Mutaliya-e-Quran - Yaseen : 13
وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ
وَاضْرِبْ : اور بیان کریں آپ لَهُمْ : ان کے لیے مَّثَلًا : مثال (قصہ) اَصْحٰبَ الْقَرْيَةِ ۘ : بستی والے اِذْ : جب جَآءَهَا : ان کے پاس آئے الْمُرْسَلُوْنَ : رسول (جمع)
اِنہیں مثال کے طور پر اُس بستی والوں کا قصہ سناؤ جبکہ اُس میں رسول آئے تھے
وَاضْرِبْ لَهُمْ [اور آپ ﷺ بیان کریں ان کے لئے ] مَّثَلًا [ایک مثال ] اَصْحٰبَ الْقَرْيَةِ ۘ[جو اس بستی والوں کی ہے ] اِذْ جَاۗءَهَا [جب آئے اس (بستی) میں ] الْمُرْسَلُوْنَ [بھیجے ہوئے (رسول)] نوٹ۔ 1: قدیم مفسرین بالعموم اس طرف گئے ہیں کہ آیت 13 میں القریہ سے مراد شام کا شہر انطاکیہ ہے اور جن رسولوں کا ذکر ہے انہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے تبلیغ کے لئے بھیجا تھا۔ لیکن یہ سارا قصہ عیسائیوں کی غیر مستند روایات سے اخذ کیا گیا ہے اور تاریخی حیثیت سے بالکل بےبنیاد ہے۔ (تفہیم القرآن) سہل اور بےغبار بات وہی ہے جسے مولانا تھانوی نے بیان القرآن میں اختیار فرمایا ہے کہ ان آیات کا مضمون سمجھنے کے لئے اس بستی کا تعین ضروری نہیں ہے۔ اور قرآن کریم نے اس کو مبہم رکھا ہے تو ضرورت ہی کیا ہے کہ اس کے تعین پر اتنا زور خرچ کیا جائے۔ سلف صالحین کا ارشاد ہے کہ جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے مبہم رکھا ہے تم بھی اسے مبہم ہی رہنے دو ۔ (معارف القرآن)
Top