Tafseer-e-Madani - Saad : 69
مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ
مَا كَانَ : نہ تھا لِيَ : میرے پاس (مجھے) مِنْ عِلْمٍۢ : کچھ خبر بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰٓي : عالم بالا کی اِذْ : جب يَخْتَصِمُوْنَ : وہ باہم جھگڑتے تھے
(نیز ان سے یہ بھی کہہ دو کہ) مجھے تو عالم بالا کے بارے میں کچھ بھی خبر نہ تھی جب کہ ان کا آپس میں جھگڑا ہو رہا تھا
80 پیغمبر کی صداقت و حقانیت ایک کھلا اور واضح ثبوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ مجھے تو کچھ خبر نہ تھی عالم بالا کے بارے میں جبکہ انکا آپس میں جھگڑا ہورہا تھا۔ یعنی تخلیق آدم کے بارے میں ۔ وَفِیْہِ اَقُّوْالٌ اُخْریٰ ۔ تو اس بارے میں کوئی پیشگی علم نہ ہونے کے باوجود میں تم لوگوں کو ان قطعی اور بنیادی حقائق سے اس صراحت و وضاحت کے ساتھ اور اس قدر تفصیل و تحقیق سے آگاہ کر رہا ہوں تو یہ ایک واضح ثبوت اور کھلی دلیل ہے میری نبوت و رسالت کی۔ اور میری صداقت و حقانیت کی۔ کہ وحی کے سوا ان حقائق کو جاننے کا میرے پاس کوئی اور ذریعہ نہ تھا نہ ہوسکتا ہے۔ سو اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے بذریعہ وحی مجھے عالم بالا کے ان تمام عظیم الشان حقائق سے آگاہ فرمایا اور وحی کی اسی روشنی کی بنا پر میں تم لوگوں کو تمہارے انجام سے خبردار کر رہا ہوں۔ تاکہ خود تم لوگوں کا بھلا ہو اور تم ہولناک خسارے سے بچ سکو۔
Top