکر ضرور ہوتا۔ لیکن نہ تو انجیلوں میں اس کا کوئی ذکر ہے اور نہ بائیبل ہسٹری میں، بلکہ اس کے برعکس بائیبل کی کتاب اعمال سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ صلیب کے چند سال بعد عیسائی مبلغین پہلی مرتبہ وہاں پہنچے تھے۔ اور بائیبل کے بیان کے مطابق وہاں کثرت سے غیر اسرائیلیوں نے دین مسیحی کو قبول کیا اور مسیحی کلیسا کو غیرمعمولی کامیابی حاصل ہوئی۔ 3 یہ جو بات کہی گئی ہے کہ یہاں رسولوں سے مراد اللہ تعالیٰ کے رسول نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد اور سفیر ہیں۔ یہ بات بھی صحیح معلوم نہیں ہوتی، اس لیے کہ ان آیات میں رسولوں نے جس حیثیت سے اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے اور پھر جس طرح اللہ تعالیٰ نے دو رسولوں کی تکذیب کے بعد تیسرا رسول ان کے تقویت کے لیے بھیجا اور لوگوں کی تکذیب کے بعد ان رسولوں کا یہ کہنا کہ ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم اس کے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔ یہ باتیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول تھے نہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سفیر۔ اور مزید یہ کہ لوگوں کا اس بنیاد پر انہیں نبی ماننے سے انکار کرنا کہ تم ہمارے جیسے بشر ہو اور بشر رسول نہیں ہوسکتا۔ اس اعتراض میں اس لحاظ سے تو وزن ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے رسول کہتے ہوں کیونکہ ہمیشہ منکرینِ رسالت نے بشریت اور رسالت میں تضاد محسوس کیا ہے۔ لیکن کسی عظیم شخصیت کے سفیروں پر تو کبھی ایسا اعتراض نہیں کیا گیا کیونکہ سفیر ہمیشہ انسان اور بشر ہی ہوتے ہیں کسی دوسری مخلوق میں سے ہونے کا کوئی سوال نہیں۔ 4 حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے اور انھوں نے اپنی نبوت اور دعوت کو بنی اسرائیل ہی کے لیے مخصوص کیا تھا۔ اس لیے نہ تو انھوں نے کبھی خود کسی غیراسرائیلی کو دعوت دی اور نہ اپنے شاگردوں کو اس کی اجازت دی۔ بلکہ ان کا ارشاد یہ تھا کہ میں صرف اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں ہی کی تلاش کے لیے آیا ہوں۔ اور یہ بھی ان کا ارشاد ہے کہ میرے پاس جو روٹی ہے وہ صرف بچوں ہی کے لیے ہے، کتوں کے آگے اس کو ڈالنا ٹھیک نہیں ہے۔ بچوں سے مراد ان کی اسرائیلی تھے اور کتوں سے مراد غیراسرائیلی۔ ان حقائق کی بنیاد پر یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ انھوں نے اپنے شاگردوں کو انطاکیہ میں بھیجا ہو۔ کیونکہ انطاکیہ میں رہنے والے اسرائیلی نہیں تھے۔ 5 اسی رکوع سے معلوم ہوتا ہے کہ جس بستی میں یہ رسول تشریف لائے تھے اس بستی والوں کی تکذیب کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا اور وہ بالکل پامال کرکے رکھ دیے گئے۔ قرآن کریم میں عذاب کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کی جس سنت کو ذکر کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا عذاب تکذیبِ رسل کے نتیجے میں آتا ہے کسی اللہ تعالیٰ کے رسول کے بھیجے ہوئے مبلغین کی دعوت قبول نہ کرنے کے نتیجے میں نہیں آتا۔ کیونکہ مبلغین کی دعوت سے وہ اتمامِ حجت نہیں ہوتا جو اللہ تعالیٰ کے رسول کی تکذیب سے ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر وہ بستی انطاکیہ نہیں اور ان کی ہدایت کے لیے جانے والے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرستادہ سفیر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے رسول تھے، تو پھر آخر وہ بستی کون سی تھی ؟ قرآن اور حدیث میں کسی مستند ذریعے سے ہمیں اس کا جواب نہیں ملتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم نے اس بستی کا نام مبہم رکھا ہے۔ اور سلف صالحین کا کہنا یہ ہے کہ جس بات کو قرآن و سنت میں مبہم رکھا گیا ہو اسے مبہم رکھنے میں ہی عافیت ہے۔ اور ویسے بھی قرآن کریم میں جس غرض کے لیے یہ قصہ بیان کیا گیا ہے اسے سمجھنے کے لیے بستی کا نام اور رسولوں کے نام معلوم ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ اس قصے کے بیان کرنے کی غرض قریش کے لوگوں کو یہ تنبیہ کرنا ہے کہ تم بالکل اسی روش پر چل رہے ہو جس روش پر وہ بستی والے چلے تھے۔ اور جس روش نے ان بستی والوں کو برے انجام سے دوچار کیا تم بھی اس سے بچ نہیں سکو گے۔
Top