Aasan Quran - Yaseen : 13
وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ
وَاضْرِبْ : اور بیان کریں آپ لَهُمْ : ان کے لیے مَّثَلًا : مثال (قصہ) اَصْحٰبَ الْقَرْيَةِ ۘ : بستی والے اِذْ : جب جَآءَهَا : ان کے پاس آئے الْمُرْسَلُوْنَ : رسول (جمع)
اور (اے پیغمبر) تم ان کے سامنے ایک بستی والوں کی مثال پیش کرو، جب ان کے پاس رسول آئے تھے (5)
5: قرآن کریم نے نہ اس بستی کا نام ذکر فرمایا ہے، اور نہ ان رسولوں کا جو اس بستی میں بھیجے گئے تھے، بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ یہ بستی شام کا مشہور شہر انطاکیہ تھی ؛ لیکن نہ تو یہ روایتیں مضبوط ہیں اور نہ تاریخی قرائن سے اس کی تصدیق ہوتی ہے، دوسری طرف رسول کا لفظ عربی زبان میں ہراس شخص کے لئے بولا جاتا ہے جو کسی کا پیغام لے کر دوسرے کے پاس جائے ؛ لیکن قرآن کریم میں زیادہ تر یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے پیغمبروں کے لئے استعمال ہوا ہے، اس لئے ظاہر یہی ہے کہ یہ حضرات انبیاء کرام تھے، اور بعض روایات میں ان کے نام بھی صادق، صدوق اور شلوم یا شمعون بتائے گئے ہیں ؛ لیکن یہ روایات بھی زیادہ مضبوط نہیں ہیں، اور بعض مفسرین کا خیال یہ ہے کہ یہ حضرات انبیاء نہیں تھے ؛ بلکہ حضرت عیسیٰ ؑ کے شاگرد تھے جنہیں حضرت عیسیٰ ؑ نے اس بستی میں تبلیغ کے لئے بھیجا تھا، اور مرسلون کا لفظ اپنے لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے ؛ لیکن چونکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے انہیں بھیجنے کی نسبت اپنی طرف فرمائی ہے، اس لئے ظاہر یہی ہے کہ یہ انبیاء کرام تھے، شروع میں دو نبی بھیجے گئے تھے، پھر ایک تیسرے پیغمبر بھی بھیجے گئے، بہر حال ! عبرت کا جو سبق قرآن کریم دینا چاہتا ہے وہ نہ بستی کے تعین پر موقوف ہے اور نہ پیغام لے جانے والوں کی شناخت پر، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے نام نہیں بتائے، لہذا ہمیں بھی اس کی کھوج میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔
Top