Urwatul-Wusqaa - Saad : 69
مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ
مَا كَانَ : نہ تھا لِيَ : میرے پاس (مجھے) مِنْ عِلْمٍۢ : کچھ خبر بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰٓي : عالم بالا کی اِذْ : جب يَخْتَصِمُوْنَ : وہ باہم جھگڑتے تھے
مجھے تو ملائِ اعلیٰ کے متعلق کوئی علم نہیں ہے جب کہ وہ (آپس میں) جھگڑ رہے تھے
آپ کہہ دیجئے کہ مجھے اس وقت کوئی خبر نہ تھی جب فرشتے جھگر رہے تھے 69۔ ارشاد الہٰی ہے کہ ” مجھے اس وقت کی کوئی خبر نہیں جب ملاء اعلیٰ میں جھگڑا ہو رہا تھا “ یہ بات کون کہہ رہا ہے ؟ ظاہر ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کہہ رہے ہیں۔ کس سے کہہ رہے ہیں ؟ اپنی امت کے لوگوں کو مخاطب کر کے آپ فرما رہے ہیں کہ مجھے اس وقت کی کوئی خبر نہیٰں جب ملاء اعلیٰ میں جھگڑا ہو رہا تھا۔ یہ جھگڑا کس بات میں تھا ؟ کہا گیا ہے کہ تخلیق آدم کے بارے میں فرشتے آپس میں جھگرا کر رہے تھے۔ ہم ان ساری باتوں میں کسی ایک کو بھی صحیح نہیں سمجھتے کیونکہ اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کا آپس میں کوئی جھگڑا نہیں ہوا۔ شیطان کا اور اللہ تعالیٰ کے کسی جھگڑے کا ذکر قرآن کریم میں نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا کسی سے یا کسی کا اللہ تعالیٰ سے جھگرا ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہمارے خیال میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کو بتایا جا رہا ہے کہ لوگ یعنی مشرک و منافق جو ملاء اعلیٰ کے بارے میں جھگڑا پیدا کرتے ہیں اور اس طرح ملاء اعلیٰ کی کہنہ اور حقیقت معلوم کرنا چاہتے ہیں آپ کو کہا جا رہا ہے کہ آپ کہہ دیجئے مجھے تو اس طرح کی کسی بات کو کوئی علم نہیں کیونکہ مجھے غیب کی کیا خبر ؟ ظاہر ہے کہ غیب کا علم صرف اور صرف رب ذوالجلال والاکرام ہی کو ہے۔ رہی یہ بات کہ ملاء اعلیٰ کے بارے میں کفار ، منافق اور مشرک کیوں جھگڑتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ نبی کریم ﷺ جبرئیل کے آنے کا اور وحی لانے کا ذکر کرتے تھے اور آپ کا ایسا فرمانا ہی ان کے درمیان جھگڑے کا باعث تھا۔ اور اس بات کا آگے ذکر بھی کیا جا رہا ہے جو آنے والی آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ اس جگہ ایک حدیث کا ذکر بھی اکثر مفسرین نے کیا ہے جو آپ کارویہ صادقہ ہے لیکن جو نتیجہ اس سے نکالا گیا ہے وہ سراسر منافی قرآن اور خصوصا اس آیت کے منافی اور یہ بھی کہ مفسرین نے اس کو رویہ قرار نہیں دیا جو سراسر ایک زیادتی پر مزید زیادتی ہے۔
Top