Tafseer-e-Madani - Yaseen : 13
وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ
وَاضْرِبْ : اور بیان کریں آپ لَهُمْ : ان کے لیے مَّثَلًا : مثال (قصہ) اَصْحٰبَ الْقَرْيَةِ ۘ : بستی والے اِذْ : جب جَآءَهَا : ان کے پاس آئے الْمُرْسَلُوْنَ : رسول (جمع)
اور سناؤ ان کو قصہ ان بستی والوں کو (عبرت و) مثال کے طور پر جب کہ آئے ان کے پاس رسول
18 اصحاب القریۃ ۔ بستی والوں ۔ سے مراد ؟ : عام طور پر مفسرین کرام نے اس بستی سے مراد انطاکیہ کی بستی لی ہے جو کہ شام میں واقع ہے۔ مگر علامہ ابن کثیر وغیرہ محققین کے نزدیک یہ بات بوجوہ درست نہیں۔ ایک تو اس لئے کہ انطاکیہ تو ان چند مراکز میں سے ایک تھا جہاں مسیحی کلیسا کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی اور عیسائیت کی دعوت پہنچتے ہی وہاں کی بھاری اکثریت نے اس پر لبیک کہا اور اس کو قبول کیا۔ جبکہ یہاں جس بستی کا ذکر ہو رہا ہے اس بارے میں صاف طور پر بتایا جارہا ہے کہ اس کے باشندوں نے کھلم کھلا اور صاف طور پر انکار و تکذیب سے کام لیا۔ دوسرے اس لئے کہ یہاں اس بستی کے باشندوں کا مکمل طور پر ہلاک و تباہ کر دئیے جانے کا ذکر ہے جبکہ حضرت ابو سعید خدری ؓ سورة قصص کی آیت نمبر 43 کے ذیل میں آنحضرت ﷺ کی یہ حدیث نقل فرماتے ہیں کہ توراۃ کے نزول کے بعد کسی بھی بستی پر ایسا عام عذاب نازل نہیں ہوا جو اسے بالکل مٹا دے۔ سوائے اصحاب السبت کے۔ اور ظاہر ہے کہ اس بستی کا یہ قصہ نزول توراۃ کے کہیں بعد کا ہے کہ عام اور مشہور قول کے مطابق یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھی بعد پیش آیا۔ تیسرے اس لئے کہ اس قصہ کی بعض تفصیلات میں یہ بھی آیا ہے کہ یہ واقعہ اس زمانے میں پیش آیا جبکہ اس علاقے کا بادشاہ انطیخش یا انتیوکس (Antichus) تھا۔ اور تاریخ یہ بتاتی ہے کہ سلجوقی خاندان کے اس نام کے جن تیرہ بادشاہوں نے اس علاقے پر حکومت کی تھی ان کے آخری فرمانروا کی حکومت بلکہ پورے اس خاندان ہی کی حکومت 65 قبل مسیح میں ختم ہوگئی تھی۔ حضرت عیسیٰ کے زمانے میں تو انطاکیہ سمیت شام و فلسطین کا پورا علاقہ رومیوں کے زیر نگیں تھا۔ سو ان وجوہ کی بنا پر اس بستی سے انطاکیہ کی بستی مراد لینا درست نہیں۔ یہ کوئی اور بستی ہوگی جس کے باشندوں کو ان کے کفر و انکار کی بنا پر تباہ کردیا گیا۔ اور ممکن ہے کہ اس بستی کا نام بھی انطاکیہ ہوا ہو یا کچھ اور۔ اور جب اللہ پاک نے خود اس کی تصریح نہیں فرمائی کہ یہ بستی کونسی تھی اور اس کا کوئی نام ذکر نہیں فرمایا کہ مقصد تذکیر کے لئے اس کی ضرورت ہی نہیں تو پھر ہمیں بھی اس کی تعیین کے لئے خواہ مخواہ کھود کرید کرنے اور بلاوجہ زور لگانے کی ضرورت نہیں بلکہ ۔ " اَبْہِمُوْا مَا اَبْہَمُہُ القُرآن " ۔ کے اصول کے مطابق اس کو یونہی رہنے دینا چاہیئے ۔ وَالْعِلُمْ عِنْدَ اللّٰہِ سُبْحَانَہ وَ تَعَالٰی ۔ اور قرآن حکیم کے علاوہ کسی صحیح حدیث میں بھی اس کی کوئی مبہم تصریح نہیں کہ یہ بستی کونسی تھی اور یہ رسول کون تھے ؟ اور ان کو کب اور کہاں بھیجا گیا تھا۔ کیونکہ تذکیر و تنبیہ کے جس خاص مقصد کیلئے اس قصہ کو یہاں بیان فرمایا جارہا ہے اس کے لئے ان میں سے کسی امر کی تعیین اور تصریح کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔ کیونکہ یہ قصہ یہاں پر قریش کے ہٹ دھرم منکرین اور ان کے بعد ان کے نقش قدم پر چلنے والے تمام منکرین کو اس مقصد کیلئے سنایا جا رہا ہے کہ تم لوگ ضد اور ہٹ دھرمی کی اسی راہ پر چل رہے ہو جس پر اس بستی کے یہ بدبخت لوگ چلے تھے۔ تو پھر تم اسی انجام اور اس بھگتان کو بھگتنے کیلئے تیار ہوجاؤ جو ان کو پیش آچکا ہے کہ اللہ پاک کا قانون عدل و انصاف بےلاگ اور سب کیلئے یکساں ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اس مقصد کیلئے مذکورہ بالا امور میں سے کسی کی بھی تعیین و تصریح کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ اگر ذرا غور سے دیکھا جائے تو ایسی تصریح و تعیین اس مقصد کیخلاف جاسکتی ہے۔ کیونکہ ایسی صورت میں منکر لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ عذاب اور یہ انجام اس خاص بستی کیلئے اور ان خاص لوگوں کیلئے وہاں کے خاص حالات کی بنا پر تھا۔ لہذا ہمارے لئے ایسا کوئی خطرہ نہیں وغیرہ۔ البتہ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ اس بستی سے مراد مصر ہے، جہاں پہلے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو بھیجا گیا تھا۔ پھر ان کی تابید و تعزیر آل فرعون کے مرد مومن سے کرائی گئی۔ مگر ان لوگوں نے ان کی تکذیب ہی کی جسکے نتیجے میں بالآخر قوم فرعون پر وہ عذاب آیا جو ان کیلئے مقدر ہوچکا تھا اور جس کے نتیجے میں وہ اپنے آخری اور دائمی انجام کو پہنچ کر رہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یہ قول اگرچہ کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں لیکن قرائن اور قیاس کے اعتبار سے یہ درست معلوم ہوتا ہے اور دل کو لگتا ہے ۔ والعلم عند اللہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف پیغمبر کو حکم وارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کو اس بستی کا قصہ بطور مثال سنادو۔ تاکہ یہ اس سے عبرت پکڑیں اور اپنے ہولناک انجام سے بچ جائیں۔ 19 رسولوں کی آمد ذریعہ ابتلاء و آزمائش : اسی لیے یہاں پر ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کو اس بستی کے باشندوں کی مثال سناؤ جبکہ آئے انکے پاس انکے رسول "۔ ان کی تذکیر و تنبیہ کیلئے۔ جن روایات میں ان رسولوں کو حضرت مسیح ۔ (علیہ السلام) ۔ کا فرستادہ قرار دیا گیا ہے وہ بھی درست معلوم نہیں ہوتیں۔ ایک تو اس لئے کہ اطلاق و عموم کے وقت رسول کے اس کلمے سے مراد اللہ پاک کا فرستادہ ہی لیا جاتا ہے نہ کہ کسی اور کا۔ دوسرے اس لئے کہ یہاں پر یہ تصریح فرمائی گئی ہے کہ ان کو ہم نے بھیجا ۔ { ارسلنا } ۔ تو پھر ان کو فرستادئہ مسیح قرار دینا کس طرح صحیح ہوسکتا ہے ؟ تیسرے اس لئے کہ ان لوگوں نے آگے جو جواب ان حضرات کو دیا کہ " تم تو ہم ہی جیسے انسان ہو " تو یہ جواب اللہ پاک کے رسولوں ہی کو دیا جاسکتا ہے اور دیا گیا ہے۔ نہ کہ کسی اور کو۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں دوسرے کئی مقامات پر صاف اور صریح طور پر موجود و مذکور ہے۔ نیز اس لیے بھی کہ ان سے حضرت مسیح کے فرستادہ مراد لینا درست نہیں معلوم ہوتا کہ حضرت عیسیٰ صرف بنی اسرائیل کے رسول تھے۔ اس لیے غیر قوموں کو نہ انہوں نے کبھی خود دعوت دی اور نہ ہی کبھی انہوں نے غیر قوموں کے پاس اپنے شاگردوں کو بھیجا۔ بلکہ انہوں نے اپنے شاگردوں کو غیر قوموں کے پاس جانے سے روکا اور ان کا اپنا ارشاد ہے کہ " مجھے تو صرف بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کی تلاش کیلئے بھیجا گیا ہے " بہرکیف منکرین قریش کی عبرت پذیری کی غرض سے ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے سامنے اس بستی کا حال سناؤ جب ان کی طرف ان کے رسولوں کی بعثت ہوئی جس سے وہ ابتلاء و آزمائش میں مبتلا ہو گیے۔ کیونکہ کسی قوم کے اندر رسولوں کی بعثت دراصل اس کے لیے خداوند قدوس کی عدالت ہوتی ہے۔ اور ان حضرات کی بعثت سے اس قوم کے لیے ابتلاء و آزمائش کا مرحلہ آجاتا ہے کہ وہ ان کی دعوت کو صدق دل سے اپنا کر دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوتی ہے یا ان کی تکذیب و انکار کی راہ کو اپنا کر اپنے لیے شقاوت و بدبختی کا سامان کرتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Top