Mazhar-ul-Quran - Yaseen : 13
وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ
وَاضْرِبْ : اور بیان کریں آپ لَهُمْ : ان کے لیے مَّثَلًا : مثال (قصہ) اَصْحٰبَ الْقَرْيَةِ ۘ : بستی والے اِذْ : جب جَآءَهَا : ان کے پاس آئے الْمُرْسَلُوْنَ : رسول (جمع)
اور ان سے ایک داستان اس شہر والوں کی بیان کرو جب ان کی طرف فرستادے (پیغمبر) آئے۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ۔ ( ٖف 1) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ مختصر بیان یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دوحواریوں صادق وصدوق کو انطاکیہ بھیجا کہ وہاں کے لوگوں کو جو بت پرست تھے دین حق کی دعوت دیں جب یہ دونوں شہر کے قریب پہنچے تو انہوں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا کہ بکریاں چرارہا ہے اس شخص کا نام حبیب نجار تھا اس نے ان کا حال دریافت کیا ان دونوں نے کہا ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے ہیں تمہین دین حق کی دعوت دینے آئے ہیں کہ بت پرستی چھوڑ دو اور خدا پرستی اختیار کرو، حبیب نجار نے نشانی دریافت کی تو انہوں نے کہا نشانی یہ ہے کہ ہم بیماروں کو اچھا کرتے ہیں اور اندھوں کو بینا کرتے ہیں اور برص والے کامرض دور کرتے ہیں ، حبیب نجارکا ایک بیٹا دو سال سے بیمار تھا انہوں نے اس پر ہاتھ پھیرا وہ تندرست ہوگیا، حبیب نجار ایمان لائے اور اس واقعہ کی خبر مشہور ہوگئی اور ایک خلق کثیر نے ان کے ہاتھوں اپنے امراض سے شفاپائی یہ خبرپہنچنے پر بادشاہ نے انہیں بلاکر کہا، کیا ہمارے معبودوں کے سوا اور کوئی معبود بھی ہے ان دونوں نے کہاوہی جس نے تجھے اور تیرے معبودوں کو پیدا کیا ہیی پھر لوگ ان کے درپے ہوئے اور انہیں مارا اور یہ دونوں قید کرلیے گئے پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے شمعون کو بھیجا وہ اجنبی بن کر شہر میں داخل ہوئے اور بادشاہ کے مصاحبیبن ومقربین سے ذکر کیا کہ دوآدمی جو قید کیے گئے ہیں وہ کیا کہتے تھے بادشاہ نے کہا جب انہوں نے نئے دین کا نام لیافورا ہی مجھے غصہ آگیا، شمعون نے کہا، اگر بادشارہ کی رائے ہو تو انہیں بلالیاجائے دیکھیں ان کے پاس کیا ہے چناچہ وہ دونوں بلائے گئے شمعون نے ان سے دریافت کیا تمہیں کس نے بھیجا ہے انہوں نے کہا اس اللہ نے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور ہر جاندار کو روزی دی اور جس کا کوئی شریک نہیں شمعون نے کہا اس کی مختصر صفت بیان کرو انہوں نے کہاوہ جو چاہتا ہے کرتا ہے شمعون نے کہا تمہاری نشانی کیا ہے انہوں نے کہا جو بادشاہ چاہے تو بادشاہ نے ایک اندھے لڑکے کو بلایا انہوں نے دعا کی وہ فورابینا ہوگیا، شمعون نے بادشاہ سے کہا کہ اب مناسب یہ ہے کہ تو اپنے معبودوں سے کہہ کر وہ بھی ایسا ہی کرکے دکھائیں تاکہ تیری اور ان کی عزت ظاہر ہو، بادشاہ نے شمعون سے کہا کہ تم سے کچھ چھپانے کی بات نہیں ہمارا معبود نہ دیکھے نہ سنے اور نہ کچھ بگاڑے ، نہ بناسکے، پھر بادشاہ نے ان دونوں حواریوں سے کہا کہ اگر تمہارے معبود کو مردے کے زندہ کردینے کی قدرت ہو تو ہم اس پر ایمان لے آئیں انہوں نے کہا ہمارا معبودہرشے پر قادر ہے بادشاہ نے ایک دہقان کے لڑکے کو منگایا جس کو مرے ہوئے سات دن ہوچکے تھے اور جسم خراب ہوچکا تھا بدبو پھیل رہی تھی ان کی دعا سے اللہ نے اس کو زندہ کردیا اور وہ اٹھ کر کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میں مشرک تھا مجھ کو جہنم کی سات وادیوں میں دھکیل دیا گیا میں تمہیں آگاہ کرتا ہوں کہ جس دین پر تم ہو بہت نقصان دہ ہے ایمان لے آؤ، اور کہنے لگا کہ آسمان کے دروازے کھلے اور ایک حسین جوان مجھے نظرآیا جو ان تین شخصوں کی سفارش کرتا ہے کہ بادشاہ نے کہا کون تین، اس نے کہا ایک شمعون اور دویہ، بادشاہ کو تعجب ہوا کہ جب شمعون نے دیکھا کہ اس کی بات بادشاہ کے دل پراثر کرگئی تو اس نے بادشاہ کو نصیحت کی اور وہ ایمان لایا او اس کی قوم کے کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ ایمان نہ لائے اور عذاب الٰہی میں ہلاک کیے گئے اکثر سلف کا قول ہے کہ اللہ نے حضرت جبرائیل کو اس قوم کے ہلاک کرنے کا حکم دیا حضرت جبرائیل نے اس شہر کے دروازے پر آن کر ایک چنگھاڑ ماری جس سے ان کے کلیجے پھٹ کر فورا مرگئے۔
Top