Anwar-ul-Bayan - Saad : 69
مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ
مَا كَانَ : نہ تھا لِيَ : میرے پاس (مجھے) مِنْ عِلْمٍۢ : کچھ خبر بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰٓي : عالم بالا کی اِذْ : جب يَخْتَصِمُوْنَ : وہ باہم جھگڑتے تھے
مجھ کو اوپر کی مجلس (والوں) کا جب وہ جھگڑتے تھے کچھ بھی علم نہ تھا
(38:69) الملا الاعلی : م ل ء مادہ۔ الملا وہ جماعت جو کسی امر پر مجتمع ہو تو نظروں کو ظاہری حسن و جمال سے اور نفوس کو ہیبت و جلال سے بھر دے۔ ملا یملا ملا وملاۃ مصدر (باب فتح) کسی چیز کو کسی چیز سے بھرنا۔ مل پیمانہ یا برتن بھرنے کی مقدار ۔ مثلا قرآن مجید میں ہے فلن یقبل من احدھم مل الارض ذھبا (3:91) سو ان میں سے کسی سے بھی ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا زمین بھر سونا۔ قوم کے سردار اہل الرائے اشخاص اپنی رائے کی خوبی اور ذاتی محاسن سے لوگوں کی خواہش کو بھر دیتے ہیں یا آنکھوں میں روشنی اور دلوں میں ہیبت بھر دیتے ہیں۔ اسی لئے ان کو ملا کہتے ہیں۔ الملا الاعلی موصوف و صفت الملا اسم جمع ہے اس لئے اس کی صفت بھی مفرد آئی ہے۔ الاعلی سب سے اوپر۔ برتر۔ علو سے جس کے معنی بلندو برتر ہونے کے ہیں۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے الملا الاعلی سرداران عالی قدر۔ صاحب ضیاء القرآن تحریر فرماتے ہیں :۔ یہاں ملا اعلی سے مراد فرشتوں کی جماعت ہے جو اپنے شرف و عزت کے علاوہ عالم بالا کے مکین ہیں۔ ان کے ذریعہ سے احکام کو نیہ کی تنقید ہوتی ہے اور تدابیر خداوندی کو عملی جامہ پہنایا جاتا ہے اس لئے ان میں اپنے متعلقہ فرائض کو انجام دینے کے لئے قبل و قال اور بحث کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور امور جو وہاں زیر بحث آتے ہیں ان میں تخلیق آدم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی ہے۔ اذ ظرف زمان متعلق کا واقعہ بھی ہے۔ یختصمون مضارع جمع مذکر غائب اختصام (افتعال) مصدر سے وہ جھگڑا رہے تھے۔ (ای اذکانوا یختصمون) وہ بحث و گفتگو کر رہے تھے۔ وہ مستفیدانہ گفتگو کر رہے تھے (جب کہ وہ (تخلیق آدم کے بارے میں جس کی تفصیل آگے آتی ہے مستفیدانہ اللہ تعالیٰ سے) گفتگو کر رہے تھے۔ بیان القرآن) ضمیر جمع ملا کے اسم جمع ہونے کی رعایت سے آئی ہے۔
Top