Mazhar-ul-Quran - Saad : 69
مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ
مَا كَانَ : نہ تھا لِيَ : میرے پاس (مجھے) مِنْ عِلْمٍۢ : کچھ خبر بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰٓي : عالم بالا کی اِذْ : جب يَخْتَصِمُوْنَ : وہ باہم جھگڑتے تھے
مجھے ،1، عالم بالا (یعنی فرشتوں کی) کیا خبر تھی جب وہ جھگڑے تھے
(ف 1) اے محبوب ﷺ کہہ دو کہ مجھ کو کیا علم تھا کہ عالم بالا کے ملائکہ کس بات میں گفتگو کرتے تھے میری طرف خدا سے وحی بھیجی گئی اس کے ذریعہ سے مجھ کو اخبار غیب معلوم ہوئے وہ وحی یہ کہ میں تم کو قرآن کے قصص عبرت خیز سنا کر ڈراؤں کہ میں خدا کا نذیر مبین تمہارے لیے آیا ہون جو تم کو تمہاری صاف فصیح بامحاورہ زبان میں ڈراتا ہوں ، یعنی اگر رسول نہ ہو تو مجھ کو وہ خبر جو عرب والوں نے کبھی نہ سنی تھی کیونکرمعلوم ہوتی یہ ایک سچی یقینی دلیل نبوت ہے بغیر تعلیم ظاہر اسرار غیبی ظاہر کردیے۔ عظمت حبیب خدا۔ ترمذی، مسندامام احمد ، مسند عبد بن حمید اور دارمی وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس اور معاذ بن جبل ؓ کی معتبر روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں اپنے بہترین حال میں اپنے رب عزوجل کے دیدار سے مشرف ہوا، اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پوچھا کہ اے محمد ﷺ عالم بالا کے ملائکہ کس بحث میں ہیں میں نے عرض کیا یارب تو ہی دانا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنادست رحمت وکرم میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھا میں نے اس فیض کا اثر اپنے قلب مبارک میں پایا تو آسمان و زمین کی تمام چیزیں میرے علم میں آگئیں پھر میں نے بتلادیا کہ کفارات یہ ہیں۔ (1) ۔ نمازوں کے بعد مسجد میں ٹھہرنا۔ (2) اور پیادہ جماعتوں کے لیے جانا ۔ (3) اور جس وقت سردی وغیرہ کے باعث پانی کا استعمال ناگوار ہو اس وقت اچھی طرح وضو کرنا۔ جس نے یہ کیا اس کی زندگی بھی بہتر ہے موت بھی بہتر اور گناہوں سے ایسا پاک وصاف نکلے گا جیسا اپنی ولادت کے دن تھا۔ اور فرمایا اے محمد ﷺ نماز کے بعد یہ دعا کیا کرو، اللھم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا اردت بعبادک فتنۃ فاقبضنی الیک غیر مفتون۔ بعض روایتوں میں یہ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مجھے ہر چیز روشن ہوگئی اور میں نے پہچان لی اور ایک روایت میں ہے کہ جو کچھ مشرق ومغرب میں ہے سب میں نے جان لیا، امام علامہ علاؤ الدین علی بن محمد ابن ابراہیم بغدادی معروف بہ خازن اپنی تفسیر میں اس کے معنی یہ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کا سینہ مبارک کھول دیا اور قلب شریف کو منور کردیا اور جو کچھ نہ جانتے تھے اس سب کی معرفت آپ کو عطا کردی تاآنکہ آپ نے نعمت ومعرفت کی سردی اپنے قلب مبارک میں پائی اور جب قلب شریف منور ہوگیا اور سینہ پاک کھل گیا تو جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے باعلام الٰہی جان لیا۔
Top