Mualim-ul-Irfan - Yaseen : 13
وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ
وَاضْرِبْ : اور بیان کریں آپ لَهُمْ : ان کے لیے مَّثَلًا : مثال (قصہ) اَصْحٰبَ الْقَرْيَةِ ۘ : بستی والے اِذْ : جب جَآءَهَا : ان کے پاس آئے الْمُرْسَلُوْنَ : رسول (جمع)
اور آپ ان کے سامنے بستی والوں کا قصہ بیان کیجیے جبکہ ان کے پاس رسول آئے
ایک بستی میں پیامبروں کا پہنچنا اور بستی والوں کا معاندانہ طریقہ پر گفتگو کرنا ان آیات میں ایک واقعہ کا تذکرہ فرمایا ہے اور وہ یہ کہ ایک بستی (جس کا نام مفسرین نے انطاکیہ بتایا ہے) میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو فرستادہ گئے، مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ دونوں نبی نہیں تھے لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے آدمی تھے جو انہوں نے اپنے حوارین میں سے بھیجے تھے، چونکہ اللہ تعالیٰ کے ایک رسول نے انہیں بھیجا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف نسبت فرمائی اور (اِذْ اَرْسَلْنَآ اِلَیْھِمُ ) فرمایا اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ حضرات مستقل نبی تھے، پہلے دو حضرات تشریف لے گئے اور انہوں نے بستی والوں سے کہا کہ ہم تمہاری طرف بھیجے ہوئے ہیں ہماری بات سنو، دین اسلام قبول کرو اور توحید پر آؤ، یہ بات سن کر بستی والوں نے انہیں جھٹلا دیا اور کہا کہ نہیں تم لوگ اللہ کے رسول نہیں ہو۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک تیسرے آدمی کو بھیجا جس کے ذریعہ پہلے دو آدمیوں کی تائید کرنا مقصود تھا، اب ان تینوں نے مل کر وہی بات کہی کہ ہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں تم ایمان لاؤ توحید کو قبول کرو، بستی والوں نے کہا کہ تم کو کیسے اللہ کا فرستادہ مانیں تم تو ہمارے ہی جیسے ہو تم میں ایسی کونسی فضیلت کی بات ہے جس کی وجہ سے تم اللہ تعالیٰ کے پیغمبر بنائے گئے۔ تمہارا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی ہے ہم اسے نہیں مانتے، ہمارے نزدیک تو رحمن نے تم پر کچھ بھی نازل نہیں فرمایا، تم جو یہ دعویٰ کر رہے ہو کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ہیں یہ جھوٹ ہے۔ ان تینوں حضرات نے کہا کہ تم مانو یا نہ مانو ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم ضرور ضرور تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں تمہارے ماننے نہ ماننے سے ہمارے کام پر کچھ اثر نہیں پڑتا، ہم نتیجہ کے مکلف نہیں ہیں ہماری ذمہ داری صرف اتنی ہے کہ خوب اچھی طرح واضح طور پر بیان کریں ماننا نہ ماننا یہ تمہارا کام ہے، بستی والے کہنے لگے کہ تمہارا آنا تو ہمارے لیے منحوس ہوگیا، ایک تو تمہارے آنے سے ہمارے اندر دو فرقے ہوگئے کوئی تمہارا مخالف اور منکر ہے اور کوئی تمہارا موافق ہے (اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ ان لوگوں کے انکار کی وجہ سے بطور عذاب بعض چیزوں کا وقوع ہوگیا تھا اس کو انہوں نے نحوست بتایا) گاؤں والوں نے مزید کہا کہ تم اپنی باتیں بس کرو اگر باز نہ آئے تو تمہاری خیر نہیں اگر تم نے اپنی باتیں نہ چھوڑیں تو ہم پتھروں سے مار مار کر ختم کردیں گے اور اس کے علاوہ بھی ہم تمہیں سخت تکلیف پہنچائیں گے۔ ان تینوں حضرات نے کہا کہ تم نحوست کو ہماری طرف منسوب کر رہے ہو، تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے نہ تم کفر پر جمے رہتے نہ پھوٹ پڑتی نہ کوئی اور تکلیف آتی کرتوت تمہارے ہیں اور ان کا نتیجہ ہمارے ذمہ لگا رہے ہو، ہم نے تو اتنا ہی کیا ہے کہ تمہیں توحید کی دعوت دی ہے اور ایمان قبول کرنے کو کہا ہے اس میں کون سی ایسی بات ہے جسے نحوست کا سبب بنالیا جائے۔ (قال صاحب الروح ائن ذکرتم ووعظتم مافیہ سعادتکم تطیرون اوتتوعدون او نحو ذلک ویقدر مضارع وان شئت قدرت ماضیًا کتطیرتم) (صاحب تفسیر روح المعانی فرماتے ہیں کیا اس لیے کہ تمہیں اس چیز کی وعظ و نصیحت کی گئی ہے جس میں تمہاری کامیابی ہے تم نحوست کی فال لیتے ہو یا یہ کہ تم ہمیں دھمکیاں دیتے ہو یا اسی جیسی کوئی اور عبارت محذوف ہوسکتی ہے۔ اور فعل محذوف مضارع بھی مانا جاسکتا ہے اور اگر چاہو تو ماضی مان لو جیسے تطیرون کی جگہ تطیرتم) ان تینوں حضرات نے آخر میں فرمایا (بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ ) بلکہ بات یہ ہے کہ تم حد سے آگے بڑھ جانے والے ہو تمہارا حد سے آگے بڑھنا یعنی کفر پر جمے رہنا ان چیزوں کا سبب ہے جنہیں ہماری آمد کی نحوست بتا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اسلام میں نحوست کوئی چیز نہیں ہے، تینوں حضرات نے جو یہ فرمایا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے، یہ ان کے جواب میں (علیٰ سبیل المشاکلہ) فرمایا، کفر کی وجہ سے جو ان لوگوں کی کچھ گرفت ہوئی تھی اسے انہوں نے نحوست بتادیا، تینوں حضرات نے ان کے الفاظ ان پر لوٹا دئیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (الطیرۃ شرک) یعنی بد شگونی شرک ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 329)
Top