Tafseer-al-Kitaab - Saad : 69
مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ
مَا كَانَ : نہ تھا لِيَ : میرے پاس (مجھے) مِنْ عِلْمٍۢ : کچھ خبر بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰٓي : عالم بالا کی اِذْ : جب يَخْتَصِمُوْنَ : وہ باہم جھگڑتے تھے
(اے پیغمبر، ان سے کہو کہ) مجھے ان بلند قدر فرشتوں (کی بحث و گفتگو) کی کچھ خبر نہ تھی جب کہ وہ (تخلیق آدم کے بارے میں) جھگڑ رہے تھے۔
[21] جھگڑے سے مراد ایک تو وہ گفتگو ہے جو اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کے درمیان ہوئی تھی اور جس کا تذکرہ سورة بقرہ میں آچکا ہے۔ اس گفتگو کو یہاں '' اختصام '' کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں جھگڑا یا بحث و مباحثہ، حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ فرشتوں کا سوال کوئی اعتراض یا بحث مباحثہ کے نقطہ نظر سے نہ تھا بلکہ وہ محض تخلیق آدم کی حکمت معلوم کرنا چاہتے تھے لیکن سوال و جواب کا ظاہری پہلو کیونکر بحث کا سا ہوگیا تھا اس لئے اسے '' اختصام '' سے تعبیر کیا گیا۔ دوسرا جھگڑا اللہ تعالیٰ اور ابلیس کے درمیان تھا جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
Top