Anwar-ul-Bayan - Saad : 31
اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ
اِذْ : جب عُرِضَ : پیش کیے گئے عَلَيْهِ : اس پر۔ سامنے بِالْعَشِيِّ : شام کے وقت الصّٰفِنٰتُ : اصلی گھوڑے الْجِيَادُ : عمدہ
جب ان کے سامنے شام کو خاصے کے گھوڑے پیش کئے گئے
(38:31) اذ۔ جب۔ جس وقت ظرف زمان ہے اواب کا۔ اس سے قبل عبارت مقدرہ ہے ای اذکر ما صدر عنہ اذ عرض علیہ۔ یاد کرو اس نے نتیجہ کیا کیا جس وقت ان کے سامنے پیش کئے گئے۔ بالعشی۔ عشاء کے وقت۔ زوال آفتاب سے لے کر طلوع فجر تک کا وقت۔ ملاحظہ ہو (38:18) یہاں مراد غروب آفتاب سے قبل کا وقت ہے۔ الصفنت الجیاد موصوف و صفت۔ عرض علیہ کا مالم یسلم فاعلہ ہے۔ الصفنت صافنۃ کی جمع ہے وہ گھوڑے جو تین پاؤں پر کھڑے ہوں اور چوتھے پاؤں کے سم کو موڑ کر اس پر ٹیک لگائے ہوں (جو گھوڑا اس طرح کھڑا ہوتا ہے وہ نہایت فربہ اور توانا ہوتا ہے الجیاد جواد کی جمع ہے (تیز رفتار، عمدہ گھوڑا) جو دوڑنے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دے۔ الجود کے معنی ذخائر کو صرف کرنا عام اس سے کہ وہ ذخیرہ علم کا ہو یا ذخیرہ مال ہو۔ رجل جواد۔ سخی آدمی۔ الصفنت الجیاد۔ خاصے کے گھوڑے (تیز فرتار، عمدہ گھوڑے)
Top