Ruh-ul-Quran - Saad : 69
مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ
مَا كَانَ : نہ تھا لِيَ : میرے پاس (مجھے) مِنْ عِلْمٍۢ : کچھ خبر بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰٓي : عالم بالا کی اِذْ : جب يَخْتَصِمُوْنَ : وہ باہم جھگڑتے تھے
مجھے ملائِ اعلیٰ کی کچھ خبر نہ تھی، جب وہ جھگڑ رہے تھے
مَا کَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍ م بِالْمَلَاِالْاَعْلٰٓی اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ ۔ اِنْ یُّوْحٰٓی اِلَیَّ اِلاَّ ٓاَنَّمَـآ اَنَا نَذِیْرٌمُّبِیْنٌ۔ (صٓ: 69، 70) (مجھے ملائِ اعلیٰ کی کچھ خبر نہ تھی، جب وہ جھگڑ رہے تھے۔ یہ تو بس اس وجہ سے مجھے وحی کی جاتی ہے کہ میں ایک نذیرمبین ہوں۔ ) آپ ﷺ کے نذیر ہونے پر دلیل آپ کے نذیر مبین ہونے کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ میں جو تمہیں ایسی بڑی بڑی خبریں دے رہا ہوں جس پر تمہاری دنیا و آخرت میں کامیابی کا دارومدار ہے تو اس سے تمہیں یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ میں یہ سب باتیں اپنی طرف سے بنا کر تمہیں مرعوب کرنے کے لیے ایسا کررہا ہوں۔ اس سے پہلے اہل دوزخ کی باہمی توتکار کی میں نے جو خبر تمہیں دی ہے وہ محض کوئی افسانہ نہیں جسے میں نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر وحی کی جاتی ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری اصلاح کے لیے مبعوث کیا ہے اور مجھے تمہاری طرف نذیرمبین بنا کر بھیجا ہے۔ کیونکہ میرے بعد کوئی اور نبی اور رسول آنے والا نہیں۔ میں اہل دنیا کو پوری طرح آگاہ کرنے کے لیے آیا ہوں کہ اگر انھوں نے ان حقائق کو تسلیم نہ کیا تو وہ تباہ و برباد ہوجائیں گے۔ اسی وجہ سے یہ تمام باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر وحی کی جاتی ہیں اور میں ایک نذیرمبین کی حیثیت سے لوگوں تک ان باتوں کو پہنچاتا ہوں۔ اہلِ عرب کی یہ عادت تھی کہ جب ان میں سے کسی شخص کو اچانک یہ خبر ہوتی کہ کوئی قبیلہ ان پر شب خون مارنے والا ہے یا کوئی بڑی فوج ان پر حملہ آور ہورہی ہے تو وہ اپنے قبیلے یا اپنی قوم کو تباہی سے بچانے کے لیے سرپٹ اپنی سواری پر دوڑ پڑتا۔ اگر اونٹ پر سوار ہوتا تو اونٹ کی ناک چیر دیتا، اپنے کپڑے پھاڑ دیتا اور انتہائی دہشت ناک آواز میں لوگوں کو اس خطرے کی طرف متوجہ کرتا۔ ایسے شخص کو نذیر عریان کہا جاتا تھا یعنی ننگا ڈرانے والا۔ قرآن کریم چونکہ نہایت مہذب اور سنجیدہ کتاب ہے اس لیے اس نے عریان کو مبین سے بدل دیا ہے۔ مفہوم اس کا وہی ہے کہ جس طرح وہ ڈرانے والا انتہائی بےچینی، بےکلی اور پوری قوت سے چیخ چیخ کر اپنی قوم کو خطرے سے آگاہ کرتا ہے، میں بھی تمہیں آنے والے خطرے سے آگاہ کررہا ہوں۔ اور یہ اس لیے نہیں کہ یہ میرا اپنا احساس ہے بلکہ میں یہ اس لیے کر رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی وحی مجھ پر اترتی ہے اور اس کی وجہ سے میں اس خطرے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ کوہ صفا پر کھڑے ہو کر آنحضرت ﷺ نے اپنی قوم سے جب یہ اطمینان حاصل کرلیا کہ وہ آپ کو انتہائی سچا انسان سمجھتی ہے اور آپ کی ہر خبر پر یقین رکھتی ہے تب آپ نے فرمایا : کہا گر مری بات یہ دلنشیں ہے تو سمجھو خلاف اس میں اصلاً نہیں ہے کہ سب قافلہ یاں سے ہے جانے والا ڈرو اس سے جو وقت ہے آنے والا پھر اس کی تائید میں فرمایا کہ ملائِ اعلیٰ میں جب پروردگار نے آدم کو خلیفہ بنانے کا اظہار فرمایا تو فرشتوں نے اس پر بعض سوالات کیے اور پروردگار نے نہایت شفقت سے اس کا جواب ارشاد فرمایا۔ قرآن کریم نے شفقت ہی کے انداز میں فرشتوں کے سوالات کو اختصام سے تعبیر کیا جس کا ہم عام طور پر جھگڑے سے ترجمہ کرتے ہیں۔ لیکن دنیا میں اس کی کسی کو خبر نہ تھی۔ آنحضرت ﷺ سے فرمایا گیا ہے کہ آپ ان کو بتائیے کہ میں یہ پورا واقعہ تمہارے سامنے بیان کررہا ہوں تو اس کا سبب صرف یہ ہے کہ میری طرف یہ باتیں وحی کی جاتی ہیں۔ کیونکہ میرے نذیر مبین ہونے کے لیے ان باتوں کا جاننا ضروری ہے تاکہ میں تمہیں ان کے نتائج سے آگاہ کرسکوں۔
Top