Tafseer-e-Baghwi - Yaseen : 13
وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ
وَاضْرِبْ : اور بیان کریں آپ لَهُمْ : ان کے لیے مَّثَلًا : مثال (قصہ) اَصْحٰبَ الْقَرْيَةِ ۘ : بستی والے اِذْ : جب جَآءَهَا : ان کے پاس آئے الْمُرْسَلُوْنَ : رسول (جمع)
اور ان سے گاؤں والوں کا قصہ بیان کرو جب ان کے پاس پیغمبر آئے
(36:13) اضرب، فعل امر۔ واحد مذکر حاضر۔ ضرب سے۔ جس کے معنی ایک چیز کو دوسری چیز پر واقع کرنے کے ہیں۔ مختلف اعتبارات سے یہ لفظ بہت سے معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ (1) ہاتھ، لاٹھی یا تلوار سے مارنا۔ مثلاً اضرب بعصاک الحجر۔ (2:61) اپنی لاٹھی پتھر پر مار۔ (2) ضرب الارض بالمطر۔ بمعنی بارش برسنا۔ (3) ضرب الدراہم درہم کو ڈھالنا۔ (4) ضرب فی الارض۔ سفر کرنا۔ (5) فاضرب لہم طریقا فی البحر یبسا (20:77) تو ان کے لئے سمندر میں خشک راستہ بنا دے۔ (6) ضرب الفحل الناقۃ۔ نر کا مادہ سے جفتی کرنا۔ (7) ضرب الخیمۃ۔ خیمہ لگانا۔ کیونکہ خیمہ لگانے کے لئے میخوں کو زمین میں ہتھوڑے سے ٹھونکا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے ضربت علیہم الذلۃ (2:61) ذلت ان سے چمٹا دی گئی یعنی ذلت نے ان کو اس طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا جیسا کہ کسی شخص پر خیمہ لگا ہوا ہوتا ہے اسی طرح یہی معنی اس آیت میں ہیں : ضربت علیہم المسکنۃ (3:112) ناداری ان سے لپٹ رہی ہے۔ (8) فضربنا علی اذانہم فی الکھف سنین عددا۔ (18:11) تو ہم نے غار میں کئی سال تک ان کے کانوں پر نیند کا پردہ ڈالے رکھا۔ (یعنی ان کو سلائے رکھا) ۔ (9) فضرب بینہم بسور (57:13) پھر ان کے بیچ میں ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی۔ (10) کسی بات کو اس طرح بیان کرنا کہ اس سے دوسری بات کی وضاحت ہو اسے ضرب المثل کہتے ہیں مثلاً ضرب اللہ مثلا (39: 29) اللہ تعالیٰ ایک مثال بیان کرتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اضرب تو مثال بیان کر۔ مثلا۔ تشبیہی قصہ۔ اضرب کا مفعول اول۔ اصحب القریۃ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر دونوں مفعول ثانی اضرب کا۔ ایک بستی کے مکین۔ بستی کے رہنے والے۔ واضرب لہم مثلا اصحب القریۃ۔ ان کے سمجھانے کے لئے ایک مثال بیان کریں۔ بستی والوں کا قصہ۔ یعنی بستی والوں کا قصہ مثال کے طور پر بیان کر کے (ان کو سمجھائیں) ۔ اذ۔ ظرف زمان۔ بمعنی جب۔ جس وقت۔ جبکہ۔ جاء ھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع القریۃ ہے۔ المرسلون اسم مفعول جمع مذکر۔ فرستادہ۔ بھیجے گئے۔ بھیجے ہوئے۔ فائدہ :۔ یہ المرسلون کون تھے اور القریۃ سے مراد کون سی بستی ہے اس کے متعلق مختلف آرا ہیں ۔ بغوی ، رازی، سیوطی، محلی، بیضاوی، علامہ آلوسی بغدادی، ابو السعود وغیرہ اکثر مفسرین کے نزدیک یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد تھے۔ جو انطاکیہ میں تبلیغ کے لئے بھیجے گئے تھے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے پہلے دو حواریوں کو بھیجا ۔ لیکن اہل انطاکیہ نے ان کی تکذیب کی اور ان کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا تو پھر ان کی تائید کے لئے تیسرا قاصد بھیجا گیا۔ لیکن ان لوگوں نے پھر بھی ماننے سے انکار کردیا۔ بادشاہ وقت الطیخس اور اس کے لوگوں نے قاصدوں کے قتل کا مشورہ کیا اس کی خبر پا کر ایک مومن شخص جس کا نام حبیب نجار تھا اور وہ مضافات شہر میں آباد تھا۔ آیا اور اپنی قوم کو رسولوں کے اتباع کے لئے کہا لیکن قوم نے اس کی ایک نہ سنی اور ان تینوں کو شہید کردیا۔ بہت اجلہ علما ومحققین اس طرف گئے ہیں کہ یہ سارا قصہ بےبنیاد ہے اور یہ کہ حضرت ابن عباس ، حضرت عکرمہ، حضرت کعب احبار اور وہب بن منبہ وغیرہ نے اسے عیسائیوں کی غیر مستند روایات سے اخذ کیا ہے۔ اور ان فرستادگان کے ناموں میں بھی اختلاف ہے بعض کے نزدیک پہلے دو کے نام صادق ومصدوق تھے اور تیسرے کا نام شلوم تھا۔ بعض نے پہلے دو کے نام یوحنا اور شمعون بتائے ہیں اور تیسرے کا نام بولص۔ بعض نے لکھا ہے کہ پہلے دو کے نام یحییٰ اور یونس تھے۔ اور تیسرا شمعون نامی تھا۔ اس قصہ کی تردید کے لئے سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ سلوقی خاندان (جس سے انطیخش کا تعلق تھا) کی حکومت 65 قبل مسیح ہی ختم ہوچکی تھی اور حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں انطابیہ سمیت شام و فلسطین کا پورا علاقہ رومیوں کے زیر تسلط تھا۔ بستی کا تعین نہ تو قرآن میں کیا گیا ہے اور نہ کسی صحیح حدیث میں۔ بلکہ یہ بات بھی کسی مستند ذریعہ سے معلوم نہیں ہوتی کہ یہ رسول کون تھے اور کس زمانہ میں بھیجے گئے تھے۔ اور قرآن مجید جس غرض کے لئے یہ قصہ بیان کر رہا ہے اسے سمجھنے کے لئے بستی کا نام اور رسولوں کے نام معلوم ہونے کی کوئی ضروت نہیں ہے۔ قصے کے بیان کرنے کی غرض قریش کے لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ تم ہٹ دھرمی ، تعصب اور انکار حق کی اسی روش پر چل رہے ہو۔ جس پر اس بستی کے لوگ چلے تھے اور اسی انجام سے دو چار ہونے کی تیاری کر رہے ہو جس سے وہ دو چار ہوئے “ (تفہیم القرآن) اذ ارسلنا۔ اذ (جاء ھا) کا بدل ہے۔
Top