Bayan-ul-Quran - Saad : 31
اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ
اِذْ : جب عُرِضَ : پیش کیے گئے عَلَيْهِ : اس پر۔ سامنے بِالْعَشِيِّ : شام کے وقت الصّٰفِنٰتُ : اصلی گھوڑے الْجِيَادُ : عمدہ
جب سورج ڈھلے پر اصیل عمدہ گھوڑے اس کے سامنے لائے گئے
1 سلف (رح) اور اکثر مفسرین (رح) کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے یہ بات افسوس کے انداز میں اس وقت فرمائی جب وہ گھوڑوں کو دیکھنے میں مصروف رہے اور نسیان و غفلت کے سبب عصر کی نماز ( یا وظیفہ) کا وقت ختم ہوگیا جیسا کہ آنحضرت ﷺ سے بھی غزوہ خندق کے موقع پر کفار کی طرف سے شدید حملہ کے باعث عصر کی نماز رہ گئی تھی ( ابن کثیر) آیت کا یہ مطلب اس صورت میں ہے جب ” احببت “ کا ترجمہ آثرت (ترجیح دی) کیا جائے اور تورات ( چھپ گیا) کا فاعل محذوف مانا جائے یعنی الشمس ( سورج) ۔ بعض مفسرین نے ” عن “ کا ترجمہ کی وجہ سے کیا ہے یعنی ” میں نے مال گھوڑوں سے محبت اپنے رب کے ذکر کی وجہ سے کی یہاں تک کہ وہ گھوڑے نگاہ سے اوجھل ہوگئے۔ گویا اس آیت عن ذکر ربی میں حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے گھوڑوں سے محبت کی وجہ بیان کی ہے۔
Top