Jawahir-ul-Quran - Yaseen : 13
وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ
وَاضْرِبْ : اور بیان کریں آپ لَهُمْ : ان کے لیے مَّثَلًا : مثال (قصہ) اَصْحٰبَ الْقَرْيَةِ ۘ : بستی والے اِذْ : جب جَآءَهَا : ان کے پاس آئے الْمُرْسَلُوْنَ : رسول (جمع)
اور بیان کر ان کے واسطے9 ایک مثل اس گاؤں کے لوگوں کی جب کہ آئے اس میں بھیجے ہوئے
9:۔ واضرب لہم الخ : یہ تخویف دنیوی ہے اصحاب القریۃ (بستی والوں) کا قصہ بیان کر کے اہل مکہ کو متنبہ کرنا مقصود ہے کہ انہوں نے ہمارے رسول کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ لیکن ان کے مزعومہ سفارشیوں میں سے کسی نے بھی ان کو اللہ کی گرفت سے نہ چھڑایا۔ اذ جاءھا المرسلون، حصن حصین میں ہے کہ یہ اجابت دعا کا مقام ہے۔ القریۃ سے اکثر مفسرین کے نزدیک شہر انطاکیہ مراد ہے اور المرسلون سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرستادہ مبلغ مراد ہیں۔ یعنی یحیی، یونس اور شمعون (کما فی التفاسیر) ۔ لیکن بعض ائمہ تفسیر کو اس پر اشکال ہے کہ قریہ سے انطاکیہ اور مرسلین سے رسل عیسیٰ (علیہ السلام) مراد ہوں چناچہ مفسر ابن کثیر نے اس پر نہایت محققانہ گفتگو کی ہے۔ وقد استشکل بعض الائمہ کو نہا انطاکیۃ بما سنذکرہ بعد تمام القصۃ انشاء اللہ تعالیٰ (ابن کثیر ج 2 ص 567) ۔ ابن کثیر نے آگے چل کر اس پر چار اشکال وارد کیے ہیں۔ اول نظم قرآن کے الفاظ کا ظاہر اسی پر دلالت کرتا ہے کہ یہ تینوں رسول اللہ کے رسول تھے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرستادہ نہ تھے۔ اگر وہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے حواری ہوتے تو نظم قرآن میں ان کے رسل عیسیٰ ہونے کی طرف کچھ اشارہ ہوتا۔ ان ظاہر القصۃ یدل علی ان ھؤلاء کانوا رسل اللہ عز وجل لا من جھۃ المسیح (علیہ السلام) کما قال تعالیٰ (اذ ارسلنا الیہم اثنین فکذبوہما فعززنا بثالث فقالوا انا الیکم مرسلون) الی ان قالوا (ربنا یعلم انا الیکم لمرسلون، وما علینا الا البلاغ المبین) ولو کانوا ھؤلاء من احواریین، لقالوا عبارۃ تناسب انہم من عند المسیح (علیہ السلام) (ابن کثیر ج 3 ص 569) ۔ دوم : اگر وہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی طرف سے ہوتے تو مشرکین ان پر یہ اعتراض نہ کرتے کہ تم ہماری طرح بشر ہو۔ کیونکہ بشریت کو وہ رسالت اور نبوت کے منافی سمجھتے تھے۔ ثم لو کانوا رسل المسیح لما قالوا اللہم (ان انتم الا بشر مثلنا (ایضا) ۔ سوم، اہل انطاکیہ جن کے پاس حضرت مسیح (علیہ السلام) نے اپنے حواری بھیجے تھے وہ سب کے سب ایمان لے آئے تھے اور اللہ کے عذاب سے محفوظ رہے لیکن جن اہل قریہ کا یہاں ذکر ہے انہوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور عذاب خداوندی سے ہلاک ہوئے اس سے بھی معلوم ہوا کہ یہ قصہ اہل انطاکیہ اور رسل مسیح (علیہ السلام) سے متعلق نہیں۔ فاذا تقرران انطاکیہ اول مدینۃ آمنت فاہل ھذہ القریۃ ذکر اللہ تعالیٰ انہم کذبوا رسلہ وانہ اھلکہم بصیحۃ واحدۃ اخمدتہم واللہ اعلم (ایضا) ۔ چہارم، اہل انطاکیہ اور رسل عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ لا محالہ نزول تورات کے بعد پیش آیا اور نزول تورات کے بعد اللہ تعالیٰ نے کسی پوری کی پوری قوم کو ہلاک نہیں فرمایا بلکہ مومنین کو مشرکین سے جہاد کرنے کا حکم دیا۔ اس سے بھی واضح ہوگیا کہ یہ قصہ اہل انطاکیہ اور حواریین سے متعلق نہیں۔ ان قصۃ انطاکیہ من الحواریین اصحاب المسیح بعد نزول التوراۃ و قد ذکر ابو سعید الکدری ؓ وگیر واحد من السلف ان اللہ تبارک و تعالیٰ بعد انزالہ التوراۃ لم یہلک امۃ من الامم الی اخرہم بعذاب یبثہ علیہم بل امر المومنین بعد ذلک بقتال المشرکین (ایضا) ۔ ان وجوہات سے ثابت ہوا کہ جس قریہ (بستی) کا ان آیتوں میں ذکر ہے وہ انطاکیہ کے علاوہ کوئی اور بستی ہے اور مرسلین سے رسل اللہ مراد ہیں نہ کہ رسل مسیح علیہ السلام، فعلی ھذا یتعین ان ھذہ القریۃ المذکورۃ فی القران قریۃ اخری غیر انطاکیۃ کما حقوق ذلک غیر واحد من السلف ایضا (ابن کثیر ج 3 ص 570) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ کی تحقیق بھی بعینہ یہی ہے اور ان رسولوں کے اسما گرامی یہ ہیں۔ صادق، صدوق اور شلوم (علیہم السلام) جیسا کہ حضرت ابن عباس، کعب الاحبار اور وہب بن منب سے منقول ہے امام طبری نے بھی یہی نام لکھے ہیں۔ (قرطبی جلد 15 ص 14) ، اگر مفسرین سلف کی عبارتوں میں کہیں اس قریہ کا نام انطاکیہ وارد ہوا ہے تو بشرط صحت روایت ہوسکتا ہے اس قریہ کا نام بھی انطاکیہ ہی ہو۔ لیکن لامحالہ یہ وہ انطاکیہ نہیں جس میں مسیح (علیہ السلام) نے اپنے حواری بھیجے تھے کیونکہ اس انطاکیہ پر اللہ تعالیٰ کا عذاب کبھی نہیں آیا، نہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے زمانے میں نہ ان سے پہلے، او تکون انطاکیۃ، ان کان لفظہا محفوظا فی ھذہ القصۃ مدینۃ اخری غیر ھذہ المشہورۃ المعروفۃ فان ھذہ لم یعرف انہا اھلکت لا فی الملۃ النصرانیۃ ولا قبل ذلک واللہ سبحانہ وتعالی اعلم (ابن کثیر جلد 3 ص 570) ۔
Top