Baseerat-e-Quran - Yaseen : 13
وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ
وَاضْرِبْ : اور بیان کریں آپ لَهُمْ : ان کے لیے مَّثَلًا : مثال (قصہ) اَصْحٰبَ الْقَرْيَةِ ۘ : بستی والے اِذْ : جب جَآءَهَا : ان کے پاس آئے الْمُرْسَلُوْنَ : رسول (جمع)
(اے نبی ﷺ ! ) آپ ان کے سامنے ایک بستی والوں کی مثال بیان کیجئے ۔ جب اس میں کئی رسول آئے
لغات قرآن : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ القریۃ ( بستی ، آبادی) اثنین ( دو ) عززنا (ہم نے قوت دی) البلغ ( پہنچا دینا) تطیرنا ( ہم منحوس سمجھتے تھے) نرجمن ( ہم پتھر مار کر ہلاک کریں گے) یمسن (ضرور پہنچے گا) مسرفون (حد سے بڑھنے والے) اقصا (دور) مالی ( مجھے کیا ہوا ؟ ) فطر (اس نے پیدا کیا) لا تغن (فائدہ نہ دے گا) لا ینقذون (وہ چھڑا نہ سکیں گے) یلیت ( اے کاش) المکرمین (عزت دینے والے لوگ) جند ( لشکر) صحیۃ (چنگھاڑ ، زور دار آواز ، دھماکہ) خامدون ( بجھ کر رہ جانے والے) القرون ( قرن) قومیں ، بستیاں) محضرون ( حاضر کئے گئے) تشریح : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ ان آیات میں نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان کفار و مشرکین کو بطور مثال ایک ایسی بستی کا واقعہ سنا دیجئے کہ جب اللہ نے ان کی ہدایت و رہنمائی کے لئے متعدد پیغمبر بھیجے پہلے دو پیغمبروں کو بھیجنے کے بعد ایک اور پیغمبر کو مزید قوت اور تائید کے لئے بھیجا گیا انہوں نے اس بستی کے لوگوں کو اللہ کی ذات اور برے اعمال کے بدترین انجام سے ڈرایا اور کہا کہ اللہ نے ہمیں تمہاری ہدایت و رہنمائی کے لئے بھیجا ہے۔ تم اپنے گناہوں سے توبہ کرو اور ان بےحقیقت جھوٹے معبودوں کی عبادت و بندگی سے باز آ جائو تا کہ تم قیامت کے دن ہر طرح کی رسوائیوں سے بچ سکو ۔ ہم نے اللہ کا پیغام تم تک پہنچا دیا ہے اب ماننا یا نہ ماننا یہ تمہارے اختیار میں ہے۔ سب کچھ سننے کے بعد کہنے لگے کہ تم اللہ کے پیغمبر کیسے ہو سکتے ہو کیونکہ تم تو ہمارے ہی جیسے ” بشر “ ہو ۔ یہ وہ جواب ہے جو قوم نوح ، قوم عاد اور قوم ثمود نے بھی اپنے پیغمبروں کو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان آخر وہ کون سا فرق ہے جس کی وجہ سے ہم یہ بات مان لیں کہ واقعی تم اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ہو ۔ وہ کہنے لگے کہ اللہ نے کوئی ایسی چیزنازل نہیں کی جس کا تم دعویٰ کر رہے ہو ۔ اس طرح انہوں نے ان پیغمبروں کو جھٹلاتے ہوئے ان کے پیغام کو ماننے سے صاف انکار کردیا ۔ اللہ کے ان پیغمبروں نے نہایت سنجیدگی اور وقار سے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ ہمارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ اس نے ہمیں تمہاری طرف بھیجا ہے۔ ہم نے اللہ کا پیغام تک تک پہنچا دیا اب تم مانتے ہو تو دنیا و آخرت کی ہر کامیابی تمہارے قدم چومے گی ۔ کہنے لگے کہ کامیابیاں تو ہمارے قدم کہاں چو میں گی تمہاری ان باتوں کی وجہ سے اور ہمارے بتوں کی برائیاں بیان کرنے سے ہمارے معبود ہم سے ناراض ہوگئے ہیں اور اسی وجہ سے ہمارے اوپر طرح طرح کی مصیبتیں آنا شروع ہوگئی ہیں ۔ بارش نے برسنا چھوڑ دیا ، ہمارے کھیت خشک ہوگئے جس سے قحط پڑنا شروع ہوگیا ۔ ہم سب عیش و عشرت سے زندگی گزار رہے تھے ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہ تھا مگر تمہارے قدموں کی نحوست سے ہمارے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ یہ باتیں جو تم کر رہے ہو ان کو بند کرو ورنہ ہم برداشت نہیں کریں گے اور تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کردیں گے اور تمہیں ایسی ایسی اذیتیں دیں گے جن سے تم عاجزو بےبس ہو کر رہ جائو گے ۔ اللہ کے پیغمبروں نے ان کی جاہلانہ باتوں کا نہایت سنجیدگی اور وقار سے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ سب کچھ جو آفتیں آرہی ہیں وہ تمہارے اعمال کی شامت کی وجہ سے آرہی ہیں ۔ اگر تم ہماری بات پر غور کرتے اور اللہ کا حکم مان لیتے تو تمہیں معلوم ہوجاتا کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اس میں تم سب کی بھلائی ہے اور دنیا و آخرت کی کامیابی ہے لیکن تم تو زندگی کے ہر معاملے میں حد سے گزر جانے والے ہو اسی لئے یہ ساری نحوستیں تم پر نازل ہو رہی ہیں ۔ ان پیغمبروں کی پوری قوم نے جب اپنے ارادے کی تکمیل کے لئے کمر کس لی تو اس بستی کے آخری کنارے پر ایک نیک اور متقی شخص رہتا تھا جو رزق حلال کماتا تھا اور اللہ کی عبادت و بندگی میں لگا رہتا تھا جب اسے اپنی قوم کے برے ارادوں اور بےراہ روی کی اطلاع ملی تو وہ بھاگا ہوا دوڑتا چلا آیا اور اس نے اپنی قوم کو سمجھانے کی کوشش کی تا کہ وہ برے ارادے سے باز آجائیں اور اللہ کے عذاب سے بچ جائیں اس شخص نے کہا کہ اللہ کے بندوٖ ! یہ پیغمبر اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں یہ جو بھی پیغام لے کر آئے ہیں اس کی اتباع اور پیروی کرو ان کی نصیحتوں پر عمل کرو ۔ وہ یہ سب کچھ تمہاری بھلائی کے لئے کہہ رہے ہیں اس میں ان کی کوئی ذاتی غرض اور لالچ نہیں ہے وہ تم سے یہ سب کچھ کرنے پر کوئی صلہ یا بدلہ تو نہیں مانگ رہے ہیں ۔ وہ خود بھی سیدھے راستے پر ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ تم بھی سیدھے راستے پر چلو ۔ اس شخص نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ میں آخر اس ذات کی عبادت و بندگی کیوں نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور تم سب کو اسی ایک پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ کیا میں ایسے معبود کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا معبود بنا لوں حالانکہ اگر وہ رحمن مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو ان بتوں کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے گی اور وہ سب مل کر مجھے اس سے چھڑا نہیں سکتے ۔ اگر میں ایسا کروں گا تو کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہوجاؤں گا ۔ میں تو تمہارے پروردگار پر ایمان لے آیا ۔ تم بھی اسی طرح ایمان قبول کرلو ۔ اس شخص کا آنا اس پوری قوم کو سخت نا گوار گزرا اور انہوں نے اس کو لاتوں اور گھونسوں سے مار مار کر شہید کردیا ۔ اللہ نے اس شخص کے لئے جنت کا فیصلہ کر کے فرمایا کہ تو جنت کی راحتوں میں داخل ہوجا ۔ جب اس نے جنت کی راحتوں کو دیکھا تو اس نے کہا کہ کاش میری قوم یہ دیکھتی کہ اللہ پر ایمان لانے اور اس پر ثابت قدمی کی وجہ سے اللہ نے نہ صرف اس کی مغفرت کردی ہے بلکہ اس کو اعلیٰ ترین مقام عطاء فرما دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے اس قوم کی نا فرمانیوں کی سزا دینے کے لئے کوئی لشکر نہیں اتارا کیونکہ ہمیں اس کی ضرورت بھی نہ تھی بس یکا یک ایک زور دار دھماکہ ہوا اور سب بجھ کر رہ گئے۔ اللہ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں پر سوائے افسوس کے اور کیا کیا جاسکتا ہے کہ ان کے پاس جب بھی کوئی سمجھانے والا آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا اور شدید مخالفت کی ، حالانکہ اگر غور و فکر سے کام لیتے تو انہیں اللہ کا یہ دستور معلوم ہوجاتا کہ جب اللہ نے کسی قوم کو برباد کیا ہے تو وہ پھر کبھی اپنے گھروں کی طرف پلٹ کر نہیں آئے ۔ فرمایا کہ وہ اللہ سے کتنے بھی بھاگ کر دور چلے جائیں آخر کار ان کو ایک دن اس کے سامنے ہی حاضر ہونا ہے۔ ان آیات کی مزید وضاحت کے لئے چند باتیں۔ (1) اس پر بحث کرنا کہ یہ کون سی بستی تھی ؟ ان پیغمبروں کے نام کیا تھے ؟ یہ کب آئے تھے ؟ اس موقع پر اس کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ایک عام واقعہ ہے جس کا مقصد ان قریش مکہ کو بتانا ہے کہ اگر انہوں نے بھی تعصب ، ہٹ دھرمی اور ضد کو نہ چھوڑا تو ان کا انجام بھی اس بستی والوں سے مختلف نہ ہوگا ۔ (2 ) ۔ بشریت انبیاء پر کسی بحث کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ ہر دور میں کفار نے انبیاء کی بشریت کا انکار کیا ہے وہ کہتے تھے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ نبی ہم جیسا جیتا جاگتا ، چلنے پھرنے والا انسان ہو ۔ اس کو تو ایسا ہونا چاہیے کہ جو بشریت اور اس کے تقاضوں سے بلند تر ہو ۔ حالانکہ تمام انبیاء کرام کا ایک ہی جواب تھا کہ ” واقعی ہم تمہاری طرح بشر ہونے کے سوا کچھ نہیں ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے عنایت کرتا ہے ( سورة ابراہیم : 10۔ 11) اگر قوم نوح (علیہ السلام) ، قوم عاد (علیہ السلام) اور قوم ثمود کے حالات زندگی پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہی وہ بات تھی جس نے ان کو ہدایت سے دور رکھا اور اسی بنیاد پر تباہی آئی ۔ (3) ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے ” لا طیرۃ فی الاسلام “ دین اسلام میں کسی چیز کے لئے بد شگونی اور نحوست کوئی چیز نہیں ہے کسی انسان کا قدم منحوس نہیں ہوتا بلکہ جو مصیبتیں آتی ہیں وہ انسان کے اعمال کی وجہ سے آتی ہیں مگر تمام وہ لوگ جو اپنی کمزوریوں پر غور کرنے کے بجائے دوسروں پر یہ کہہ کر ڈال دیتے ہیں کہ یہ سب کام جو خراب ہوتے جا رہے ہیں اس کی وجہ یہ شخص ہے اس کی نحوست سے سارے کام بگڑ رہے ہیں ۔ لیکن یاد رکھئے اسلام نے ہمیں ان باتوں سے روکا ہے۔ ایک مسلمان کی زبان سے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ وہ دوسروں کو منحوس قدم کہے یا سمجھے۔ (4) ۔ اصل میں تمام وہ لوگ جو دین اسلام کی سر بلندیوں کے لئے جدوجہد یا کوشش کر رہے ہیں ان کو یہ اصول ہمیشہ سامنے رکھنا چاہیے کہ حق و صداقت کی بات اثر ضرور کرتی ہے اس میں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے شاید کوئی ایک شخص حق و صداقت کی بات سن کر اس کو قبول کرلے اور جب وہ اپنا سب کچھ قربان کر دے تو اس کی قربانیوں کے نیچے میں حق و صداقت پر چلنے والوں کی نجات ہوجائے۔ (5) ۔ جب قوموں کی نافرمانی حد سے بڑھ جاتی ہے غرور وتکبر انتہاء کو پہنچ جاتا ہے تب اللہ کا فیصلہ آجاتا ہے وہ دنیا والوں کی طرح اس بات کا محتاج نہیں ہے کہ لشکر بھیج کر کسی قوم پر فتح حاصل کی جائے۔ بلکہ اس کا حکم ہی کافی ہوتا ہے۔ ہمیں اس کی ذات اور قوت پر اعتماد کر کے یقین کرلینا چاہیے کہ وہ رب اس قدر طاقت ور ہے کہ اس کے سامنے ساری دنیا کی طاقتیں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔
Top