بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Anwar-ul-Bayan - Saad : 1
صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ
صٓ : صاد وَالْقُرْاٰنِ : قرآن کی قسم ذِي الذِّكْرِ : نصیحت دینے والے
ص۔ قسم ہے قرآن کی جو نصیحت دینے والا ہے (کہ تم حق پر ہو)
(38:1) ص : حرف مقطعات میں سے ہے۔ والقران : واؤ قسمیہ ہے۔ القران مقسم بہ ہے۔ ذی۔ بمعنی والا۔ صاحب۔ اسم ہے ۔ یہ اسمائے ستہ مکبرہ میں سے ہے۔ یعنی ان چھ اسموں میں سے کہ جب ان کی تصغیر نہ ہو اور وہ غیر یائے متکلم کی طرف مضاف ہوں تو ان پر پیش کی حالت میں واؤ اور زبر کی حالت میں الف اور زیر کی حالت میں ی آتی ہے جیسے ذوا ذا ۔ ذی۔ یہ ہمیشہ مضاف ہوکرہی استعمال ہوتے ہیں۔ اور اسم ظاہری کی طرف مضاف ہوتا ہے ضمیر کی طرف نہیں اس کا تثنیہ بھی آتا ہے اور جمع بھی۔ الذکر۔ نصیحت۔ ذکر۔ پند۔ بیان۔ ذکر یذکر کا مصدر ہے۔ والقران ذی الذکر۔ قسم ہے قرآن نصیحت والے کی۔ یہ جملہ قسمیہ ہے اس کا جواب محذوف ہے تقدیر کلام یوں ہے۔ والقران ذی الذکر ما الامر کما تقول الکفار۔ قسم ہے قرآن نصیحت والے کی امر یوں نہیں جیسا کہ کفار کہتے ہیں۔
Top