Ahsan-ut-Tafaseer - Saad : 69
مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ
مَا كَانَ : نہ تھا لِيَ : میرے پاس (مجھے) مِنْ عِلْمٍۢ : کچھ خبر بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰٓي : عالم بالا کی اِذْ : جب يَخْتَصِمُوْنَ : وہ باہم جھگڑتے تھے
مجھ کو اوپر کی مجلس (والوں) کا جب وہ جھگڑتے تھے کچھ بھی علم نہ تھا
69۔ 70۔ ترمزی 2 ؎ مسند امام احمد مسند عبد بن حمید وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس اور معاذ (رح) بن حبل کی معتبر روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ آج کی رات اللہ تعالیٰ کو میں نے خواب میں دیکھا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پوچھا کہ اے محمد ﷺ تم کو کچھ معلوم ہے کہ یہ آسمان پر فرشتے کس بات پر جھگڑ رہے ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ مجھ کو معلوم نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دونوں شانوں کے بیچ میں رکھا۔ جس کی خنکی میرے سینہ تک پہنچی اور اس اثر سے تمام زمین و آسمان کا حال مجھ پر کھل گیا اور پھر میں نے بتلا دیا۔ کہ جاڑے کے موسم میں وضو کرنے اور مسجد میں نماز کے انتظار میں بیٹھنے کے اور جماعت کے لئے قدم اٹھانے کے ثواب کے لکھنے کے باب میں یہ فرشتے جھگڑ رہے ہیں کہ ان نیک کاموں کا ثواب کس قدر لکھا جاوے۔ بعضے مفسروں نے ان روایتوں کو اس آیت کی تفسیر قرار دیا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ فرشتوں کے جس جھگڑے کا ذکر ان روایتوں میں ہے۔ وہی فرشتوں کا جھگڑا اس آیت میں مختصر طور پر ہے۔ لیکن حافظ عماد الدین ابن کثیر نے یہ فیصلہ کردیا ہے 3 ؎ کہ اس آیت میں فرشتوں کا وہ جھگڑا مراد ہے جو حضرت آدم کے پیدا کرنے کی صورت میں حضرت حضرت آدم کی اولاد زمین پر طرح طرح کے فساد برپا کرے گی اور جب کہ خود اللہ تعالیٰ نے آگے کی آیتوں میں حضرت آدم کی پیدائش کے قصہ کو ذکر فرمایا ہے تو قرآن شریف کی تفسیر قرآن شریف کی آگے کی آیتوں کو قرار دینا اصول تفسیر کے موافق ہے اوپر کی روایتوں کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث میں جو قصہ ہے وہ آنخضرت کے ایک خواب کا قصہ ہے اسی واسطے محدثین کے نزدیک یہ حدیث خواب کی حدیث کے نام سے مشہور ہے ‘ بعضے علما نے اس قصہ کو بیداری کی حالت کا قصہ قرار دیا ہے وہ صحیح 1 ؎ مسلم کی حضرت ابوذر ؓ کی صحیح حدیث کے مخالف ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بیداری کی حالت میں اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھا حاصل کلام یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں قرآن شریف کا ذکر تھا۔ اس لئے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان منکر قرآن مشرکوں کو یوں قائل کرو کہ پچھلے انبیا اور امتوں کے زمین پر کے صحیح قصوں سے اگر تم قرآن کو کلام الٰہی نہیں مانتے تو بھلا یہ بتلاؤ کہ آسمان پر فرشتوں کا قصہ زمین پر کیوں آگیا۔ یہ تو تم ثابت نہیں کرسکتے کہ اہل کتاب میں کے کسی شخص سے میں نے یہ قصے سیکھ لئے ہیں اس واسطے تم کو اس بات کے مان لینے میں ہٹ دھرمی نہ کرنی چاہئے۔ مجھ کو تو یہی حکم ہے کہ قرآن کو جھٹلانے کے وبال سے میں تم لوگوں کو ڈرا دوں اگر اس ڈر کو تم لوگ نہ مانو گے تو اپنی اس ہٹ دھرمی سے ایسے وقت پچھتاؤ گے کہ اس وقت کا پچھتانا تمہارے کچھ کام نہ آوے گا سورة فرقان کی آیتوں کے حوالہ سے ایسے لوگوں کے بےوقت پچھتانے کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ وہی آیتیں آخری آیت کی گویا تفسیر ہیں۔ (2 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة ص ص 178 ج 2۔ ) (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 42۔ ج 4) (1 ؎ صحیح مسلم مع شرح نودی باب معنی قولہ عز و جل و لقدراہ نزلۃ اخراے الخ ص 97 ج 1)
Top