Baseerat-e-Quran - Yaseen : 13
وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ
وَاضْرِبْ : اور بیان کریں آپ لَهُمْ : ان کے لیے مَّثَلًا : مثال (قصہ) اَصْحٰبَ الْقَرْيَةِ ۘ : بستی والے اِذْ : جب جَآءَهَا : ان کے پاس آئے الْمُرْسَلُوْنَ : رسول (جمع)
اور ان کو بستی والوں کی مثال سنائو، جب کہ ان کے پاس فرستادے آئے۔
2۔ آگے کا مضمون۔ آیات 13۔ 32 آگے قریش کے سامنے رسولوں کی تکذیب کا انجام واضح کرنے کے لئے ایک بستی کی مثال پیش کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بستی والوں کے انداز کے لئے اپنے دو رسول بھیجے لیکن انہوں نے ان کی تکذیب کردی۔ اس کے بعد اللہ نے اپنے ایک تیسرے منذر سے اپنے رسولوں کو کمک پہنچائی لیکن بسی والوں نے اس کی بھی کوئی پروا نہ کی۔ ان کی تنبیہ کے لئے جو نشانیاں ظاہر ہوئیں ان کو انہوں نے رسولون کی نحوست پر محمول کیا اور ان کو سنگسار کردینے کی دھمکی دی۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک فیصلہ کن عذاب بھیج کر ان کو بالکل پامال کردیا۔ قرآن نے اس بستی کا نام نہیں لیا ہے اس وجہ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سے کون سی بستی مراد ہے ؟ مفسرین نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اس سے مراد انطاکیہ ہے اور یہاں جن رسولوں کا ذکر ہے وہ اللہ کے رسول نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ ؑ کے بھیجے ہوئے سفیر تھے جن کو حضرت ؑ نے اپنے شاگردوں میں سے انتخاب کرکے انطاکیہ والوں کے انذار کے لئے بھیجا تھا۔ میرے سامنے بروقت جو تفسیریں ہیں ان سب میں یہی روایت نقل ہوئی ہے۔ ابن کثیر ؒ نے اس پر متعدد شبہات و ارد کرکے اگرچہ اس کو مجروح کردیا ہے لیکن اس کے سوا کوئی اور قول چونکہ ان کو نہیں ملا اس وجہ سے انہوں نے بھی اختیار اسی کو کیا ہے۔ میرے نزدیک یہ قول متعدد وجود سے بےبنیاد ہے۔ 1۔ اس کے بےبنیاد ہونے کی پہلی وجہ یہ ہے کہ یہاں ان رسولوں کا جس طرح ذکر ہوا ہے اور انہوں نے اپنے آپ کو جس حیثیت سے لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے اس سے صاف واضح ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ ؑ کے بھیجئے ہوئے رسول نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے بھیجئے ہوئے رسول تھے اور اسی حیثیت سے انہوں نے اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ مثلاً فرمایا ہے۔ اذا رسلنا الیھم اثنین فکذبوھما فعززنا بثالث فقالو انا الیکم مرسلون۔ (یاد کرو جب کہ ہم نے ان کی طرف دو رسول بھیجئے تو انہوں نے ان کو جھٹلایا تو ہم نے ایک تیسرے سے ان کو قوت پہنچائی تو انہوں نے لوگوں کے سامنے اعلان کیا کہ ہم تمہاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں) آگے اسی سلسلہ میں یہ بھی آتا ہے کہ جب لوگوں نے اس بنا پر ان کو جھٹلایا کہ وہ انہی کی طرح بشیر ہیں تو انہوں نے قیدقسم کے ساتھ کہا کہ ’ ربنا یعلم انا الیکم لمرسلون ‘(ہمارا رب گواہ ہے کہ تم تمہاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں)۔ اگر یہ لوگ حضرت عیسیٰ ؑ کے بھیجے ہوئے سفیر تھے تو ان کے بھیجنے کو اللہ تعالیٰ نے اس صراحت و تاکید کے ساتھ اپنی طرف کیوں منسوب فرمایا ؟ اور اگر انہوں نے اپنے آپ کوا للہ کے رسول کے بجائے حضرت عیسیٰ ؑ کے سفیر کی حیثیت سے لوگوں کی دعوت دی ہوتی تو لوگ ان کی بشریت کی بنا پر ان کی تکذیب کیوں کرتے ؟ رسولوں کے مکذبین نے ان کی بشریت کو تکذیب کا بہانہ تو اس بنیاد پر بنایا کہ وہ خدا کے رسول ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔ اس پر لوگ یہ اعتراض اٹھاتے تھے کہ اگر خدا کو کوئی رسول بھیجنا ہوتا تو کیا وہ ہمارے ہی جیسے انسانوں کو رسول بناتا، آخر اس نے اپنے فرشتوں یا کسی اور برتر مخلوق کو اس منصب کے لئے کیوں نہیں انتخاب کیا ؟ 2۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر یہ واقعہ حضرت عیسیٰ ٰ ؑ کے زمانے میں پیش آیا اور اس کا نتیجہ اہل انطاکیہ کی تباہی کی شکل میں ظاہر ہوا تو یہ اتنا بڑا واقعہ تھا کہ انجیلوں اور بائیبل ہسٹری میں اس کا ذکر ضرورہوتا لیکن نہ تو انجیلوں میں اس کا کوئی ذکر ہے اور نہ تاریخوں ہی میں اس کی طرف کوئی اشارہ ہے۔ بلکہ تاریخوں میں اس کے برعکس یہ اشارہ ملتا ہے کہ اہل انطاکیہ نے حضرت عیسیٰ ؑ پر ایمان لانے میں سبقت کی۔ 3۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ یہاں اس واقعہ کا ذکر قریش کے سامنے ایک معروف واقعہ کی حیثیت سے ہوا ہے۔ چناچہ یہاں قریہ پر الف لام عہد کا داخل ہے۔ ’ اصحابقریۃ ‘ نہیں کہا ہے بلکہ ’ اصحاب القریۃ ‘ فرمایا ہے۔ اور موقع و محل کا تقاضا بھی یہ ہے کہ یہاں کسی معروف واقعہ کا ذکر کیا جائے اس لئے کہ اس سے مقصود قریش کو انداز و تخویف ہے اور یہ مقصد صرف ایک مشہور واقعہ ہی سے حاصل ہوسکتا تھا نہ کہ ایک ایسے واقعہ سے جس سے وہ بالکل بیخبر ہوں۔ 4۔ چوتھی وجہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ بنی اسرائیل کے رسول تھے اس وجہ سے غیر قوموں کو نہ تو انہوں نے خود دعوت دی اور نہ ان کی طرف اپنے شاگردوں ہی کو بھیجا۔ بلکہ انہوں نے غیر قوموں کے پاس جانے سے اپنے شاگردوں کو روکا۔ ان کا ارشاد ہے کہ میں صرف اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں ہی کی تلاش کے لئے آیا ہوں۔ ‘ غیر قوموں کے بارے میں ان کا یہ ارشاد نقل ہوا ہے کہ میرے پاس جو روٹی ہے وہ صرف بچوں ہی کے لئے ہے، کتوں کے آگے اس کو ڈالنا ٹھیک نہیں ہے۔ ‘ اس وجہ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انطاکیہ میں انہوں نے اپنے شاگردوں کو کن کے پاس بھیجا ؟ غیر قوموں کے پاس تو ظاہر ہے کہ وہ بھیج نہیں سکتے تھے۔ رہے بنی اسرائیل تو بشریت کی بنیاد پر تو انہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کی بھی تکذیب نہیں کی تو اس بنیاد پر وہ ان کے شاگردوں کی تکذیب کیوں کرتے ؟ وہ جن نبیوں کے معتقد تھے ان کو وہ بشر مانتے تھے اس وجہ سے وہ یہ اعتراض نہیں اٹھا سکتے تھے۔ چناچہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کی نبوت کے خلاف ہر قسم کے فتنے اٹھائے لیکن یہ اعتراض نہیں اٹھایا کہ آپ بشر ہیں بلکہ قریش نے جب یہ اعتراض اٹھایا تو قرآن نے بنی اسرائیل ہی کو گواہ کی حیثیت سے پیش کیا کہ ان سے پوچھ لو کہ ہم نے جتنے نبی یا رسول بھیجے سب بشر ہی تھے۔ 5۔ پانچویں وجہ یہ ہے کہ آگے مذکور ہے کہ ان رسولوں کی تکذیب کے نتیجہ میں ان کے اوپر ایسا فیصلہ کن عذاب آیا کہ وہ بالکل پامال ہو کے رہ گئے۔ ان کا نت الا صیحۃ واحدۃ فاذاھم خمدون (39) ‘ (بس ہماری ایک ڈانٹ ہی تھی کہ وہ چشم زون میں پامال ہو کے رہ گئے)۔ اس قسم کے فیصلہ کن عذاب سے متعلق ہم سنت الٰہی کی وضاحت کرچکے ہیں کہ یہ صرف رسولوں کی تکذیب کے نتجہ میں، کامل اتمامِ حجت کے بعد ہی آیا ہے۔ یہود کے متعلق یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی تکذیب کے نتیجہ میں ان پر اس طرح کا کوئی عذاب نہیں آیا جس طرح کا عذاب سابق رسولوں کے مکذبین پر آیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس جرم میں ان پر قیامت تک کے لئے لعنت کردی۔ لعنت کا عذاب تمام عذابوں سے زیادہ سخت ہے جس کے سبب سے وہ دنیا میں بھی ہمیشہ ذلیل و پامال رہیں گے اور آخرت میں بھی ان کے لئے ذلت و رسوائی ہے۔ اس کی وضاحت سورة اعراف اور سورة بنی اسرائیل کی تفسیر میں ہم کرچکے ہیں۔ اس قول کے ضعف کے یہ وجوہ بالکل واضح ہیں۔ ان کے علاوہ بعض اور وجوہ بھی ہیں جو آگے آیات کی تفسیر کے ذہل میں سامنے آئیں گے۔ ہمارے نزدیک اس قریہ سے اشارہ مصر کی طرف ہے جہاں حضرت موسیٰ و حضرت ہارون (علیہما السلام) اور تیسرے مرد حق کی تکذیب کے نتیجہ میں فرعون اور اس کی قوم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا۔ اس کے قراء و دلائل کی تفصیل آیات کی تفسیر کے ذیل میں آئے گی۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔ 3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت واضرب لھم مثلا اصحب القریۃ اذ جاء ھا المرسلون (13) ’ لھم ‘ میں ضمیر کا مرجع قریش ہیں اور ’ اصحت القریۃ میں ’ قریۃ ‘ پر الف لازم اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ بستی مخاطب کے لئے ایک معہود و معلوم بستی تھی۔ آگے کے اشارات دلیل ہیں کہ اس سے مراد مصر ہے جس کی سرگزشت، مختلف اسلوبوں سے، قرآن میں، قریش کی عبرت پذیریت کے لئے بیان ہوئی ہے اور جس کے حالات سے وہ واقف تھے۔ ’ اذجاء ھا المرسلون ‘ سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہاں مقصود مخاطب کو اس وقت کے حالات کی طرف توجہ دلانا ہے جب ان کی طرف رسولوں کی بعثت ہوئی ہے۔ فرمایا کہ ان لوگوں کو اس بستی کی سرگزشت کی طرف توجہ دلائو کہ جو انجام اس بستی والوں کا ہوا وہی حال ان کا بھی ہوگا اگر انہوں نے انہی کی روش اختیار کی۔
Top