Ashraf-ul-Hawashi - Saad : 69
مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ
مَا كَانَ : نہ تھا لِيَ : میرے پاس (مجھے) مِنْ عِلْمٍۢ : کچھ خبر بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰٓي : عالم بالا کی اِذْ : جب يَخْتَصِمُوْنَ : وہ باہم جھگڑتے تھے
بھلا اوپر والے لوگ (فرشتے) جب جھگڑنے لگے تو مجھ تو کچھ بھی معلوم نہ تھا7
7 یعنی اگر وحی نہ ہوتی تو مجھے کچھ بھی پتہ نہ چلتا کہ ” ملاء اعلی “ کیا تدبیریں کرتے ہیں۔ یہاں اختصام سے مراد وہ اختصام ہے جو آدم (علیہ السلام) کی فضلیت اور ابلیس کے سجدہ نہ کرنے کے بارے میں فرشتوں کے درمیان ہوا۔ ( ابن کثیر) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں اس مجلس میں جھگڑا نہیں مگر ہر کوئی اپنے کام کے تکرار کرتا ہے۔ ( موضح)
Top